
صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کی مخالفت میں مصروف بعض ممالک پر یہ واضح کرچکا ہے کہ وہ ان دھمکیوں کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔
صدر نے ایوان صدر کے کنونشن سینٹر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں دھمکیوں کی زبان وقعت کھو چکی ہے اور مخالف قوتوں کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ ترکی کسی بھی زبردستی کے آگے سر نہیں جھکائےگا۔
صدر نے کہا کہ ترکی مشرقی بحیرہ روم کے طویل ترین ساحلی علاقے کا حامل ہے جسے بیرونی طاوتوں کے ذریعے محدود کرنے کی اجازت نہیں ملے گی،ہم نے ہمیشہ بچکانہ حرکات کے سامنے اپنے حقوق کا جائز دفاع کرتےہوئے ایک مدبر ریاست کا منظر بخوبی پیش کیا ہے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد اور یک جہتی کو نشانہ بنانے والوں کو اب خون کے ہر قطرے کا حساب دینا پڑ رہا ہے ، جس طرح ہم نے پہاڑوں میں چھپے دہشتگردوں کے جتھوں کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اسی طرح ہمارے شہروں میں روپوش ان کے ساتھیوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچا جاری رکھا جائے گا