خامنہ ای کی موت کے پانچ دن بعد انڈیا کی تعزیت، نئی دہلی کی خاموشی کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے؟

انڈیا کے سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے میں ایران کے ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔انھوں نے ایرانی سفارت خانے میں تعزیتی کتاب میں انڈیا کی جانب سے ایک پیغام بھی لکھا۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سنیچر کے روز ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔ انڈیا نے خامنہ ای کی موت کے پانچ دن بعد جمعرات کو پہلی بار تعزیت کا اظہار کیا۔

اگرچہ انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جنگ کے پہلے دن ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے فون پر بات کی تھی لیکن اس بات چیت کے بعد جاری ہونے والے پریس نوٹ میں انڈیا کی طرف سے امریکہ اسرائیل حملے پر اظہار تعزیت یا تنقید کا ذکر نہیں کیا گیا۔

خامنہ ای کی موت کے بعد انڈیا نے پانچ دن تک خاموشی اختیار کیے رکھی۔ انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایران کے معاملے پر حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ سال 2024 میں جب ایران کے اس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثے میں موت واقع ہوئی تو انڈیا نے یوم سوگ کا اعلان کیا۔

سال 2020 میں جب امریکہ نے ایران کے اعلیٰ ترین جنرل قاسم سلیمانی کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کیا، تو انڈیا نے اس پر ایک بیان جاری کیا اور کشیدگی کو تشویشناک قرار دیا۔ تب حکومت ہند کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم نے نوٹ کیا ہے کہ ایک سینیئر ایرانی لیڈر کو امریکہ نے ہلاک کر دیا ہے۔‘

گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے جوہری اور میزائل اڈوں پر حملہ کیا تھا۔ اس کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے فون پر بات کی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یہی نہیں، ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد انڈیا نے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے بیانات پر بھی دستخط کیے جس میں امریکہ اسرائیل فضائی حملوں پر تنقید کی گئی۔

جون 2025 میں 12 روزہ تنازعے کے دوران ایران نے انڈیا کی خصوصی مدد کی اور انڈین طلبا کو واپس لانے والے انڈین طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی۔

ماہرین کی کیا رائے ہے؟

تجزیہ کار اسے عالمی سیاست اور بدلتے ہوئے منظر نامے سے جوڑ رہے ہیں۔ سابق انڈین سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے اپنے ایک مضمون میں انڈیا کی خاموشی کی وجوہات بتاتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا نے حملوں پر تنقید نہیں کی جو کہ قابل فہم ہے کیونکہ ہم نے یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت پر تنقید نہیں کی‘۔

کنول سبل نے دلیل دی کہ ’یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی سفارت کاری کو مزید جانچے گا، یہ تجویز کرتا ہے کہ جب اس کے بنیادی مفادات (جیسے کہ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات) داؤ پر ہوں تو یہ خاموشی بڑے طاقت کے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنے کی ہندوستان کی وسیع پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے۔‘

’دی ہندو‘ میں شائع ہونے والے ایک تبصرے میں سابق ہندوستانی سفیر راکیش سود نے ہندوستان کی خاموشی کی تین اہم وجوہات بتائی ہیں۔

سابق سفیر راکیش سود کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر ہندوستان کی خاموشی کو موجودہ پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔

ان کے مطابق پہلی وجہ یہ ہے کہ آج کی بین الاقوامی سیاست پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے اور انڈیا کو بہت سے مسابقتی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ دوسرا، چابہار بندرگاہ جیسے منصوبوں کے باوجود گذشتہ چند دہائیوں میں ایران کے ساتھ انڈیا کے تعلقات محدود ہو گئے ہیں۔

تیسرا، خامنہ ای نے حالیہ برسوں میں کشمیر اور انڈیا میں اقلیتوں کے معاملے پر عوامی تبصرے کیے ہیں، جنھیں نئی دہلی نے مثبت طور پر نہیں لیا ہے۔

Iran،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
راکیش سود کے مطابق ان تمام عوامل نے انڈیا کے لیے اس مسئلے پر عوامی سطح پر ردعمل دینا مشکل بنا دیا۔ دریں اثنا، جے این یو کے پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ہیپیمون جیکب نے ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی کو ’متوازن پیغام رسانی کا فن‘ قرار دیا ہے۔


ان کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسرائیل اور ایران میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت میں کشیدگی میں کمی کی اپیل کی۔

وزارت خارجہ نے ’دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام‘ پر بھی زور دیا، ایک بیان جسے امریکہ یا اسرائیل کا نام لیے بغیر حملوں کی تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔ جیکب کے مطابق، یہ مؤقف انڈیا کی طرف سے ایک عملی توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات، ہندوستانی تارکین وطن کی بڑی آبادی، اور تجارت اور رابطے سے متعلق اہم مفادات خطے میں داؤ پر ہیں۔

دی ویک میں شائع ایک مضمون میں جے این یو کے پروفیسر اور مشرق وسطیٰ کے ماہر پروفیسر پی آر کمارسوامی نے دلیل دی ہے کہ ہندوستان کی خاموشی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوابی حملوں میں خلیجی ممالک کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، ہندوستان کی توانائی، تجارت اور سفارتی شراکت داری کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان ممالک میں تقریباً 10 ملین ہندوستانی کام کرتے ہیں، اور ان کی حفاظت اور ان کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات ہندوستان کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔

سنہ 1990 کے کویت بحران کی مثال دیتے ہوئے کمارسوامی کہتے ہیں کہ اس وقت علاقائی سیاست میں لیے گئے کچھ متعصبانہ موقف کے طویل مدتی نتائج تھے۔ ان کے بقول، اگر انڈیا سرعام خامنہ ای کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے، تو یہ اہم عرب شراکت داروں کو ناراض کر سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading