ڈاکٹر اسنیہل ڈونڈے کی تگ و دو کو ملی بڑی کامیابی
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی نظام پور شہر مہانگر پالیکا کی حد کے دہانے پر بہنے والی كامواری ندی میں بڑھ رہی آلودگی ندی کے کنارے ہو رہے تجاوزات کو روک کر ندی بچانے کے لئے اور ندی کے بہاؤ کو مسلسل روانی دینے کے لئے پرنسپل ڈاکٹر اسنہیل ڈونڈے کی کوششوں کو بڑی کامیابی ملی ۔ ڈاکٹر ڈونڈے کے مطابق تھانے ضلع مجسٹریٹ راجیش نارویكر نے كامواری ندی کو بچانے کے لئے فوری طور پر اس سلسلے میں ضلع افسر کے دفتر میں متعلقہ سرکاری مشنری کے ساتھ ملاقات کر مثبت قدم اٹھانے کا حکم دیا ہے ۔ تھانے ضلع مجسٹریٹ راجیش نارویكر کی صدارت میں اس اہم میٹنگ میں ضلع پریشد ، بھیونڈی مہانگرپالیكا، ایم ایم آر ڈی اے ، آلودگی کنٹرول بورڈ ، نگررچنا محکمہ کے افسران کے ساتھ ڈاکٹر اسنیہل ڈونڈے موجود تھی ۔

تھانے ضلع مجسٹریٹ دفتر میں بھیونڈی کی كامواری ندی کو بچانے کے لئے ہوئی اہم میٹنگ میں ڈاکٹر ڈونڈے نے ندی کی ابتر حالت کے ساتھ ندی کے کنارے پر تجاوزات اور پانی کی آلودگی کے سلسلے میں کی گئی شکایات کو وضاحت کے ساتھ بتایا اور ساتھ ہی ندی کے کنارے ہو رہے تجاوزات اور ندی میں بڑھ رہے آلودگی، پانی مافیاوں پر کارروائی کا مطالبہ اور شہر کی ڈائینگ، سائزنگ اور دیگر کمپنیوں کی طرف سے کیمیکل آلود پانی چھوڑے جانے پر روک لگانے خے لئے آلودگی کنٹرول بورڈ سے کاروائی کرنے کی مانگ کی ساتھ ہی تمام کمپنیوں میں پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ نصب کرنے اور اسے شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ندی کے کنارے کی دیکھ بھال کرنے کے لئے، کالج کے راشٹریہ شینا کے طلباء کرنے والے ہیں ۔ ندی کے پانی کی سائنسی تحقیقات کے لئے اور دیگر منصوبہ بندی کرنے کیلئے بھیونڈی مہانگرپالیكا کی طرف سے 5 لاکھ روپئے ملنے کی معلومات دی گئی۔ اس تناظر میں مثبت منصوبہ بندی کر معقول قدم اٹھانے کا حکم تھانے ضلع افسر نے دیا ۔ غور طلب ہو کہ بھیونڈی تعلقہ کے انگاوں کے پاس دیپولی سے كامواری ندی 34 کلومیٹر بہہ کر بھیونڈی مہانگرپالیكا کی حد پر آکر خلیج سے ملتی ہے ۔ ندی کو آلودہ کرنے میں ندی کے کنارے لگے ڈائینگ ، سائیزنگ اور دیگر کیمیکل پر مشتمل زہریلا پانی چھوڑنے والے فیکٹریوں اور طویلے کا بڑا رول ہے ۔ ساتھ ہی ٹینکر مافیا اور ندی کے کنارے ندی کی زمین کو تجاوزات کر غیر قانونی طور پر عمارت اور کارخانے بنانے اور زمین قبضہ کرنے والوں نے ندی کو بہت نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے بھیونڈی شہر کے پاس آکر ندی کا وجود تقریبا ختم ہو گیا ہے ۔ ندی کا پورا وجود بھیونڈی شہر کے قریب سمٹكر گندے نالے میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ ندی کے پانی میں فیکٹریوں اور طبیلے کا آلودہ پانی بغیر صاف کئے ہوئے غیر قانونی طریقے سے ندی میں چھوڑا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ندی کا پانی مکمل طور پر آلودہ ہوگیا ہے ۔ جوکسانوں کے استعمال کے قابل نہیں رہ گیا ہے ۔ جس سے زراعت کو بہت بڑا نقصان ہورہا ہے ۔ مدی کے وجود کو بچانے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے قائد کی شناخت کرنے والی بھیونڈی کی هلاری اوسوال کالج کی پرنسپل ڈاکٹر اسنہیل آگے قدم بڑھایا ہے اور کالج کے طلباء کی مدد سے كامواری ندی کو دوبارہ بہاؤ میں لانے کے لئے ڈاکٹر راجندر سنگھ کی پرمکھ کی رہبری میں کام شروع کیا ہے ۔ اس تناظر میں ڈاکٹر ڈونڈے نے ندی سے منسلک مسئلے پر توجہ دینے کے لئے ضلع مجسٹریٹ کو ایک خط لکھا تھا ۔اسی کے ساتھ 26 جنوری کو ندی کے کنارے طلباء نے انسانی زنجیر بنا کر شہریوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ۔ان سب چیزوں کو سنجیدگی سے لے کر تھانے ڈسٹرکٹ آفیسر نے اس میٹنگ کا انعقاد کیا ۔ اس تناظر میں ڈاکٹر اسنہیل ڈونڈے نے بتایا کہ ملک کی سطح پر گنگا صفائی کے ساتھ مختلف دریاؤں کے تناظر میں ریسرچ کر معلومات کرنے والے نیشنل انجینئرنگ انوارمنٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے ضلع مجسٹریٹ کی طرف كامواری ندی کی صفائی کرنے والے ہیں ۔ حکومتی سطح پر اچھے نتائج ملنے سے ندی کو بچانے کے لئے ایک نئی روشنی ملنے کے ساتھ حل نکالنے کی پوری امید ظاہر کی جارہی ہے ۔