بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی میں مخدوش عمارتوں پر کاروائی کو لے کر بھیونڈی کارپوریشن انتظامیہ بھاری غفلت برت رہی ہے ۔ مخدوش اور خستہ عمارتوں سے مکینوں کو نکال کر بر وقت ان عمارتوں کو گرائے نہ جانے سے جان لیوا سانحہ رونما ہورہے ہے ۔ آمینا کمپاؤنڈ علاقے میں واقع نسيراباد مسجد کے بغل ایک سال پہلے کارپوریشن کی طرف سے مخدوش عمارت کو خطرناک ہونے کا اعلان کیا گیا تھا اس عمارت کا ایک حصہ اچانک گر جانے سے جہاں گھر میں ایک خاتون شدید طور پر زخمی ہو گئی وہیں 2 بچے زخمی ہوکر علاج کرائے جانے کی مجبوری جھیل رہے ہے ۔ کارپوریشن انتظامیہ سب کچھ جان بوجھ کر بھی معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہے ۔
واضح ہو کے بھیونڈی کارپوریشن علاقے میں واقع 5 پربھاگ سمیتیوں کی حد میں سینکڑوں کی تعداد میں مخدوش اور خستہ حال عمارتوں کو کارپوریشن کی طرف سے خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے خالی کرنے کا اعلان کیا گیا ہیں ۔ خطرناک عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو خالی کئے جانے کا نوٹس تھماكر کارپوریشن کے تجاویزات محکمہ اور شہر ترقیات محکمے کے حکام نے اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑ لیا ہے ۔ شہریوں کی زندگی کی حفاظت کے تئیں سنجیدہ معاملے پر کارپوریشن افسران کی بے حسی اور لاپرواہی کی وجہ سے گذشتہ 3 سالوں میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے گرنے سے تقریبا 20 لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں اور درجنوں زخمی ہو گئے ہے ۔ لیکن کارپوریشن انتظامیہ آنکھ بند کر کسی بڑے سانحہ کے پیش آنے کی راہ دیکھ رہا ہے ۔ میونسپل انتظامیہ کے مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے ساتھ ناقص کارگردگی سے لوگوں کے درمیان انتظامیہ کے خلاف زبردست نفرت و برہمی پیدا ہو رہی ہے.