نئی دہلی:3/ نومبر (ایجنسیز) دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے دن محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) سے کہا کہ وہ تاریخی کتابوں سے تاج محل کی تعمیر سے متعلق مبینہ غلط جانکاری ہٹادینے اور عمارت کتنی پرانی ہے اس کا پتہ چلانے کی درخواست کا تصفیہ کرے۔
چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس جی تشار راؤ پر مشتمل بنچ نے درخواست ِ مفادِ عامہ (پی آئی ایل) کی یکسوئی کردی
جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تاج محل شاہجہاں نے تعمیر نہیں کرایا بلکہ اس نے صرف راجہ مان سنگھ کے محل کی تزئین نو کرائی۔ ہائی کورٹ نے نوٹ لیا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ میں پہلے ہی ایسی درخواست داخل کرچکا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس کے یہ کہنے پر اسے درخواست واپس لینے کی اجازت دی تھی کہ وہ محکمہ آثار ِ قدیمہ سے رجوع ہوگا۔سپریم کورٹ نے دسمبر 2022 میں اس کی درخواست کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتیں‘ تاریخ کو دوبارہ کھولنے کے لئے نہیں بنی ہیں۔