بھیونڈی :دوگاڑ پرائمری اسکول کی چھت زمین دوز


بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی تعلقہ کے دوگاڑ گاؤں میں واقع پرائمری اسکول کی چھت سنیچر کی رات میں اچانک گر گئی ۔ اتفاق سے حادثہ رات کے وقت پیش آنے سے ایک بڑا سانحہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ چوتھی جماعت تک چل رہی اس اسکول میں 102 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حادثہ دن میں ہوا تو بہت سے بچوں کی جان جا سکتی تھی ۔
واضح ہو کے بھیونڈی تعلقہ میں واقع دوگاڑ گاوں میں 25 سال پہلے اس پرائمری اسکول کی تعمیراتی کام شروع کرایا گیا تھا ۔ سمینٹ ، اینٹ کی دیوار کے بنے کمروں پر لکڑی، بانس، بلی اور کویلوں کی چھت ڈالی گئی تھی ۔ ذرائع کے مطابق اسکول کی چھت اور چھت میں لگی لکڑیاں اور بانس سڑنے سے چھت کمزور ہوگئی تھی ۔ یہاں کے لوگوں کو یہ پہلے سے ہی خوف تھا کہ یہ چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہے ۔ گاوں والوں کے مطابق برسات میں چھت کا وزن سڑی ہوئے لکڑی اور بانس سے نہیں سنبھل سکے اور سنیچر کی رات چھت بھربھرا گر گئی ۔ گاؤں کے اس پرائمری اسکول میں کلاس چوتھی طالب علموں کو تعلیم دی جاتی تھی ۔ جس میں مجموعی طور پر 102 طالب علم پڑھتے تھے ۔ کلاس پہلی کے کمرے کی چھت گر گئی ہے۔ باقی تین کمروں کی چھت انتہائی مخدوش حالت میں ۔ جو کبھی بھی گر سکتی ہے ۔جس کے سبب گاؤں کے لوگوں میں خوف کا ماحول ہے ۔اس سلسلے میں دوگاڑ گرام پنچایت کے سابق سرپنچ اننتا شیلار نے بتایا کہ دوگاڑ گاؤں میں چل رہے پرائمری اسکول کی مرمت کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ لیکن اسکول کی چھت کی درستی کا کام مقامی گرام پنچایت کے کچھ مخالفین کی وجہ سے چھت کی مرمت کا کام نہیں کیا جا سکا ۔اس وجہ سے آج یہ واقعہ رونما ہوگیا ۔ دوگاڑ گاؤں کی خستہ اسکول کی چھت گرنے کے سبب اب وہاں پڑھ رہے طالب علموں کی تعلیم پر بڑا اثر پڑے گا۔اگر گورنمنٹ انتظامیہ نے جلد ہی کوئی انتظام نہیں کیا تو پھر انہیں پرائیوٹ اسکولوں میں مہنگی تعلیم لینے کے لئے مجبور ہونا پڑیگا ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading