بھیونڈی میں پاور لوم بندی کو لے کر ملا جلا اثر ، شہر میں بند بے اثر رہا

بھیونڈی (شارف انصاری):- پاور لوم سنگٹھنا اور سمنویہ سمیتی مہاراشٹر کی طرف سے بلائے گئے ” بھیونڈی بند ” کا جزوی اثر پاور لوم کی نگری بھیونڈی شہر میں نظر آیا ۔ پاور لوم کارخانے والے کئی علاقوں میں کچھ پاور لوم مالکان نے اپنے کارخانے بند رکھے لیکن وہیں شہر میں بند کا کوئی اثر نظر نہیں دکھائی دیا ۔پاور لوم مالکان میں باہمی اتحاد نظر نہیں آیا۔ مختلف مسائل پر پاور لوم مالکان اپنے مفاد کے لئے مختلف راستوں پر چلتے نظر آئے ۔ بتا دیں کہ اس کے پہلے بھیونڈی بچاو سمیتی نے 15 نومبر سے لے کر کے 30 نومبر تک پاور لوم بند کا اعلان کر رکھا ہے۔ لیکن اس کا بھی اثر کچھ علاقوں میں نظر آیا ۔باقی پاور لوم مالک اپنا پاور لوم کارخانہ 24 گھنٹے چلاتے نظر آ رہے ہیں ۔بھیونڈی میں پاور لوم تنظیموں سے منسلک اداروں میں بھی اتفاق نظر نہیں آرہا ہے۔ تنظیم کسی کے ساتھ اور نہ کوئی بھی تنظیم کسی کے ساتھ منسلک نظر نہیں آرہے ہے ۔اس کے باوجود بھیونڈی پرانت آفس کے سامنے پاور لوم دھارک سنگٹھنا کے دھرنا آندولن میں پاور لوم مالکان زیادہ تعداد میں موجودگی درج کراتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومت کی ٹیکسٹائل پالیسی کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ۔ مذکورہ موقع پر پاورلوم دھارک سنگٹھنا آرگنائزر نياز بھائی چائےوالا، سابق چئیرمین و پردیش کانگریس جنرل سکریٹری طارق یونس فاروقی، ایڈوکیٹ یاسين مومن، عرفات شیخ، چندوبھائی سمريا، فاضل انصاری، انس انصاری، دھیرو بھائی گللیيا، شردرام سیجپال، کارپوریٹر ملک نظیر مومن، جاوید اعظمی، زاہد مختار شیخ، شريراج سنگھ، عرفان پٹیل، تروپتی شريپرم سمیت کثیر تعداد میں پاور لوم مالکان، دکاندار موجود تھے ۔
IMG-20181126-WA0009
واضح ہو کے پاور لوم سنگٹھنا اور سمنویہ سمیتی مہاراشٹر کے ذریعہ پاور لوم میں پھیلی شدید مندی، بجلی کی شرح میں زبردست اضافہ، سوت کی قیمتوں میں کنٹرول، درآمد کی فیس میں اضافہ، پاور لوم صنعت کی بہتری کیلئے خصوصی مالی پیکیج دیئے جانے سمیت دیگر اہم مسائل کو لے کر بھیونڈی پرانت آفس کے سامنے ایک روزہ دھرنا آندولن کیا گیا ۔پاور لوم سنگٹھنا اور سمنویہ سمیتی کی طرف سے اپر تحصیل دار میناکشی دلوی کے توسط سے وزیر اعظم، وزیر اعلی، ٹیکسٹائل وزیر کو پاور لوم مسائل کے سدباب کیلئے میمورنڈم سونپا گیا ۔ پاور لوم مالکان کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے شہر کے مشہور ایڈوکیٹ پاور لوم مالک ایڈوکیٹ ياسين مومن نے مرکزی اور ریاست کی بی جے پی حکومت کی نیت پر سنگین سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے پاور لوم صنعت کیلئے لائی گئی ٹیکسٹائل پالیسی سے صنعت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے بھیونڈی میں 4 سالوں میں تقریبا 80 فیصد پاور لوم صنعت اقتصادی بحران جھیل کر بند ہو گئی ہے اور تقریبا 2 لاکھ سے زیادہ پاور لوم مشینیں بھنگار میں فروخت ہوچکی ہے ۔کانگریس جنرل سکریٹری طارق یونس فاروقی نے کہا کہ پاور لوم صنعت کو لے کر دنیا میں پہلے نمبر پر رہنے والی بھیونڈی سے اب حکومت کی غلط پالیسیوں سے پاور لوم صنعت اكھڑكر گجرات، کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش جا رہی ہے.ل۔ حکومت نے وقت رہتے ہوئے اگر پاور لوم مسائل کے سد باب پر توجہ نہیں دی تو لاکھوں لوگوں کو روزگار دینے والی پارچہ بافی صنعت بند ہو جائے گی اور غریب مزدوروں کے سامنے روزی روٹی کا سنگین بحران پیدا ہو جائے گا ۔سماجوادی ضلع صدر عرفات شیخ نے بجلی اضافہ سے نجات کیلئے بجلی کمپنی کے خلاف عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان پاور لوم مالکان سے كيا ۔مذکورہ دھرنے کے آرگنائزر نياز بھائی چائے والا، چندو بھائی سمريا، فاضل انصاری سمیت کئی پاور لوم مالکان نے خطاب کیا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading