پولیس نے درج کیا حادثاتی موت کا معاملہ ، ٹھیکیدار پر کاروائی کا مطالبہ
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن سوئمنگ پول میں نہاتے وقت ڈوبنے سے ایک 19 سالہ این سی سی کے طالب علم کی موت ہو گئی ۔ متوفی ملیٹری میں بھرتی ہوکر ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن اس سے پہلے ہی موت نے اسے نگل ليا ۔ بھوئی واڑہ پولیس نے اسے حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا ہے ۔ لیکن مقامی لوگوں نے طالب علم کی موت کو ٹھیکیدار کی غفلت مان کر اس پر معاملہ درج کر اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ۔
بھیونڈی کی خبروں کیلئے ہمارے واٹس ایپ گروپ کو جوائن کریں
پولیس کے مطابق بھیونڈی کے بھنڈاری کمپاؤنڈ میں رہنے والا فرمان خان (19) اتوار کو چھٹی کے دن دوپہر میں اپنے دوستوں کے ساتھ دھوبی تالاب اسٹیڈیم میں بنے کارپوریشن کے بنے سوئمنگ پول میں نہانے گیا تھا ۔ نہاتے نہاتے اچانک وہ پانی میں ڈوب گيا كافی دیر تک پانی سے باہر نہ آنے پر اس کے ساتھ آئے دوستوں نے اس کی اطلاع بھوئی واڑہ پولیس کو دی ۔ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو باہر نکال کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجنے کے ساتھ اسے حادثاتی موت کا معاملہ درج کر تحقیقات شروع کردی ہے ۔ بتا دیں کہ متوفی فرمان این سی سی کا طالب علم تھاجو ہندوستانی فوج کے ملیٹری میں بھرتی ہوکر ملک کی حفاظت میں اپنی زندگی وقف کرنے والا تھا۔ اسكے لئے اس نے متعلقہ محکمہ امتحان بھی دیا تھا ۔ جس كے نتائج بھی آنے والے تھے ۔ جسے لے کر وہ خوش بھی تھا ۔ لیكن اس سے پہلے ہی سوئمنگ پول نے اس کی جان لے لی ۔
واضح رہے کہ بھیونڈی کے پرشورام ٹاورے اسٹیڈیم کے سامنے کھلے میدان میں کارپوریشن نے 2008 میں سوئمنگ پول کی تعمیر کر اسے چلانے کے لئے 30 برسوں کے معاہدے پر اسپورٹویو فٹنس سینٹر نامی تنظیم کو دیا تھا۔ لیکن قائدے قانون کو طاق پر رکھ کر ٹھیکیدار کے ذریعہ سوئمنگ پول چلائے جانے کی وجہ سے 2015 میں کارپوریشن کے اس وقت کے موجودہ کمشنر نے معاہدہ منسوخ کر سوئمنگ پول کو کارپوریشن کے ذریعہ خود کی نگرانی میں لینے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار کمشنر کے حکم کو کارپوریشن کے محکمہ قانون سے ملی بھگت کر چار سال سے چلا رہا ہے ۔ نوجوان کی موت کو ٹھیکیدار کی لاپرواہی مان کر متوفی کے اہل خانہ نے ٹھیکیدار پر کاروائی کا مطالبہ پولیس سے کیا ہے ۔ لیکن پولیس سابق کارپوریٹر کے بھائی ٹھیکیدار پر کارروائی کرنے کو لے کر مایوس کن بنی ہوئی ہے ۔