اورنگ آباد: ۲۸ نومبر ( ن .خ) ہپنا ٹزم کے ذریعہ شادی شدہ معلمات کو اپنے پریم جال میں پھنسا کر ان کے ساتھ عیاشی کرنے ، ان کی بلیو فلم بنانے والے 42 سالہ معلم کو اگر چیکہ ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا لیکن 19 / معلمات سے داد عیش حاصل کر کے راہ فرار اختیار کرنے والے اس معلم کے کے خلاف اب تک تعلیمی ادارے کے منتظمین اور متاثرہ ٹیچرس کی جانب سے متعلقہ پولس تھانے میں ایف آئی آر درج نہیں کرایا گیا۔
بیڑ شہر کے ایک بڑے معروف تعلیمی ادارے کے معلم اور معلمات کی واہیات فحش حرکتوں سے بیڑ میں پوری ملت کو شرمسار کر دیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سبھی مسلم سیاسی لیڈران ملی تنظیموں کے ذمہ داران اردو ٹیچرسی تنظیموں کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ، ان کی اس بے حسی کے سبب مستقبل میں بھی ایسے شرمناک واقعات رونما ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
نظروں کی جادوگری سے فحش کرشمہ سازی کرنے والے اس معلم کی مذموم حرکتوں سے نہ صرف بیڑ بلکہ آشٹی کے ایک معتبر خاندان کا سر بھی شرم سے جھک گیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ معلم آشٹی کا متوطن یہ معلم بیڑ کے نامور بڑے تعلیمی ادارے کے گرلز اسکول میں تدریسی فرائض انجام دیتا تھا۔
اس کی پہلی بیوی کا تعلق اورنگ آباد سے ہے جبکہ یشدا انسٹی ٹیوٹ میں ٹرینگ کے دوران اس کی ملاقات پونے ضلع پریشد اسکول کی ایک ٹیچر سے ہوگئی، یہ ملاقات فطری محبت میں بدل گئی اور اس سے بھی اس نے نکاح کر لیا۔
بیڑ کے گرلز اسکول سے اس کا تبادلہ بوائز اسکول کر دیا گیا لیکن کئی معلمات کسی نے کسی طرح اس کے رابطہ میں آگئیں اور اس نے ہپنا ٹزم کے ذریعہ ان شادی شدہ ٹیچرس کو ایک کے بعد اپنے پریم جال میں پھنساتا گیا۔ ایک مخصوص مقام پر ٹیچر کے ساتھ عیاشی کرتے وقت ان کا فخش اور عریاں ویڈیو بنالیتا تھا۔ ہپنا ٹزم اور ویڈیو کے ذریعہ وہ ٹیچرس سے داد عیش حاصل کرتا رہا۔ دوسری طرف اس کی پہلی بیوی کے ساتھ اس کا تنازعہ طول پکڑتا گیا اور یہ قانونی معاملہ بن گیا۔ اسی تنازعہ کے سبب اس کی عیاشیوں کا پردہ فاش ہوتا گیا اور عریاں ویڈیو وائرل ہوتے گئے ۔
جس انجمن نے تعلیم کی اشاعت کا کئی سالوں سے بیڑہ اٹھا رکھا ہے جس کے تحت بیڑ شہر کے مختلف علاقوں کے علاوہ، امبہ جو گائی ، دھار ور اور پر لی میں بھی اردو اسکول ، ڈی ایڈ کالج ، پروفیشنل کورس کے ادارے چلائے جاتے ہیں۔ جس انجمن کی اشاعت تعلیم سے مختلف اداروں میں 17 ہزار طلباء مستفید ہورہے ہیں اور تقریبا 600 ٹیچرس تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں ایک معلم اور 19 رمعلمات کی مخرب اخلاق حرکتوں اور زنا کے ویڈیو وائرل ہونے سے معاشرہ کے نو نہالوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے،
جن اساتذہ پر طلباء کی نصابی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کی ذمہ داری ہے اگر وہی فحاشی، عریانیت کے دلدل میں غرق ہو جائیں گے تو پھر طلباء کی معاشراتی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ملت کے بھی ذمہ داروں کے لئے ایسے واقعات نہ صرف تشویش بلکہ بڑی فکرمندی کا باعث بھی ہیں۔ ایک متاثرہ معلمہ نے اپنا نام اپنے صیغہ راز رکھنے کا وعدہ لیتے ہوئے بتایا کہ جس وقت وہ معلم اس سے نظریں ملا رہا تھا اس کی نظروں کے جادو نے ہوش و حواس گم کر دیئے تھے ، وہ جیسی ہدایت دیتا اس پر غما پر عملی اقدامات مجبوری گئے ۔
ہوش و حواس قابو میں نہیں تھے ، کب کہاں ، کیسے کیا کیا ہوتا رہا سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے بھی تو کچھ نہ کر سکے ؟ لے کیونکہ اس کے پاس جو ویڈ یو تھا، اسے افشاء کرنے کی دھمکی دے کر وہ عصمت کو تاراج کرتا رہا۔ اب سے تین دہائیوں قبل عزیز پورہ کی گول گلی میں جب وہ مقیم تھا تو اسی اسکول کا طالب علم بھی تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ( ق غ ) لیڈی ٹیچرس کو دوست بنا کر انہیں اعتماد میں لے کر چائے کافی یا کولڈر تک میں غنودگی کی دوا پلا دیتا اور پھر ویڈیو بنا کر انہیں بار بار آنے پر مجبور بھی کر دیا کرتا تھا۔ ملت کے غیرتمند ، حساس ، سبھی سیاسی ، سماجی لیڈران تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، ملی تنظیموں کے ذمہ داران کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے میدان عمل میں اترنا ہوگا۔ تعلیم کی اشاعت کی ذمہ دار انجمن کو اس کے خلاف قانونی کاراوئی کر کے زانی معلم کو قانونی طریقہ سے کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا ۔
تعلیمی تالاب کے ایک ڈوگ نے نہ جانے اور کتنی مچھلیوں کو گندہ کر دیا۔ بیڑ کی طرح اور تنگ آباد اور دیگر شہروں میں بھی نہ جانے ایسے کتنے اردو تعلیمی ادارے ہیں جہاں لیڈی ٹیچروں کا کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے جنسی استحصال ہورہا ہو گا۔ اس ضمن میں خواتین ٹیچرس کی عصمت و حرمت کی حفاظت کی خاطر ملت کے ذمہ داروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے ، ایسے اداروں کی معلومات حاصل کرنے اور باقاعدہ اصلاحی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ زانی ہو یا زانیہ شریعت اسلامی میں ان کی سزا موت سے کم نہیں لیکن ہمارے جمہوری ملک میں زانی کے لئے موت کی سزا تفویض نہیں ہے۔ لیکن زانی کو 10 تا20 سال کی قید با مشقت کی سزا کی گنجائش ہے، اگر مجرم کو قانونی سزا نہ دلائی گئی تو تعلیمی اداروں میں اس ذہنیت کے حامل دوسرے لوگوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور آخرت میں کبھی واقف کاروں کی جوابدہی اور پکڑ بھی ہو سکتی ہے۔ بشکریہ اردو روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز