نابالغ لڑکی کے ساتھ جبرا شادی کر کے جنسی استحصال . ملزم نوجوان گرفتار ، 22 تک پولیس حراست
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی میں واقع پھلے نگر نمبر 1 میں مہمان بن کر آئے لڑکے نے پڑوس کی 16 سال کی لڑکی کو محبت کے جال میں پھنسا کر بھگا لے گیا ۔ اس کے بعد بیڑ ضلع میں لے جاکر لڑکے نے اپنی ماں باپ کے تعاون سے لڑکی سے زبردستی شادی کر لڑکی کے ساتھ آبروریزی کرنے لگا ۔ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر بھیونڈی شہر پولیس نے لڑکی کے ماں باپ اور ظلم کرنے والے نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کر ملزم نوجوان کندن کو گرفتار کر عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزم نوجوان کو 22 مئی تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
پولیس سے موصولہ معلومات کے مطابق کندن بابن ڈولس نامی نوجوان پھولے نگر رشتے دار کے گھر آیا تھا ۔ اس نے رشتہ دار کے پڑوس کی 16 سالہ لڑکی کو نحبت میں پھنسا کر اسے لالچ دے کر مانکھرد ممبئی بھگا لے گیا۔ اس کے بعد لڑکی کو کھڑکی دیولہ ضلع بھیڑ میں لے جا کر اپنی ماں باپ کی مدد سے لڑکی سے زبردستی شادی کر گنا توڑنے کے کام میں لے جاکر زبردستی اس کا استحصال کر اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ اپنے ساتھ ہو رہے اس طرح کے ظلم سے پریشان ہوکر لڑکی بھیونڈی آئی اور ظالم نوجوان کندن اور اس کی ماں چندا بائی ڈولس اور والد ببن ڈولس کے خلاف معاملہ درج کرایا ہے ۔اس کے بعد بھیونڈی شہر پولیس نے ملزم کندن ڈولس کو گرفتار کر عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزم کندن ڈولس کو 22 مئی تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات اے پی آئی روہنی سونار کر رہی ہے ۔
تعفن و بدبو سے عوام پریشان ، بیماری پھیلنے کا خطرہ. صفائی میں غفلت، جانچ کا مطالبات
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن علاقے میں جاری نالہ و گٹر صفائی میں عجیب و غریب کارنامہ کیا جا رہا ہے ۔ مزدوروں کے ذریعہ نالہ و گٹر سے کچڑا نکال کر اسے سڑک پر چھوڑ دیا جا رہا ہے ۔جس کی بدبو اور تعفن کی وجہ سے بیماری پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ ساتھ ہی کچڑے کی وجہ سے لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہیں ۔ تمام شکایات کے باوجود کارپوریشن اسے ہٹانے کی زحمت نہیں اٹھا رہا ہے ۔جو لوگوں میں ناراضگی کا سبب بنا ہوا ہے ۔
واضح ہو کے میونسپل کارپوریشن اس سال گٹروں کو خود صاف کرا رہی ہے اور اس سال 6 مئی سے نالوں کی صفائی کا کام شروع کیا گیا ہے ۔ پانچوں پربھاگ میں نالوں کے لئے 60-60 دہاڑی مزدور اور گٹر کے لئے 20- 20 مزدور یعنی پورے شہر میں روزانہ 400 مزدور دہاڑی پر لگوا کر کارپوریشن صفائی کروا رہی ہے ۔ ہر مزدور کو 606 روپیہ ہر روز دہاڑی دی جا رہی ہے ۔اس کے علاوہ نالا صفائی کیلئے JCB، ڈمپر، پوكلین وغیرہ لگائے گئے ہے ۔ یعنی 70 لاکھ روپیہ خرچ کر کارپوریشن کل 101 چھوٹے بڑے نالے اور گٹروں کی صفائی 7 جون تک مکمل کرنے کا حکم کمشنر منوہر ہیرے نے دیا ہے ۔
صفائی میں غفلت جاری ہے ۔
صفائی کے دوران گٹر اور نالوں سے نکلنے والا کچڑا باہر چھوڑ دیا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے کچڑے سے نکلنے والا دم گھوٹو بدبو و تعفن سے جہاں لوگ پریشان ہے ۔ وہی بدبودار کچڑا پورے سڑک پر پھیلتا جا رہا ہے ۔جسے کارپوریشن کے ذریعہ نہ ہٹائے جانے سے لوگوں کو آمدورفت و راستوں سے گزرنے میں دشواری ہو رہی ہیں ۔ قائدے و قانون کو طاق پر رکھ کر کئے جا رہے کام کو محکمہ صحت پوری طرح نظر کر رہا ہے ۔ سوشل ورکر و کانگریسی لیڈر آصف خان نے بتایا کہ سڑک پر پھیلے کچڑے کی وجہ سے پھیلی بدبو سے بیماری پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ آصف خان نے مزید بتایا کہ شکایت کے باوجود کچڑا نہیں اٹھایا جا رہاہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ محکمہ صحت کی ڈپٹی کمشنر وندنا گلوے اور صحت افسر ہیمنت گلوی لوک سبھا انتخابات کے بعد سے ڈیوٹی سے ندارد ہے ۔
گندگی ہٹانے کا حکم، دوا کا چھڑکاو کرنے کی ہدایت
اسسٹنٹ کمشنر پنڈھريناتھ ویكھنڈے نے بتایا کہ صفائی کے فوری بعد کچڑا اٹھا کر ہٹانے کا صفائی ملازمین کو سختی سے حکم دیا گیا ہے ۔ جو کام میں لاپرواہی برتےگا اس پر کاروائی ہوگی ۔ كچڑے سے بیماری نہ ہو اس کے لئے جراثیم کش دوا کا چھڑکاو کیا جا رہا ہے ۔ جلد ہی سبھی کچڑا اٹھا لیا جائے گا ۔
بھیونڈی میونسپل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا دعوی
شہر سے غائب ہوا "سوائن فلیو”
جراثیم کش دواؤں کا چھڑکاؤ ، علاقے میں چھوڑا گیا دھواں
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کے صمدنگر میں سوائن فلو کے پانچ مریض ملنے کے بعد ایکشن میں آئے کارپوریشن کے محکمہ صحت نے اس سے بچاو اور ریسکیو آپریشن میں جم کر پسینہ بہايا ۔ ہیلتھ محکمہ کی ٹیم نے مریضوں کو تلاش کرنے ڈور ٹو ڈور سروے کر لوگوں کی جہاں تشخیص کی وہی 188 لوگوں کو ویکسین کے انجیکشن بھی فراہم کئے گئے ہیں ۔ محکمہ صحت کیمپوں کے ساتھ ساتھ 300 سے زائد لوگوں کو سوائن فلو کے ویکسین دیا گیا ہے اور تقریبا دو درجن افراد کو دوائیاں بھی دی گئی ہے ۔ کارپوریشن انتظامیہ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے دعوی کیا ہے کہ سوائن فلو مکمل طور پر شہر سے غائب ہوگیا ہے ۔ لیکن صمد نگر کے کیمپ پر ویکشن کے انجیکشن کم ہونے کی شکایت کرتے ہوئے کانگریس کی خاتون لیڈر رخسانہ قریشی نے بتایا کے انجیکشن ختم ہونے کی شکایت اور کمشنر سے کافی نوک جھوک کرنے کے بعد بھی آج صرف 50 انجیکشن ہی انتظامیہ نے یہاں فراہم کیا ہے جبکہ اس علاقے میں اب بھی بڑی تعداد ویکشن سے محروم ہے جس کے سبب اس علاقے میں کسی کے بھی سوائن فلو سے متاثر ہونے کا خطرہ بنا ہوا ہے ۔
واضح ہو کے شہر کے صمد نگر عائشہ اپارٹمنٹ میں رہنے والے ایک ہی خاندان کے پانچ ارکین سوائن فلو سے متاثر تھے کارپوریشن کے محکمہ صحت کے اسسٹنٹ کمشنر پنڈھريناتھ ویكھنڈے نے بتایا کہ خاندان کے سربراہ ممبئی کے سیفی اسپتال میں داخل وقار شیخ کی حالت ٹھیک ہے ۔ سوائن فلو کا مریض ملنے کے بعد کارپوریشن نے علاقے کی صفائی کے ساتھ علاقے میں جراثیم کش دوائیں مشین کے ذریعے چھڑکنے کے بعد دھواں بھی مارا گیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ صمد نگر کے علاقے میں کارپوریشن نے کیمپ شروع کیا اور 550 افراد کی جانچ پڑتال کی ۔ساتھ ہی 188 ضرورت مند لوگوں کو ویکسین کا انجکشن دیا گياساتھ ہی علاقے کے 500 گھروں میں مریضوں کا سروے کیا گيا ۔اس كے علاوہ عوامی بیداری کے لئے دو ہزار لوگوں کو پمپلیٹ بانٹ کر سوائن فلو کی علامات اور اس کے بچاؤ کی معلومات دی گئی ہے ۔ کارپوریشن محکمہ صحت کے اسسٹنٹ کمشنر پنڈھريناتھ ویكھنڈے نے بتایا کہ کارپوریشن کمشنر منوہر ہیرے کے ہدایت پر کارپوریشن کے تمام 15 ہیلتھ مراکز کے ذریعہ سوائن فلو کی انکوائری اور سروے شروع ہے ۔ ساتھ ہی کارپوریشن کے سب سے پرانے بی جے پی دواخانہ میں سوائن فلو کا خصوصی مرکز کھول کر انکوائری اور دوا دیے جانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ سوائن فلو کو شہر سے غائب ہونے میں محکمہ صحت کے انچارج ڈاکٹر جيونت دھلے، ڈاکٹر بسرا شیخ، ڈاکٹر روپال شاہ، مبین شیخ، وندنا اور سرلا سوریہ ونشی کے ساتھ 25 افراد کی ٹیم نے محنت کی ہے ۔وہیں صمد نگر کے سینٹر پر ایک ہزار ویکشن کی مانگ ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے رخسانہ قریشی نے کی تھی مگر صرف 50 انجیکشن بھیج کر کام چلایا جارہا ہے اور ڈاکٹر جیونت دھلے کی اجازت کے بغیر کسی بھی فرد کو اجیکشن دینے میں یہاں کا اسٹاف ٹال مٹول کر رہا ہے جسے لے کر لوگوں میں ناراضگی ہے ۔
سب ضلع ہسپتال میں خصوصی کمرہ
آئی جی ایم سب ضلع ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انل تھورات نے بتایا کے ہسپتال میں آئی سی یو کے ایک وارڈ کو سوائن فلو وارڈ بنایا گیا ہے ۔ جہاں پر دوائیں اور انجکشن کے ساتھ بہتر علاج کی سہولت ہے ۔ ابھی تک اس بیماری کا ایک بھی مریض یہاں علاج کے لئے نہیں آیا ہے ۔