تبلیغی جماعت اور دیگر جماعتیں دعوت کے کام کو "ملی ایجنڈہ” بنالیں

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری(ممبئی)

9224599910

*نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو*

*ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے*

موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام مسلم دینی جماعتیں ،دینی ادارے و تنظیمیں کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک تمام برادرانِ وطن سے اسلام کو متعارف کرانے اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام، اپنی دیگر خدمات و سرگرمیوں کے ساتھ شامل کر لیں ۔ یہ ہے اصل نبیوں والا کام ۔الله کی ذات، صفات، حقوق، اختیارات، اور اللہ سے روحانی، عقایدی و عملی تعلق کی، لوگوں کو تفہیم و ابلاغ دراصل کارِ نبوہ ہے اور نبی صلی الله عليه وسلم ہی ملت کے لیے اُسوہ ہیں. ملک کے سو کروڑانسانوں تک الله کا کلمہ پہنچانا ساری ملّت کی دینی ذمہ داری اور ترجیحی ایجنڈا ہونا چاہیے ۔پیارے نبی صلی الله عليه وسلم نے اس کام کو اکیلے شروع کیا تھا، پھر مومنین کو اس کام میں شامل فرمایا۔ اس کے بعد،چونکہ آپ کے بعد کوئ اور نبی آنے والا نہیں اس لیے یہ کام امت مسلمہ کے سپرد ہوا.

*شمع اپنی ہر کوئی ہم سے جلا کر لے گیا*

حضور کا عملی نمونہ، آپ کا نبوی مشن، قرآن کی بہت ساری آیات سے راست، اور بالواسطہ ہم مسلمانوں کو اسی کی تاکید اور ہدایت ملتی ہے۔

*سند قبول کی اس کے کرم سے ملتی ہے*

(1) میڈیا کی طرف سے اسلام، مسلمانوں اور ان کی دینی جماعتوں سے جو نفرت پھیلائی جارہی ہے اس غلط پروپگنڈہ کا جواب حکمت ،مواعظ حسنہ، جدال احسن اور میڈیا کے تمام وسائل ذرائع کرتے ہوئے دیا جائے ۔
(2)برادان وطن کی بستیوں میں بھی گشت کریں، اور وفود کے ذریعے ملاقاتیں کرکے اسلام کے عدل وقسط، رحمت وسلامتی کے پیغام کو سمجھایا جائے ۔اسلام ، مسلمانوں،مساجد ،مدارس کے تئیں ان کی نفرت اور غلط فہمیاں دور کی جائیں ۔
(3) قرآن پروچن، اسلام پریچیے، محمد صلی الله عليه وسلم کا جیون (سیرت)، تکریم انسانیت، وحدت بنی آدم جیسی اسلامی اقدار کا تعارف پیش کیا جائے ۔
(4) برادران وطن کے عمومی سوالات کے جواب موثر،دلسوزی اور نرمی سے دینے کی داعیوں کو تر بیت دی جائے ۔دینی مدارس میں دعوت دینے کے طریقہ کار کےتربیتی کورس منعقد کیے جائیں ۔ بستی کے مسلمانوں کی ایسے پروگراموں میں شمولیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
۔
مثلاً
(1)اسلام تلوار سے پھیلا؟۔اس پر جواب کی تیاری۔
(2) مسلمان چار شادیاں کرتے ہیں؟ اس الزام پر اعداد وشمار کی روشنی میں جواب ۔
(3) گوشت خوری مسلمانوں کو متشدّد بناتی ہے؟ سائنسیاور تاریخی نقطہ نظر سے غذا کے استعمال پر جواب۔
(4)کافر کہہ کر ہمیں گالی کیوں دی جاتی ہے؟ وضاحت اور پس منظر
(5)مسلم عورتوں کو پردے میں رکھنا ان پر ظلم ہے؟ موجودہ حالات میں اس کے فوائد اور پردے پر اسلام کا موقف ۔
(6) قرآنی تعلیمات اور مسلمانوں کے عمل میں تضاد کیوں ہے؟
(7) مسلمان مسلک، فرقے اور جماعتوں میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟
(8) مسلمان دہشت گردی سے تعلق رکھتے ہیں؟ غلط الزام عائد کیا جاتا ہے، مثالوں سے سمجھا یا جائے ۔
(9) بین مذاہب شادیاں لو جہاد کیوں ہوتے ہیں؟

ان جیے سوالات کے جواب دینے سے اور ان کی غلط فہمیاں دور کرنے سے منظر نامہ بدلے گا۔ نفرت کم ہوگی، مآب لینچنگ اور فرقہ وارانہ فسادات، آگ زنی کے واقعات کم ہوں گے۔ ملی قائدین اپنی حکمت عملی تبدیل کریں۔مل جل کر اور پریشر گروپ بنا کر دستوری حقوق حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔محکمہ پولس، انتظامیہ، عدلیہ اور قانون کے اداروں سے ربط ضبط رکھیں ۔

*دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا*

اس کام کے نتیجے کے طور پر ہم ملّتِ اسلامیہ پر درج ذیل اقسام کے حالات گزریں گے. اور اللہ کی سنت کے تحت ہوگا :

(ایک)….. کچھ لوگ ہوں گے جن کی دشمنیاں، سختیاں، اور تشددات ہم پر بڑھ جائیں گے. ایسے حالت میں استقامت اور پامردی ہمیں اللہ کی مدد و نصرت سے بہرہ ور کرے گی. اور ہمارا جو نقصان بھی ہوگا اس کا اجر ہمیں اللہ کے ہاں یقینی ملے گا.
(دو)…….. دائرہء حق میں کچھ لوگ داَخل ہوں گے اور اسلام کی قوت بنیں گے.
(تین)…. جو لوگ قبول حق نہیں بھی کریں گے ان میں سے ایک تعداد اسلام اور مسلمانو‌ں کی حمایت کرے گی.

(چار)…….. کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کھل کرحمایت تو نہیں کریں گے
البتہ مخالفت بھی نہیں کریں گے.

(پانچ)…… کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں اسلام اور مسلمانوں کے امور و معاملات سے کوئی دلچسپی نہ ہوگی. وہ خاموش رہیں گے.

اسلام کے، بڑے اور ملک گیر پیمانے پر تعارف اور پیغام رسانی کے کچھ عرصے بعد ملکی سماج میں مندرجہ بالا اقسام کے عناصر سے ایک سماجی ٹرانسفارمیشن ہوگا. ایسا ٹرانسفارمیشن تاریخ میں ہمیشہ ہوا ہے ۔ یہ تبدیلی اور یہ ٹرانسفارمیشن اسلام، مُسلم ملّت، اور اہلِ ملک…. سب کے حق میں بہتری لائے گا۔ان شاء اللہ ۔ہمارا کام بس ارادہ، تیاری، منصوبہ بندی، اور تعمیل ہے. نتائج (جو بہتر ہی ہوں گے) اللہ کے سپرد.
*تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو*(قرآن)
۔
ہم کوشش میں کمی نہ کریں ۔کام کی ہزاروں تدبیریں سمجھ میں آئیں گی۔ ہزاروں راستے ہم پر کھلیں گے اور کام کی تکمیل اللہ کی ذات کرے گی. مشکلات ضرور درپیش ہوں گی لیکن ان سے استقامت و حکمت کے ساتھ نبرد آزما ہونا، اور بین الا نسانی رکاوٹوں و شدائد کا اخلاق حسنہ سے مقابلہ کرنا ہمارا موقِف ہونا چاہئیے۔

قرآن مجید کا یہ مستقل اصول ہمارے سامنے رہنا چاہئیے ۔

*تم الله کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے*

اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ اخلاص،مشاورت، دلجمعی،لگن، سادگی، نیٹ ورک، تنظیم، حسنِ تدبیر، سوجھ بوجھ، حکمت، فراست و ذہانت نیز للہٰیت کے ساتھ کیے جانے والے کامو‌ں کو وہ کامیاب بار آور اور نتیجہ خیز بناتا ہے. مساجد ہمارے تربیتی مراکز ہیں۔خطبات جمعہ موثر، معلوماتی، حالات حاضرہ پر گہری نظر اور تجزیہ کرکے عوام کی راہ نمائی کرنے والے ہوں۔بیان اور خطابت میں ملی امور، دارالقضاء، اصلاح معاشرہ، دعوت، تعلیم وتربیت اسلامی خاندان، خواتین کے حقوق وذمہ داریاں ،تحفظ اور احتیاط پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔

*اے خاصئہ خاصان رسل وقت دُعاہے*

*اُمّت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے*

*جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے*

*پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے*

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading