بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کا اکلوتا سرکاری اسپتال اپنی لاپرواہی اور بدعنوانی کے سبب ہمشہ اخبارات کی سرخیوں میں رہتا ہے علاج میں لاپرواہی اور اسپتال کے اسٹاف کی بدتمیزی اور زیادتیوں کے شکار بھیونڈی کی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ یہاں کے نالائق و نکمے کارپوریٹر اور عوامی نمائندے اس اسپتال میں محض اپنی تشہیر و جھوٹی شان کے لئے اسپتال کا دورہ کر مریضوں میں پھل فروٹ بانٹ کر چمکاو گری تو کر لیتے ہے مگر کبھی اسپتال کے عملے کی زیادتی اور لاپرواہی کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتے اور نہ ہی کبھی ان مریضوں کی پریشانیوں اور تکالیف پر توجہ دیتے ہے ۔
علاج کے دوران مریضوں کی موت کو لے کر ہمیشہ تنازعات میں گھری رہنے والی بھیونڈی کی آنجہانی اندرا گاندھی میموریل تحصیل سرکاری ہسپتال ایک بار پھر اس وقت تنازعات میں گھر گئی جب ایک 9 ماہ کی حاملہ خاتون کی علاج میں کی گئی لاپرواہی کے سبب ہسپتال میں ہی اس کی موت ہوگئی ۔ متوفیہ حاملہ خاتون کے شوہر محمد سلیم نے الزام لگایا ہے کہ اس کی بیوی کی موت ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد علاج میں کی گئی لاپرواہی کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ متوفیہ خاتون کے شوہر کی شکایت پر نظام پورہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ معاملے کی تحقیقات پولیس کی طرف سے کی جا رہی ہے ۔
ملی معلومات کے مطابق بھیونڈی نظام پورہ علاقے میں واقع پانچ پیر اسلام پورہ کی رہنے والی فریدہ محمد سلیم انصاری 38 نامی خاتون نو ماہ کی حاملہ تھی ۔ جسے زچگی کے لئے بھیونڈی میں واقع اکلوتے سرکاری آنجہانی اندرا گاندھی میموریل تحصیل سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ جہاں فریدہ کی موت ہو گئی ۔ اس کی موت کے بعد اس کے شوہر محمد سلیم انصاری نے الزام لگایا کہ ہسپتال میں لاپرواہی اور مناسب طریقے سے علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی کی موت ہو گئی ۔ محمد سلیم کی شکایت کے بعد نظام پورہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے ۔ معاملہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے ۔