بہت زیادہ سونے کے عادی لوگوں کو فالج کے دورے کا خطرہ کیسے ہوتا ہے؟ جان لیں اس خبر میں

آٹھ سے زیادہ گھنٹوں کی نیند فالج کے دورے کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھا دیتا ہے
ویسے تو کہا جاتا ہے کہ آٹھ گھنٹوں کی نیند لے لینا انسان کو بالکل تازہ کردیتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آٹھ سے زیادہ گھنٹوں کی نیند فالج کے دورے کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھا دیتا ہے؟

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جہاں کم نیند لینا بھی خطرناک ہی مانا جاتا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ سونے کو بھی عادت بنالینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ 8 گھنٹے سے زائد نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ اوسط دورانیے کے نیند لینے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اسی طرح جو لوگ رات بھر میں 6 گھنٹے سے کم سونے کو عادت بنا لیتے ہیں ان میں اس جان لیوا مرض کے دورے کا خطرہ 4 گنا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے دماغ کے مختلف حصوں کی خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

یہ تحقیق 7 ہزار افراد پر کی گئی جس میں بتایا گیا کہ رات کی اچھی اور مناسب دورانیے کی نیند بہت اہمیت رکھتی ہے مگر بہت زیادہ دیر تک بستر پر رہنا بلڈ پریشر کو بڑھا کر فالج کے خطرہ 46 فیصد تک اضافہ کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات ابھی واضح نہیں ہوسکی اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں بہت زیادہ نیند جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے. جس میں ادارہ نے کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سچ نیوز پاکستان – اصل لنک

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading