انتظامیہ ضوابط کے مطابق ایکویزیشن کی کاروائی کریں‘ورنہ توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا
پریس کانفرنس میں بیڑ بائے پاس املاک بچائو ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کا انتباہ
اورنگ آباد:(جمیل شیخ):بیڑ بائے پاس راستے پر سروس روڈ کے ہم مخالف نہیں مگر میونسپل انتظامیہ قانون کے مطابق ایکویزیشن کی کاروائی کرے بصورت دیگر بامبے ہائی کورٹ میں میونسپل انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائیگا۔ یہ اطلاع متعلقہ ایکشن کمیٹی نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں دی۔ بیڑ بائے پاس املاک بچائو ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران نے صحافیو ںکو بتایا کہ بیڑ بائے پاس روڈ پر جتنے بھی حادثات ہوئے وہ صرف اور صرف تیز رفتار ہیوی وہیکلس کی وجہ سے ہی ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ شہر کی ترقی کے خلاف نہیں ہے۔
پہلے بھی نہیں تھے اور مستقبل میں بھی نہیں رہینگے۔مگر میونسپل انتظامیہ نے جس طرح سے ایکزیزیشن کی کاروائی کئے بغیر طاقت کے بل پر انہدامی کاروائی شروع کی ہے وہ سراسر غلط ہے ان کا کہنا ہے کہ میونسپل انتظامیہ شہریان کو گمراہ کررہا ہے کہ بیڑ بائے پاس روڈ۰۰۲ فٹ کا ہے اور علاقہ کے ساکنان نے سو فٹ پر راستے پر ناجائزقبضہ کر رکھا ہے جو سراسر غلط اور بے بنیاد ہے متعلقہ کمیٹی کے جاوید پٹیل نے بتایا کہ سال ۹۷۹۱ میں جو ایکویزیشن کی کاروائی کی تھی وہ صرف اور صرف سو فٹ چوڑے راستے کے لئے تھی اور وہاں کے ساکنان کو صرف سو فٹ میں حائل مکانات کا ہی معاوضہ ادا کیاگیا ہے جبکہ ۱۹۹۱ میں اے ایم سی انتظامیہ نے نیا ڈیولپمنٹ پلان بنایا اور ا سمیں اس ہائی وے کو ۰۰۲فٹ چوڑا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مگر اس پر عمل آوری کے لئے چوڑا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مگر اس پر عمل آوری کے لئے اب تک قانون کے مطابق ایکویزیشن کی کاروائی نہیں کی۔ اور گزشتہ دنوں سروس روڈ کے نام پر ان کی ذاتی املاک کو ناجائز قبضہ بتاکر انہدامی کاروائی شروع کرنے کی کوشش کی تھی جس کے خلاف سبھی متاثرین کے حق میں آیا تھا اور فاضل عدالت نے میونسپل انتظامیہ کو ہدایت تھی کہ سروس روڈ کے لئے ایکویزشن کی کاروائی مکمل کرنے کے بعد ہی سروس روڈ میں حائل پراپرٹیز قبضہ میں لی جائیں جس کے بعد ان لوگوں نے ان کی پراپرٹیز سے متعلق سبھی دستاویزات میونسپل دفتر میں جمع کروائے اور اس وقت کے میونسپل کمشنر ڈی ایم منگڑیکر نے ان کی سماعت بھی کی۔ ان کے بیانات درج کئے گئے مگر اب تک ان کی درخواستوں پر کئے گئے فیصلے سے انہیں واقف نہیںکروایا اور اتوار کے دن لوک سبھا انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق نافذ ہوتے ہی لوک سبھا انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق نافذ ہوتے ہیں طاقت کے بل پر وہاں انہدامی کاروائی شروع کردی۔ میونسپل افسران فاضل عدالت کے احکامات کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں لہذا ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کررہے ہیں متعلقہ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ ان لوگوں کے ساتھ سوتیلا سلوک برت رہی ہے سمردھی ہائی وے اور شولاپور دھولیہ ہائی وے میں حائل املاک کا باضابطہ ایکویزیشن کرکے انہیں معاوضہ دینے کے بعد کاروائی شروع کی گئی۔
ان لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بیڑ بائے پاس روڈ اب بھی ورلڈ بنک کے ہی قبضہ میں ہے اور اے ایم سی کا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ شولاپور دھولیہ ہائی وے کا تعمیری کام جنگی پیمانے پر جاری ہے اگر متعلقہ کانٹریکٹرس اس میں مزیدتیزی لاتا ہے تو ایک سال کے بجائے اس راستے کا تعمیری کام ۶ ماہ میں مکمل کیا جاسکتا ہے لہذا متلقہ کانٹریکٹرس سے بات کرکے جلد ہی اس ہائی وے کا کام مکمل کروایا جائے اور ہیوی ٹریفک کو اس راستے پر شفٹ کیا جائے جس سے بیڑ بائے پاس روڈ پر ہونیوالے حادثات پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں جاوید پٹیل خواجہ شرف الدین شیواجی گھولے عارف خان شیکھر مھسکے پرکاش مارو ونئے زن وال اور راشد خان کے علاوہ بیڑ بائے پاس روڈ کے دیگر متاثرین بھی موجود تھے۔