بھیونڈی ( شارف انصاری ):- 2 سال پہلے بھیونڈی کارپوریشن کی طرف سے گھر پٹی پر مشترکہ طور پر جوڑ کر کی جا رہی پانی پٹی وصولی کو شہر کی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی قرار دیتے ہوئے بھیونڈی ڈیولپمنٹ فرنٹ کے کنوینر فاضل انصاری نے کارپوریشن انتظامیہ کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن انتظامیہ فورا گھرپٹی پر جبرا مسلط کی گئی پانی پٹی کو واپس لے ورنہ شدت کے ساتھ تحریک شروع کی جائے گی جس کی ذمہ۔داری کارپوریشن انتظامیہ کی ہوگی ۔
بھیونڈی کی خبروں کیلئے ہمارے واٹس ایپ گروپ کو جوائن کریں
بھیونڈی ڈیولپمنٹ فرنٹ اور شرمجیوی شہیوگ سنستھا کی طرف سے کارپوریشن کے صدر دفتر کے سامنے منعقدی ایک روزہ دھرنا سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر فرنٹ کے عہدیداران ایڈوکیٹ وی ٹی ٹاورے، نياز بھائی چائے والا، انور انصاری اور شرمجیوی شہیوگ سنستھا کے صدر محمد ایوب شاہ سمیت بڑی تعداد میں کارکنان و شہر کے بیدار شہری موجود تھے ۔
واضح ہو کے بھیونڈی کارپوریشن دفتر کے گیٹ کے سامنے گھرپٹی پر جوڑ کر کی جا رہی نل پٹی وصولی کے خلاف بھیونڈی ڈیولپمنٹ فرنٹ کے صدر فاضل انصاری کی قیادت میں ایک روزہ دھرنا آندولن کیا گیا ۔ دھرنا آندولن کی اہم وجہ 2 سال پہلے اس وقت کے کمشنر یوگیش مہسے کی طرف سے پانی بل وصولی نہ ہونے پر ہو رہے کارپوریشن کے اقتصادی نقصان کے بچاو کے لئے گھر پٹی پر نل پٹی لگائے جانے کی تجویز جنرل اجلاس کے سامنے رکھا تھا ۔جسے فوری جنرل اجلاس کی طرف سے منظوری فراہم کی گئی ۔ مذکورہ تجویز کی منظوری کو میونسپل کمشنر مہسے نے حکومت کی منظوری حاصل کر بھیونڈی کارپوریشن علاقے میں لاگو کر دیا تھا۔ اس وقت گھرپٹی پر نل پٹی شامل کرنے کو لے کر شہریوں نے کافی ناراضگی ظاہر کی ۔لیکن نتیجہ صفر ثابت ہوا ۔ کارپوریشن انتظامیہ گھرپٹی کے اوپر نل پٹی جوڑ ٹیکس وصولی گزشتہ برسوں سے شہریوں کی مخالفت کو پوری طرح درکنار کر من مانی طریقے سے انجام دے رہی ہے ۔ شرم جیوی سنگھٹنا کے صدر محمد ایوب شاہ سمیت ایڈوکیٹ بی ٹی ٹاورے، انور انصاری، نياز بھائی چائے والا سمیت دھرنا پر بیٹھے سبھی دیگر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ، گھرپٹی پر نل پٹی جوڑ کر کارپوریشن کے ذریعہ کی جا رہی ٹیکس وصولی غریبوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور کارپوریشن مکمل طور پر ایکٹ کے خلاف ہے ۔
کارپوریشن انتظامیہ کے ذریعہ مفاد عامہ کے خلاف ہو رہی نل پٹی وصولی کو فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔ ہاؤس نمبر کی مناسب تحقیقات کے باوجود ہی پانی پٹی ٹیکس عائد کیا جانا چاہئے ۔ ورنہ شہر کی عوام کارپوریشن انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کے خلاف سڑک پر اتر کر زوردار دھرنا آندولن کرے گی ۔ جس کی پوری ذمہ داری کارپوریشن انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔