بھیونڈی :انصاف کے لئے در در بھٹک رہا ہے سڑک حادثے میں زخمی نوجوان» نہ ملا معاوضہ اور نہ ہی کرایا گیا علاج ، ٹھیکیدار پر کارپوریشن انتظامیہ مہربان

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن علاقے میں ایم ایم آر ڈی اے کے ذریعہ بنائے جارہے۔ گائتری نگر روڈ پر گڑھے میں گر کر زخمی نوجوان انصاف کے لئے در در کی ٹھوکر کھانے کو مجبور ہے ۔ مذکورہ نوجوان کا ٹھیکیدار نے نہ علاج کرایا اور نہ ہی کوئی معاوضہ دیا گيا ۔ باوجود کارپوریشن انتظامیہ کی طرف سے ٹھیکیدار پر کی جارہی مہربانی کو لے کر شہری حیرت کا اظہار کر رہے ہے ۔

واضح ہو کے بھیونڈی میں ایس ٹی اسٹینڈ سے گائتری نگر روڈ کو آرسی سی روڈ بنانے کا کام ایم ایم آر ڈی اے کے ذریعہ کیا جا رہا ہے ۔ سڑک بنانے کے لئے ٹھیکیدار کی طرف سے سڑک کی کھدائی کے باوجود سیکورٹی کا کوئی انتظام نہیں کئے جانے سے شانتی نگر میں رہنے والا عرفان رمضان انصاری (30) بدھ کے روز 12 فروری کی رات آٹھ بجے سڑک پر گڑھا کھود کر انمول ہوٹل کے سامنے جمع کئے گئے مٹی کی ڈھیر میں موٹر سائیکل سے سلیپ ہوکر گڑھے میں گر گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے اس کے سر اور ناک میں کل 32 ٹانکے لگے تھا ۔ لیکن حادثے کے ذمہ دار ٹھیکیدار کی طرف سے نوجوان کا نہ تو علاج کرایا گیا اور نہ ہی اسے معاوضہ دیا گيا۔ زخمی ہونے کی وجہ سے نوجوان اپنے کام پر بھی نہیں جا پا رہا ہے ۔ اس وجہ سے اس کے سامنے اقتصادی تنگی پیدا ہو گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے نہ وہ اپنا علاج کرا پارہا ہے بلکہ پیشے کی قلت میں ایک معذور بچی اور چار بچیاں سمیت خود دو لوگوں کو ملاکر چھ لوگوں کی کفالت و دیگر خرچ چلانا مشكل ہو گیا ہے ۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کارپوریشن انتظامیہ یا پولیس کی طرف سے ٹھیکیدار پر اس حادثے کے بعد کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ زخمی نوجوان انصاف پانے کے لئے در در کی ٹھوکر کھا رہا ہے ۔ اس كا کہنا ہے کہ اب وہ انصاف کے لئے کہا جائے اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ۔ جبکہ کارپوریشن انتظامیہ ٹھیکیدار پر پوری طرح مہربان ہے ۔ بتا دیں کے ابھی بھی روزانہ کھودے گئے سڑک کی وجہ سے ہونے والی ٹریفک جام کی وجہ سے روزانہ حادثات ہو رہے ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading