بہار کانگریس:کیڈراور لیڈر کو مضبوط بنانے کی ضرورت

معراج نوری

بہار کانگریس ان دنوں اپنے قومی صدر راہل گاندھی کی پٹنہ میں ۳؍فروری کو مجوزہ ’جن آکانشا ریلی‘کو کامیاب بنانے اور اس کے ذریعہ مرکز اور بہار کی حکمراں جماعت کو ایک پیغام دینے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ لیڈران اپنی سطح سے ہر وہ کوشش کررہے ہیں جس سے ریلی کو تاریخی اور مثالی بنائی جاسکے ۔ظاہر ہے اس کے لیے سخت محنت،کیڈراور ایجنڈے درکارہوتے ہیں۔بظاہر تو یہ دیکھا جارہاہے کہ پارٹی کا م کررہی ہے۔پوسٹر ،بینراور انٹرنیٹ پر موجودگی درج کرکے ریاستی سطح کے تقریباً سبھی لیڈران یہ باور کرانے کی کوششیں کررہے ہیںکہ وہ پارٹی کےلیے وقف ہیں لیکن حقیقت سے اس کا کوئی ناطہ نہیں۔یہ درحقیقت چناوی موسم اوراعلیٰ کمان کا خوف دکھائی پڑتا ہے ۔ورنہ جس پارٹی کی کبھی بہار میں طوطی بو لتی تھی آج وہ دوسرے کے سہارے نہیں ہوتی۔مجھے وہ دن بھی یاد آتے ہیں جب بہار میں کھوئی ہوئی ساکھ اور وقار کی بحالی کے لیے کانگریس اعلیٰ کمان نے گجرات کے سینئر لیڈر شکتی سنگھ گوہل کو انچارج بناکر بہاربھیجا۔اس وقت انہوں نے اشاروں اشاروں میں کیڈر اور بااثر لیڈران کی کمی محسوس کی تھی۔یہ حقیقت بھی ہے ۔کیونکہ آ ج بھی بہار کانگریس میں ایسے لیڈروں کی کمی ہے جو پارٹی کوپھر سے زندہ کرنے اور افق پر لانے کی مناسب اور موثرکوشش کر سکیں۔حالت یہ ہے کہ بہار کانگریس کے بڑے لیڈران آج بھی سڑک پر اتر کر کام کرنے سے گریز کر تے رہے ہیں۔سبھی قسمت کے بھروسے ہیں۔دراصل وی پي سنگھ کی منڈل کی سیاست کےبعد کانگریس بہار میںمسلسل کمزور ہوتی گئی۔ بہار میں جنتا دل کے عروج کے بعدجہاں ایک جانب کانگریس کے قدآورلیڈران پارٹی سے الگ ہوکر مختلف پارٹیوں میں چلے گئے وہیں اس کا ووٹ بینک بھی خیموں میں تقسیم ہوگیا ۔حالت ایسی ہوگئی کہ نہ پارٹی کا موثر رہنما رہا نہ اس کا کورووٹر ۔کبھی آنکھیں بندکرکے کانگریس کو ووٹ دینے والا پسماندہ سماج پارٹی سے دورہوکر علاقائی جماعت کے ساتھ ہوگیا تو جنتا دل کےبی جے پی سے رشتہ ٹوڑلینے اور کانگریس کے ذریعہ جنتا دل کو سہارا دینے اوروقتا ًفوقتا ًلالو پرساد کی مدد کرنے کی وجہ سے اعلیٰ ذات نےبھی پارٹی سے منھ موڑلیا۔ ریاست کا مسلمان بھی لالو کے ساتھ چلا گیا جس کانتیجہ ہواکہ کانگریس مجبوری میں ان کے پیچھے کھڑی رہی جو اب تک جاری هے۔اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب بہار میں۱۹۸۹ء کے بعد سے ذات پر فوکس کرتی ہوئی سیاسی پارٹیوں کا عروج ہوا ۔۱۹۹۰ء میں کانگریس بہار میں اسمبلی انتخابات ہار گئی تھی۔ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کی قیادت میں اپوزیشن کے طور پر کانگریس اسمبلی میں۷۲؍ اراکین اسمبلی کے ساتھ موجود تھی۔ لالو پرساد یادو وزیر اعلیٰ تھے۔۱۹۹۰ءسے۱۹۹۵ءکا دور بہار میں سماجی تبدیلی کا دوررہا جب پہلی بار پسماندہ ذاتوں کی سیاست نے عروج حاصل کیا اور وہ اقتدار میں پہنچی لیکن اس دوران کانگریس نے اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس حاصل کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ اس دورکا مشاہدہ کرنے والے بتاتے ہیں کہ شروع میں کمزور وزیر اعلیٰ کے طور پردیکھے جانے والے لالو پرساد یادو دن بدن مضبوط ہوتے گئے اور کانگریس کمزور ہوتی گئی جو آج بھی جاری ہے ۔

آ ج حالت یہ لالو پرساد کی آر جے ڈی یادو ذات کی پارٹی کہلاتی ہے۔ نتیش کمار كرميوں کے لیڈر ہیں۔ اوپیندر کشواہا کے پاس كوئري ذات ہے۔ رام ولاس پاسوان دلت لیڈرہیں۔ جیتن رام مانجھی مسہر ذات کے لیڈر ہیں۔ بی جے پی کو اعلیٰ ذاتوں کے علاوہ ویشیہ اور کایستھ کا بھی ساتھ ہے۔بچی کانگریس، تواس کے پاس ان پارٹیوں کا ہی سہار اہےجو کبھی فرقہ پرستی اور سیکولرزم کی بات کرتی ہے تو کبھی اپنے ووٹ بینک کی دہائی دے کر کانگریس کو بلیک میل۔
دراصل بہار کاسیاسی تانہ بانہ ہی کچھ اس طرح کا ہے کہ جس میں ذات پات اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں کے اقتدار کی چابی پسماندہ اور دلتوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔جو کبھی کانگریس کے ساتھ تھا لیکن آج اس سے دور ہوکر اپنا اپنا رہنما بناکر اسے اقتدارکی چابی سونپ رہی ہے۔ اگر بات اعلیٰ ذات کی کی جائے تو اعلیٰ ذاتوں کی آبادی بہار میں تقریباً۱۵؍ فیصد ہے۔ اتنی ہی آبادی مسلمانوں کی بھی ہے۔ لالو پرساد یادو نے مسلم اور یادوکا نعرہ دے کر ہی طویل مدت تک بہار کے اقتدار پر قبضہ جمائے رکھا تھا۔ آر جے ڈی کا یہ ووٹ بینک کم و بیش اب بھی محفوظ ہے۔۲۰۰۵ء کے بعد سےمسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے منہ پھیرلینے ، مبینہ بدعنوان اور غنڈہ راج کی تشہیر کی وجہ سے این ڈی اے بہار میں اقتدار پر قابض ہے ۔ایسے میں کانگریس کے ہاتھ خالی ہیں۔ اس کے پاس نہ کوئی ووٹ بینک ہےاور نہ ہی ایسا کوئی لیڈر جو تمام تر طبقات میں یکساں پکڑرکھتا ہو۔

ایسے میں کانگریس صدر راہل گاندھی کی مجوزہ ریلی کو کامیاب بنانے میں مصروف لیڈران اگر ڈنڈے کے سہار ے ہی صحیح محنت کررہے ہیں تو اس میں نہ توکوئی بری بات ہے اور نہ ہی کوئی نئی۔اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا تو اس کے نتائج دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔بھیڑ جمع ہوسکتی ہے ۔لیڈران اس بھیڑکے سہار ے اعلیٰ کمان کے درمیان اپنے رسوخ بڑھا سکتے ہیں لیکن لب لباب یہ کہ بہار میں کانگریس کی جو زمینی حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے۔وہ یہ کہ موجودہ وقت میں کانگریس بہار میں دوسرے کے ہی سہارے ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading