بھیونڈی: میزلس روبیلا پروگرام سے متعلق شہر میں پھیلی غلط فہمیوں اور افواہوں کو دورکرنے کیلئے  یونانی ڈاکٹروں کی میٹنگ

بھیونڈی ( شارف انصاری):- سرکار کی طرف سے شروع کیے گئے میزلس روبیلا پروگرام سے متعلق شہر میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور افواہوں کو دورکرنے کے مقصد سے گزشتہ روز بھیونڈی شہر کے ریجنٹ گارڈن ہوٹل میں بھیونڈی کے سبھی یونانی ڈاکٹروں کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی ۔

بھیونڈی مہانگر پالیکا کے ادارے صحت کی انچارج ڈاکٹر ودیا شیٹھی اور ڈبلیو ایچ او کے سرویلینس میڈیکل آفیسر ڈاکٹر کشور چوہان کی ایماء پر منعقدہ مذکورہ میٹنگ میں بھیونڈی شہرکے مختلف علاقوں سے پچاسی ڈاکٹروں نے شرکت کی ۔ اس موقع پربھیونڈی شہر میزلس اور روبیلا ٹیکہ کاری مہم میں مہاراشٹر کا سب سے کم کوریج والا شہر بتایا گیا ۔ ڈاکٹر چوہان نے پرزنٹیشن کے ذریعے بتایا کی پورے مہاراشٹرا میں دو کروڑ اسی لاکھ بچوں کو میزلس اور روبیلا کا ٹیکا دیا جا چکا ہے ۔ جبکہ بھیونڈی میں ایک لاکھ پندرہ ہزار بچوں کو اب تک میزلس اور روبیلا کا ٹیکا دیا جاچکا ہے پھر بھی بھیونڈی شہر میں ایک لاکھ سے زائد بچے ابھی اس ٹیکے سے محروم ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے والدین اس ٹیکے کے بارے میں غلط فہمی اور شک و شبہ اور افواہوں کے شکار ہیں ڈاکٹر چوہان نے بتایا آج کی اس میٹنگ جس میں ڈاکٹرز موجود ہیں آپ اپنے طریقے سے بھیونڈی شہر کی عوام کو یہ بتائیں کہ اس ٹیکے سے کسی طرح کی کوئی نسل کشی اور آبادی کم کرنے کی کوئی سازش بلکل نہیں ہے بلکہ یہ ٹیکا میزلس اور روبیلا کی بیماری کو ختم کرنے کے لئے لگایا جا رہا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیو خاتمہ مہم میں بھی بھیونڈی کے لوگوں میں بڑی تعداد میں اسی طرح کے شکوک و شبہات پائے جا رہے تھے لیکن بھیونڈی شہر کے علمائے کرام ائمہ مساجد اور ڈاکٹروں نے اس غلط فہمی کو ختم کرنے میں نمایاں رول ادا کیا تھا اور آج پورے آٹھ سال ہوگئے کہ ہندوستان میں کسی بھی بچے کو پولیو کی بیماری نہیں ہوئی لیکن ان آٹھ سالوں سے پہلے ہندوستان میں جتنے بھی بچوں کو پولیو کی بیماری ہوئی تھی ان میں سے بہتر فیصد مسلم بچوں کو پولیو ہوا تھا۔میزلس اور روبیلا کی بیماری دیگر کمیونٹی سے تو ختم ہو جائے گی لیکن اگر ایسے ہی غلط فہمی مسلم کمیونٹی میں باقی رہی تو پولیو کی طرح مسلم بچے ہی پولیو کی طرح میزلس اور روبیلا کا شکار ہوتے رہیں گے ڈاکٹر چوہان نے مزید بتایا کہ پورے ہندوستان کے مسلم ڈاکٹر ریلیجیس لیڈرز اور مسلم آرگنائزیشن اور تنظیموں کےذمہ داران نے اپنے لیٹر پیڈ پر اپیلیں کیں ہیں جن میں جمیعۃ العلماء جماعت اسلامی جماعت اہل حدیث بریلوی مکتبہ فکر کے علما ان سبھوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کی میزلس روبیلا کا ٹیکا اپنے 9 مہینے سے پندرہ سال تک کے بچوں کو لگانا چاہیے بھیونڈی شہر کے انگلش میڈیم ہندی اور مراٹھی میڈیم کی ا سکولوں میں نیٹ پنچانوے فیصد اور سو فیصد تک بچوں نے ٹیکہ لگوایا ہے صرف اردو اسکولوں میں ٹیکہ کرن کا فیصد بہت کم ہے ایسی کوئی غلط فہمی کی صرف اردو اسکولوں میں یا مسلم علاقوں میں ہی یہ ٹیکا دیا جا رہا ہے نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں اور ہندوستان کے علاقوں میں اور بھیونڈی کے سبھی محلوں میں دیا جا رہا ہے اس موقع پر میٹنگ میں موجود ڈاکٹروں کے کئی ٹیکنیکل سوالوں کے جوابات بھی دیئے گئے

اس میٹنگ میں ڈبلیو ایچ او کی طرف سے ڈاکٹر کشور چوہان کے ساتھ ڈاکٹر آنند سونٹکے بھی موجود تھے جبکہ بھیونڈی میں میزلس اور روبیلا پروگرام کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر دھلے بھی موجود تھے اس پروگرام کی نظامت ادارہ صحت سے وابستہ مولانا محمد اسعد قاسمی نے کی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading