درخواست ضمانت کی آخری سماعت کیلئے ۸ مئی کی تاریخ مقرر
ممبئی۔5 /مئی۔ (پریس ریلیز) انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ 12 احباب جن میں 6 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں، جو کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے قید و بند کی صعوبتیں جھیل ر ہے ہیں اور جن کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہا راشٹر کر رہی ہے باندرہ مجسٹریٹ میٹرو پولیٹین عدالت سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد جمعیۃ لیگل ٹیم نے آ ج یہاں سیشن کورٹ ممبئی میں ضمانت عرضداشت داخل کردی ہے جس کی حتمی سماعت کے لئے عدالت نے ۸/ مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمے کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ 29 فروری 2020 کو تبلیغی جماعت کے طریقہ کار کو دیکھنے کے لئے انڈونیشا کا ایک وفد انڈیا کے مرکز نظام الدین دہلی آیاچند دن قیام کے بعد ۶/مارچ کو انڈو نیشا کا وہ وفد بذریعہ ٹرین ممبئی پہونچا اور نوی ممبئی کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر رہا،ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان اور پھر مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں حراست میں لے کرکے باندرہ میں کورنٹائن کر دیا گیاتھا،ا ن کا ٹسٹ کرایا گیا جن میں سے10 لوگوں کی رپورٹ نگیٹیو آئی،کورنٹائن کی مدت مکمل ہوتے ہی پولیں نے انہیں گرفتار کرکے ان پر پاسپورٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی طریقہ سے انڈیا میں داخل ہونے،کرونا وائرس پھیلانے جیسے مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے اقدام قتل دفعہ 307 اور دفعہ 304 انڈین پینل کورٹ دفعہ 14 اور سیکشن کوڈ 19 سینٹرل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔
جمعیۃ علما مہا راشٹر کی لیگل ٹیم نے باندرہ میٹرو پولٹین مجسٹریٹ کورٹ میں درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ملزمین پر بہت سی ایسی دفعات لگائی گئیں ہیں جن کی سماعت کا اختیار باندرہ مجسٹریٹ میٹرو پولیٹن عدالت کو نہیں ہے اس لئے اسے خارج کیا جائے تاکہ ملز مین کو قید و بند کی صعوبتوں سے جلد نجات مل سکے،بہرحال اس عدالت سے درخواست ضمانت مسترد ہو نے کے بعد انڈونیشیائی اراکین کی ضمانت کے لئے آ ج ممبئی سیشن عدالت میں درخواست ضمانت داخل کر دی گئی ہے،جس کی سماعت ۸/ مئی کو عمل میں آئے گی، عدالت میں ایڈوکیٹ عشرت علی خان ودیگرنے درخواست داخل کرنے کی کاروائی کو بحسن و خوبی انجام دیا۔