سعیدپٹیل جلگاؤں
ریاست مہاراشٹر میں گذشتہ چند دنوں سے یہ خبر خاص طور پر اخبارات میں نمایاں طور پر چھائی ہوئ ہے کہ ریاست مہاراشٹر میں ڈانس بار پر عائد پابندی نرم کردی گئی ہے۔اس ڈانس بار تہذیب سے بیشمار خاندان تباہ وبرباد ہوۓ ہیں۔جس کی وجہ سے گذشتہ حکومت نے اسی بات پر غوروفکر کرکے پابندی عائد کی تھی۔
لیکن حال ہی میں اس پابندی میں نرمی لائ گئ اور ڈانس بار کی چھم چھم کی پھر سے اجازت دےدی گئ ہے۔پہلے ہی برائیاں سماج میں سر چڑھ کر بول رہی ہیں۔ایسے ماحول میں نوجوان نسل کی فکر ہونی چاھئے تھی۔لیکن شاید اس نقطہ پر کام نہیں ہورہا ہے۔ویسے تو ڈانس بار میں شراب فروخت کرنے کی اجازت ہیں۔شراب اور رقص و سرور کا قدیم زمانے سے ناطہ ہے۔ایسے میں محکمئہ پولیس یہاں کے نازک حالات پر کیسے نظر رکھیں گی ؟آج بھی ملک میں پیدائیش کے اعتبار سے لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد میں بڑا فرق ہے۔ایسے میں بیشمار نوجوانوں کی زندگی کاسوال ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جرائم کی دنیاکو مزید طاقتور بنانا اور یہاں سے کسی طرح دولت حاصل کرنا ہوسکتا ہیں۔؟شاید اسی لۓ ڈانس بار ریاست میں شروع ہونے کی راہ ہموار کردی گئیں ہو۔ہمیں کسی کی حمایت اور کسی کی مخالفت کرنا نہیں ہےبلکہ نوجوانوں میں بیراہروی اور اس برائ کی فکر ہےجس سے آزادئ نسواں کی آڑ میں عورت ذات کی عصمت خطرے میں نہ پڑجاۓ۔؟ اس طرح کا سوال ایک انسان کے ذہین میں سماجی اعتبار سے سماج کی بھلائی میں پیدا ہونالازمی ہے۔