پاور فیکٹر کے شمار کے طریقے میں تبدیلی کے خلاف کانگریس پارٹی صدر شعیب گڈو کی مہاراشٹر الیکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن میں رٹ پٹیشن داخل
بھیونڈی (ایس اے ) :- مہاراشٹراسٹیٹ الیکٹری سٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹیڈ (ایم ایس ای ڈی سی ایل ) کی جانب سے جاری کردہ سرکیولر نمبر 311 کے مطابق جونئے ٹیرف کا نفاذ پورے مہاراشٹر میں یکم ستمبر ۲۰۱۸ ء سے کیا گیا ہے۔نئے بجلی کے ٹیرف کے مطابق پاور فیکٹر کے فیصد اور incentive/penalty کے شمار میں تبدیلی کرتے ہوئے اب lead اور lag پاور فیکٹر دونوں کو شمار میں لیا جارہا ہے۔کانگریس پارٹی بھیونڈی کے شہر ضلع صدر شعیب گڈو نے پاور فیکٹر شمار کے اس طریقہ کار کو ریاست کے تمام بجلی صارفین کے ساتھ کئے جارہے ظلم اور ناانصافی کے مترادف بتایا ہے۔ مہاوترن کی جانب سے پاور فیکٹر پر عائد کردہ پینالٹی کے خلاف شعیب گڈو نے مہاراشٹر الیکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن( ایم ای آر سی)میں رٹ پٹیشن داخل کرتے ہوئے اس طریقہ کار پر نظر ثانی کرنے ، اسے منسوخ کرنے اور پرانے پاور فیکٹر کے طریقہ کار کو دوبارہ بحال کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
شعیب گڈو نے کہا ہے کہ مہا وترن نے پاور فیکٹر پر جو پینالٹی عائد کی ہے اس سے مہاراشٹر کے تمام بجلی صارفین بالخصوص بھیونڈی کے پاور لوم صنعت پر اس کا زبردست منفی اثر پڑ رہا ہے۔بھیوندی کی پاور لوم صنعت گذشہ کئی برسوں سے زبردست کساد بازاری اور مندی کے سبب اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ اب پاور فیکٹر کے شمارمیں عائد کردہ پینالٹی سے یہاں کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ بجلی صارفین کو زبردست مالی پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل پاور فیکٹر کے فیصد اورincentive/penalty کے شمارکے وقت lag پاور فیکٹر پر غور کیا جاتا تھا جبکہ نئے ٹیرف کے مطابق اب lead اور lag پاور فیکٹر دونوں کو شمار میں لیا جارہا ہے ۔ مہاوترن نے اپنے کنزیومرس کو اس سسٹم سے واقف ہونے کا کوئی بھی وقت نہ دیتے ہوئے اسے نافذ کردیا ہے۔ ایم ایس ای ڈی سی ایل نے اس طریقہ کار کو صرف HT کنزیومر کے لئے سفارش کی تھی لیکن مہاراشٹر الیکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن( ایم ای آر سی) نے اسے HT اور LT دونوں کنزیومر پر لاگو کر دیا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔ صارفین اسے مین ٹین نہیں کر پائیں گے۔ شعیب گڈو نے کہا کہ پوری ریاست کی پاور لوم صنعت اسمال اسکیل انڈسٹری کے زمرے میں آتے ہیں۔ پاور فیکٹر کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے جو APFC پینل درکار ہے وہ کافی مہنگا ہے اور مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب بھی نہیں ہوپاتا ہے۔
شعیب گڈو نے اپنی رٹ پٹیشن میں پاور فیکٹر کی پینالٹی کے شمار کے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنے،جب تک تمام کنزیومر کو کنٹرول پینل دستیاب نہ ہو ں نیز جب تک ریاست کے تمام بجلی میٹروں کے ڈسپلے ((displayمیں Lead اورLag نہیں دکھایا جائے تب تک کے لئے پاور فیکٹر کے شمار کے پرانے طریقے کو دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔