ایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟

برطانیہ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کے سلسلے میں امریکہ کو اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے جس پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ تہران کو اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے کیا حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔روس اور چین دونوں کے ایران کے ساتھ مضبوط سفارتی، تجارتی اور فوجی روابط ہیں۔

لیکن موجودہ تنازع یہ ثابت کر دے گا کہ وہ اپنے اس اتحادی کی مدد کے لیے کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

روس کی زبانی جمع خرچ
بی بی سی نیوز روسی کے سرگئی گوریشکو کہتے ہیں کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں پر ماسکو نے شور تو بہت مچایا ہے لیکن اس کا ردعمل کافی حد تک محدود ہے۔ روس نے ان حملوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے تہران کے ساتھ یکجہتی کا اشارہ دیا ہے تاہم ماسکو نے ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریز کیا ہے جس سے روس کے اس تنازع میں براہ راست شامل ہوئے کا امکان ہو۔روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کے باوجود، صورت حال ’صریح جارحیت میں تبدیل ہو گئی ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ماسکو ایرانی قیادت اور اس ساری کشیدگی سے متاثرہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

روس کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ’بلا اشتعال جارحیت‘ کی مذمت کی ہے اور اسے سیاسی قتل اور خودمختار ریاستوں کے رہنماؤں کا ’شکار‘ قرار دیا ہے۔

اتوار کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ایرانی ہم منصب کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا جس میں اسے ’انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی مذموم خلاف ورزی‘ قرار دیا گیا۔
تاہم اس کے باوجود کریملن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید سے گریز کرتا نظر آرہا ہے اور اب بھی یوکرین کے معاملے پر ثالثی کی کوششوں کے لیے امریکہ کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔

سوموار کے روز ایک سوال پر کہ روس اب واشنگٹن پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہے، پیسکوف کا کہنا تھا کہ روس ’سب سے پہلے صرف خود پر بھروسہ کرتا ہے‘ اور اپنے مفادات کا دفاع یقینی بناتا ہے.
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب آپ روس کے ان مفادات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روس کی ایران کے لیے حمایت بڑی حد تک بیان بازی تک محدود کیوں ہے حالانکہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے تہران ماسکو کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔

ایران روس کو ڈرون سپلائی کر رہا ہے اور ماسکو کو مغربی پابندیوں سے بچنے کے طریقے تیار کرنے میں مدد کر رہا ہے۔

ایران روس کے اس عالمی منظر نامے میں بھی ٹھیک بیٹھتا ہے جس میں طاقت کے محور ایک سے زیادہ ہوں، جہاں ریاستی حقوق انسانی حقوق سے زیادہ اہم ہوتے ہوں، اور حکومتیں ملک کے اندر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ ایسی کسی بھی حکومت کا زوال روس کے اس عالمی منظرنامے کے لیے ایک دھچکا ہوگا۔

لیکن کریملن پہلے ہی یہ ظاہر کر چکا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے لیے زیادہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں چاہے وہ وینزویلا کا معاملہ ہو یا شام کا یا گذشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ۔

روس بہت بری طریقے سے یوکرین جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ سفارتی بیانات اور فوجی ٹینیکل تعاون سے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading