” بہت یاد آئے "

ایک ہفتہ سے نہ جانے دل کیوں گھبرا رہا تھا۔طبیعت بوجھل بوجھل سی ہو رہی تھی۔کسی بھی کام میں جی نہیں لگ رہا تھا۔ایک انجانہ سا خوف اور ڈر سا محسوس ہو رہا تھا۔ عجیب عجیب سے خیالات دماغ میں منتشر ہو رہے تھے۔ یہاں تک کے خواب میں ہم نے ایک آیت دیکھی( سورۃالاعلی آیت نمبر 14 ) "قد افلح من تزکیّ”۔”جو نیک تھا وہ اپنی مراد کو پہنچ گیا” مئی کا مہینہ منگل کا وہ دن بہت بے چینی میں گزرا۔۔۔۔شام رات کی دہلیز پر دم توڑنے کے لئے مضطرب تھی۔۔۔۔۔۔دھیرے دھیرے رات کی سیاہی ہر طرف پھیلنے لگی۔۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے رات کا گھنگھور اندھیرا ہر طرف پھیل گیا۔جمادی الاول کی۲۳ تاریخ۔۔۔کچھ ساڑھے آٹھ نو بجے کا وقفہ تھا۔ اچانک موبائل شور مچانے لگا۔فون ہم نے ریسو کیا سامنے سے ہمارے بہنوئی کہہ رہے تھے۔ باجی! آپ کو گاؤں سے کوئی فون آیا ہےکیا؟؟؟
ہم نے کہاں نہیں!!!
وہ بولے ابا کی طبعیت بہت خراب ہے۔اور مجھے آپ کو بتانے کے لئے کہا ہے۔اور فوراٗ آنے کے لئے بھی کہا ہے۔ چونکہ وہ بھی ممبئی آئے ہوئے تھے۔
"ہم نے پوچھا اچانک ابا کی طبعیت خراب ہوئی۔اچھے بھلے تو تھے۔ پھرکیا ہوا ہے۔۔۔ کچھ بتایا-"
"وہ بولے کچھ نہیں بس بولے طبیعت خراب ہے۔”
پھر ہم نے یہاں وہاں فون ملانے شروع کئے گھر کی لینڈ لائن پر بھی کیا پرکوئی کچھ صحیح سے بتانے کے لئے تیار ہی نہیں۔ سب یہی کہہ رہے تھے ابا کی طبعیت بہت خراب ہے جلدی آجاؤ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اچانک کیا ہوا۔۔۔ ہمارے شوہر بچے تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچے تھے۔ وہ بھی سب کو فون ملا رہے تھے۔پر کوئی ٹھیک سے نہیں بتا پا رہا تھا۔ اچانک ہمیں خیال آیا کہ امی کے موبائل پر فون لگاتے ہیں۔ نمبر ملایا۔۔۔۔رِنگ بجی تو سامنے سے کسی اور نے فون ریسو کیا۔
ہم نے پوچھا یہ امی کا فون ہے پھر آپ کون بول رہیں ہیں.انہوں نے اپنا کچھ نام بتایا اور کہا "ہاں یہ فون امی کا ہی ہے لیکن پڑوس کے گھر میں ہے”۔
پھر ہم نے سوال کیا۔۔۔ ہمارے ابا کیسے ہیں؟؟؟
سامنے سے آواز آئی۔
” وہ انتقال ہو گئے”
اتنا سننا تھا۔۔۔فون ہمارے ہاتھ سے چوٹ گیا اور ہم ڈھرام سے زمین پر بیٹھ گئے۔یہ خبر ہم پر بجلی بن کر گڑی..ہمیں اندر سے جھنجھوڑ دیا.. دل خون کے آنسو رو رہا ہے.. جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔آہ میرے ابا!!!!
آج دس سال ہوگئے۔۔۔۔وہ آواز اب بھی کانوں میں گونجتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ ابا !! آج آپ بہت یاد آ رہے ہیں۔۔۔ دل بہت اداس ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ جی چاہتا ہے آپ سے خوب باتیں کروں۔۔۔۔ اپنے غم اپنی پریشانیاں آپ سے شئیر کروں۔۔۔پر کیسے!!! آپ تو میری پہنچ سے دور ہیں۔۔۔ہاں بہت دور۔۔۔۔۔ اللہ کے پاس!!! پھر کیسے بات کروں آپ سے!!! سوچا آپ کو ایک خط ہی لکھ لوں!!! قلم اٹھایا تو ہاتھ لرزنے لگے۔کیا لکھوں سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔پلکوں پر آنسو تیرنے لگے۔۔۔قلب سے درد کی ٹھیس سی آٹھ رہی ہے۔
آپ نے آخری دن تک کام کیا۔آپ مانگاؤں میں این آئی آئی ٹی کلاسیس چلاتے تھے۔اس دن آپ نے مغرب تک کی نماز ادا کی اور عشاء تک آپ کی روح پرواز کر گئی۔آہ درد کی ایک ہوک سی اٹھی ہے ابا!!! ہماری زندگی کا کل اثاثہ آپ ہی تھے۔ دنیا کی ہر بیٹی زندگی میں سب سے پہلے اپنے باپ سے متاثر ہوتی ہے اور باپ کی شخصیت ہی اس کے لیے پہلی آئیڈیل پرسنالٹی ہوتی ہے۔ ڈسپلن سے رہنا آپ کی عادت میں شمار تھا۔ ہمیں خود پر یقین ہو نہ ہو لیکن اپنے ابا پر یقین حد سے زیادہ تھا۔ آپ کا وجود ہی اعتماد کی پہلی وجہ تھی اس کے لیے ہمت کا سبب اور دنیا کے مشکل سے مشکل چیلنج سے لڑنے کے لئے انرجی ملتی۔آپ کے بغیر ایک ساعت بھی کس قدر سخت تھی پر دیکھئے نا ابا!! دس سال گزر گئے ہمیں آپ کی کس قدر ضرورت تھی۔ آج بھی ہم گاؤں جاتے ہیں تو ہماری نظریں آپ کو ڈھونڈتی ہیں۔آپ نہیں ہیں پر آپ کے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔امی کو دیکھتے ہیں تو دل کانپ جاتا ہے دن بہ دن وہ کمزور ہورہی ہیں اور عمر کا تقاضا بھی ہے۔اب تو آپ کے ہاتھوں سے بنا گھر بھی نہیں رہا۔۔۔جہاں آپ سوتے تھے۔۔۔بیٹھتے اٹھتے تھے۔۔۔۔آپ کی دوسری بیٹی نے اسے نئے طرز سے بنگلہ نما بنایا۔۔۔۔ہائے!!! آپ کو ایسے گھر کی کتنی خواہش تھی۔ اب سب کچھ ہے جس طرح آپ چاہتے تھے مگر آپ نہیں ہیں میرے ابا!!!!
ہم نے جوکچھ بھی پایا ہے وہ آپ کی محبت اور تعلیم و تربیت کی بدولت ہے. آپ وہ شفیق باپ تھے جنہوں نے ہمیں کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ ہم بیٹے سے کم ہیں۔۔۔۔ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب ہماری عمر تیرہ چودہ سال کی رہی ہوگی۔۔۔۔۔گھر کی لائٹ چلی گئی تھی پاس پڑوس میں سب کے یہاں لائٹ تھی۔۔۔۔۔آپ نے ہم پوچھا کیا ہوا؟؟ ہم نے کہا شاید فیوز اڑ گیا ہے ابھی الیکٹریشن کو بلا لاتے ہیں۔ تو آپ نے کہا کوئی ضرورت نہیں آؤ تم کو بتاتے ہیں فیوز کیسے ٹھیک کیا جاتا۔۔۔۔چھوٹے موٹے سبھی کام خود سیکھنے چاہیے۔ آج سب سیکھ گئے ابا!! جب ہم کچھ نہیں ہونے کے برابر تھے تو آپ ہمارے ساتھ تھے۔ آج سب لوگ ہمیں جانتے ہیں پہچانتے ہیں۔آپ جس مقام پر اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتے تھے۔آج ہم اس مقام پر ہیں۔۔۔پر آپ نہیں ہیں۔جب آپ کے شفقت والے ہاتھ ہمارے کندھے پر ہوتے تو ہمیں توانائی محسوس ہوتی۔۔۔۔ اب ہم یہ طاقت یہ توانائی کہاں سے لائیں۔
ہماری نظریں آپ کو ہر جگہ ڈھونڈتیں ہیں۔ آپ بڑے دل کے مالک تھے اور آپ فوراََ ہر کسی کو معاف کرتے تھے۔ہمیں بھی ہر کسی کو معاف کرنے کی تلقین کرتے۔آپ کی ہر نصیحت یاد ہے ابا!! آپ کہتے زندگی میں جب بھی کسی پر غصہ آئے یا کوئی غم تمہیں ستائے تو اپنے اس غم اور غصے کو کاغذ پر اتار دینا۔تمہارا دل ہلکا ہو جائے گا۔۔۔یہی کہا کرتے تھے نا!! اور تمہارے دل کو قرار بھی آئے گا۔ مگر ابا!! جب سے آپ گئے ہیں دل کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔ اور نہ ہی کبھی دل کو قرار آیا ہے۔ ہمارے لئے یہ وقت نہایت درد بھرا اور تکلیف دہ ہے ابا!! آپ سے بات کرنے کا کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں۔۔ سوائے اس کے کہ آپ کو خط لکھوں. ہم آپ سے مشورہ کرتے تھے۔۔۔ پر اب کوئی نہیں جو ہمیں مشورہ دے سکے ۔۔۔۔ یہاں ہر کوئی آپ کو بہت یاد کرتا ہے اور یادکرنا تو آسان ہے۔ مگر ہمیں تو آپ ایک درد کے ساتھ یاد آتے ہو اور یہ درد کبھی نہیں جاتا۔ہر وقت آپ سبھی بیٹیوں کی فکر میں پریشان رہتے۔ آپ ہمارے دکھ سے دکھی ہوتے تو آپ کی آنکھیں بھیگ جاتی پر آپ ہم سب سے چھپانے کی کوشش کرتے۔ مگر اب ہمارے دکھ کو آپ کی طرح محسوس کرنے والا آپ کی طرح پیار کرنے والا کوئی نہیں۔ آپ پاک طبیعت نیک سیرت نرم گو زندہ دل اور ہنس مکھ ایک مثالی شخصیت کے حامل تھے…. علماء و دینی شخصیات سے خاص عقیدت رکھتے۔ آپ بہترین باپ ،بہتر ین استاد ، بہترین نگران ، بہترین دوست و مددگار تھے۔اور آپ ہر کسی کی مدد کرتے۔ بہت زیادہ مطالعہ کرتے ہمیشہ کچھ نہ کچھ قرطاس پر اتارا کرتے۔ یہی شوق ہم میں بچپن سے تھا جو ٹھاٹھیں مارنے لگا اور ہم نے قلم اٹھا لیا۔ آج ہم نے سب کچھ پالیا پر یہ دیکھنے کے لئے آپ نہیں ہیں۔ ہماری کامیابی پر سب خوش ہیں لیکن ہمارے لئے ساری دنیا ایک طرف اور آپ ایک طرف۔۔۔۔یہ سب لکھتے ہوئے ہمارے ہاتھ سے قلم بار بار چھوٹ رہا ہے دل درد سے کراہ رہا ہے۔ہم آپ جیسے شفیق باپ اور سایہ دار شجر کی چھاؤں سے محروم ہوگئے۔
جب بھی ہم گاؤں جاتے ہیں تو قبرستان کے پاس کار روک کر فاتحہ ضرور پڑھتے ہیں ہمارے شوہر، اور ہم کار میں بیٹھ کر آپ کے حق میں مغفرت کی دعائیں مانگتے ہیں۔آپ کا کوئی بیٹا نہیں۔۔۔۔۔ہم بیٹی ہیں قبرستان کے اندر نہیں جاسکتے پر آپ کی لحد کو دور سے دیکھتے ہیں۔ آج ہمارا آپ سے بہت باتیں کرنے کا دل کر رہا ہے.آپ ایک درخشاں ستارا تھے !!!! دنیا میں چند ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالی ایک اعلی مقصد کی تکمیل کے لیے دنیا میں بھیجتا ہے۔ اور آپ ان میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنے ہونے کا فرض ادا کیا ہمیں امید ہی نہیں۔۔۔ پورا یقین ہے کہ الله رب العزت کے یہاں آپ اعلی مقام پر ہیں۔۔۔ دنیا کی زندگی کے بعد اُخروی زندگی انعامات سے بھر پور ہوتی ہے۔اللہ رب العالمین سے دعا گو ہیں کی وہ ہمارے ابا کو اپنی رحمت سائے میں رہنا نصیب فرما اورجنت الفردوس میں آعلی مقام عطا فرما ۔ آمین!
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے- آمین

سیدہ تبسم منظور ناڈکر ۔ممبئی

نائب مدیر گوشہ خواتین اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے

9870971871

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading