بھیونڈی:پانی کی قلت ‘کانگریسی کارپوریٹروں کا کارپوریشن دفتر کے داخلی دروازے پر دھرنا

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- کارپوریشن وارڈ میں جاری پانی کی قلت کے مسائل کو لے کر کارپوریشن میں اقتدار پر قابض کانگریس پارٹی کے تین کارپوریٹروں نے کارپوریشن دفتر کے داخلی دروازے پر احتجاج کرتے ہوئے کارپوریشن انتظامیہ کے ناقص طریقہ کار کے خلاف دھرنا دیتے بیٹھ گئے ۔

کانگریسی کارپوریٹروں کے جارحانہ رویے سے کارپوریشن گلیاروں میں زبردست کھلبلی مچ گئی ہے ۔ واضح ہو کہ بھیونڈی کارپوریشن کے وارڈ نمبر 5 سے منتخب ہوئے کانگریس کے کارپوریٹر ملک نظیر مومن ، فراز بہاوالدین بابا ،خاتون کارپوریٹر نے کارپوریشن دفتر کے داخلی گیٹ کے سامنے اپنے وارڈ میں پانی کی قلت کے فوری حل کو لے کر دھرنا دیتے ہوئے بیٹھ گئے ۔ دھرنے کی جگہ پر پہنچ کر کانگریس کے شہر ضلع صدر شعیب گڈو ، اپوزیشن لیڈر شیام اگروال ، کانگریس کے گٹ نیتا حلیم نصاری ، کارپوریٹر شکیل پاپا ، کارپوریٹر مختار خان ، سفیان انصاری وغیرہ عہدیدران نے عوامی مسائل کو لے کر دھرنے پر بیٹھے کارپوریٹروں کی مکمل حمایت کی ۔ اس ضمن میں کارپوریٹر ملک نظیر مومن نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ وارڈ نمبر 5 کی حد میں آنے والے علاقے اسلام پورہ، قصائی باڑہ ، کیرتی ہوٹل، سلیمان بلڈنگ ، زیتون پورہ ، مرغی محلہ علاقوں میں لوگ پانی کی زبردست قلت کو لےکر گزشتہ کئی روز سے بہت پریشان ہیں ۔ خاتون خانہ، بچے پانی کی قلت سے اس قدر پریشان ہے کہ مجبورا انہیں پانی دور دراز کے علاقوں سے بھر کر لانا پڑرہا ہیں۔ یہاں کے لوگ پینے کے پانی کے لئے ترس رہے ۔ کارپوریشن انتظامیہ اور پانی فراہمی محکمہ عوامی نمائندوں کی بار بار شکایت کرنے کے بعد بھی پانی کی قلت کے مسائل کو حل کرنے میں تساہلی برت رہاہے۔

کارپوریشن کے داخلی دروازے پر دھرنا دیتے بیٹھے کارپوریٹروں نے وارڈ میں جاری پانی کی قلت کا فوری طور پر حل نہ کیے جانے تک اپنا دھرنا جاری رکھنے کا انتباہ کارپوریشن انتظامیہ کو دیا تھا ۔ تاہم کارپوریشن کمشنر منوہر ہیرے نے کانگریس کے شہر ضلع صدر شعیب گڈو کی مداخلت کے بعد ان کی قیادت میں پہنچے احتجاجی کارپوریٹر ملک نظیر مومن ، فراز بابا و دیگر ممبران کو ان کے علاقے میں جاری پانی کی قلت کے مسائل کا فوری طور پر حل نکالنے کی یقین دہانی دلائی ہے ۔ جس کے بعد کانگریسی کارپوریٹروں نے اپنا دھرنا ختم کردیا ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading