بشری شیخ نے بتایاکہ اگر کسی انسان کو مسلسل دوہفتے یا اور زیادہ دنوں سے کھانسی آرہی ہو ۔یا کسی کے تھوک اور بلغم میں خون آتا ہو سینے میں درد رہتا ہو تو اسے فورا قریبی سرکاری دواخانے پر جاکر تشخیص (چیک اپ)کرانا چاہئے اور ایکٹیو کیس فائنڈنگ پروگرام کے تحت ۲۴نومبر تک ٹی بی کی ٹیم بھیونڈی شہر کے متعدد منتخب علاقوں میں سروے بھی کررہی ہے جن گھروں پر یہ ٹیم جائے گھر والوں کو چاہئے کہ اگر گھر میں کوئی فرد ایسا ہے کہ جسے دو ہفتوں سے کھانسی یا بلغم میں خون اور بخار رہتا ہے تو اس کی معلومات ٹیم کو ضرور دیں ۔اس موقع پر کارپوریٹر ملک مومن نے کہا کہ انڈیا میں ہر تین منٹ میں دو افراد کی موت ٹی بی کی بیماری سے ہورہی ہے حالانکہ بھارت سرکار نے ٹی بی کی بیماری کو ختم کرنے اور روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں مگر عوام تک معلومات پہنچانے کا کام صحیح طریقے سے نہیں ہو پارہا ہے بھیونڈی شہر میں ۱۵ آروگیہ کیندر (سرکاری دواخانے) ہیں ان سبھی ودواخانوں میں ٹی بی کی بیماری کا چیک اپ کیا جاتا ہے اور دوائیں بھی سبھی ۱۵ ودواخانوں میں دی جاتی ہے اور تمام سرکاری وپرائیوٹ ڈاکٹروں کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر ٹی بی کا مریض ملے تو فورا سرکاری سسٹم کو اطلاع دی جائے ۔اور اسی طرح میڈیکل اسٹور والوں کو بھی سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر ٹی بی کا مریض میڈیکل اسٹور پر ٹی بی کی دوا لینے آئے تو اس کی معلومات سرکار کے ٹی بی ڈپارٹمنٹ کو دی جائے مگر ان تمام باتوں پر عمل نہیں ہورہا ہے.
بھیونڈی ملک میں ٹی بی کی بیماری سے متعلق حکومت کے ایکٹیو کیس فائنڈنگ پروگرام کا افتتاح
بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی شہر کے اکلوتے سرکاری اسپتال انجہانی اندراگاندھی سب سول اسپتال میں گزشتہ روز اسپتال کے سپرنٹنڈن ڈاکٹر انل تھورات کے ہاتھوں ملک میں ٹی بی کی بیماری سے متعلق مرکزی حکومت کے ذریعے شروع کئے گئے ایکٹیو کیس فائنڈنگ پروگرام کا افتتاح عمل میں آیا ۔ اس موقع پر بھیونڈی ادارہ صحت کی طرف سے ٹی بی ڈپارٹمنٹ کی انچارج ڈاکٹر بشری شیخ سمیت سابق انچارج ڈاکٹر بابا صاحب سورٹے کارپوریٹر ملک مومن۔ کارپوریٹر منا اشرف ۔سماجی خدمت گار وغیرہ بھی اس افتتاحی پروگرام میں شریک ہوئے۔ سپرنٹنڈن ڈاکٹر انل تھورات اور بابا سورٹے نے ٹی بی کی بیماری سے متعلق حاضرین کو معلومات دی ۔ انچارج ڈاکٹر بشری شیخ نے بتایاکہ کہ ٹی بی کوئی بہت بڑی یا لا علاج بیماری نہیں ہے ہر انسان کے اندر ٹی بی کے جراثیم ہوتےہیں لیکن وہ خاموش پڑے رہتے ہیں جب تک کی آدمی کی صحت کسی اور وجہ سے خراب نا ہو مثلا شراب نوشی سگریٹ یا دیگر منشیات کا عادی ہونے سے ٹی بی کے جراثیم مضبوط ہونے لگتے ہیں ۔
کارپوریٹر منا اشرف اور ملک مومن نے کہا کہ بھیونڈی کے متعدد علاقوں میں ہم پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں آپ لوگ آکر ٹی بی کی بیماری سے متعلق معلومات اور ملنےوالی سہولیات کے بارےمیں تفصیل سے بتائیں ۔ڈاکٹر بشری نے بتایاکہ مکمل تشخیص دوائیں ایکسرے یہ سب گورنمنٹ کی طرف سے فری میں دیا جاتاہے اور تھرڈ کیٹگری والے مریضوں کو سرکار راشن اور اناج بھی دیتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ بھیونڈی شہر کے لئے افسوسناک بات یہ ہے کہ نئی عمر والوں نوجوانوں کو ٹی بی کثرت سے ہورہی ہے اور ۱۵ سے ۲۵ سال تک کی لڑکیوں میں ٹی بی ذیادہ ہورہی ہے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سبھی لوگوں کو چاہئے کہ وہ ٹی بی کی بیماری خاتمہ مہم میں تعاون کریں اور اس زمن میں نکڑ ناٹک ۔پریس کانفرنس علماء میٹنگ کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے اور جن چیک اپ کیلئے پہلے جے جے اور سائن اسپتال جانا پڑتا تھا اب وہ سبھی چیک اپ بھیونڈی شہر میں ہونے لگے ہیں فرانس سے مشینیں آگئی ہیں اور چند گھنٹوں میں ہی رپورٹ مل جاتی ہے اس لئے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔