بی جے پی کی مذہبی تقسیم کی سیاست کو مسترد کریں، سماجی ہم آہنگی ہی ملک کی اصل طاقت ہے: رمیش چینتھلا
سنگمیشور میں چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے یادگار کی خستہ حالی حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان: ہرش وردھن سپکال
ممبئی/چپلون: کوکن ڈویژن میں مقامی بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندوں اور امیدواروں کے لیے منعقد تین روزہ رہائشی تربیتی کیمپ کے اختتام پر کانگریس قیادت نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مذہبی بنیادوں پر سماج کو تقسیم کرنے کی سیاست قرار دیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور مہاراشٹر کے انچارج رمیش چینتھلا نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں سے ملک میں نفرت اور خوف کا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اس سیاست کو ناکام بناتے ہوئے تنظیم کو نچلی سطح تک مضبوط کریں اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے متحرک کردار ادا کریں۔
چپلون میں منعقدہ اس تین روزہ کیمپ میں ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال سمیت متعدد سینئر لیڈران شریک ہوئے۔ اختتامی سیشن سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے رمیش چینتھلا نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ تمام مذاہب اور طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی سیاست کی ہے۔ انتخابی کامیابی یا ناکامی عارضی ہوتی ہے، اصل طاقت مضبوط تنظیم میں ہوتی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تعلقہ، ضلع، بلاک، وارڈ اور بوتھ سطح تک تنظیمی ڈھانچہ مستحکم کیا جائے اور قومی صدر ملکارجن کھڑگے و اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت کو تقویت دی جائے۔
کیمپ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اس تربیتی کیمپ کا مقصد کارکنان میں قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں عوامی مسائل کے حل کے لیے تیار کرنا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اتحادی سیاست ایک حقیقت ہے، مگر کوکن میں اس کے بعض منفی اثرات کانگریس کو برداشت کرنے پڑے۔ آئندہ دنوں میں خطے میں تنظیمی مضبوطی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے سنگمیشور میں چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے یادگار کی خستہ حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کئی بار یادگار کی تعمیر کے اعلانات کیے، لیکن عملی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر حکومت سنبھاجی مہاراج کے نام پر کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد سے کیوں گریز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تاریخی ورثے کے تحفظ میں تاخیر حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
کوکن میں مجوزہ ’لکشمی آرگینکس‘ کیمیکل پروجیکٹ پر بھی سپکال نے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اس منصوبے سے ماحولیاتی نقصان کا خدشہ ہے۔ کانگریس اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حمایت کرے گی اور معاملہ اسمبلی میں بھی اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو وزرا معمولی سیاسی امور پر بیانات دیتے رہتے ہیں، وہ اس اہم ماحولیاتی مسئلے پر خاموش کیوں ہیں۔ اس تربیتی کیمپ میں سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی، رکن اسمبلی بھائی جگتاپ، ایڈوکیٹ گنیش پاٹل اور دیگر لیڈران موجود تھے۔ بھائی جگتاپ نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس کی سوچ میں بنیادی فرق ہے، کانگریس کا نظریہ سب کو ساتھ لے کر چلنے اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر مبنی ہے۔ اسی فکر کو آگے بڑھانے کے لیے کارکنان کو متحرک ہونا ہوگا۔ کیمپ کے اختتام پر ہرش وردھن سپکال نے مہاتما گاندھی رکشا اسمارک کا دورہ کیا اور تاریخی مقامات پر حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کانگریس قیادت نے عزم ظاہر کیا کہ سماجی یکجہتی، آئینی اصولوں اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
MPCC Urdu News 01 March 26.docx