راشٹروادی کے قائد خالد گڈو کی کامیاب نمائندگی سے بھیونڈی پاورلوم صارفین بڑی جیت
بھیونڈی ( شارف انصاری):-کئی ماہ سے مسلسل ٹورینٹ کمپنی کی من مانی اور عوام پر جاری ظلم و ستم کے رویہ کے خلاف راشٹروادی کانگریس کی مہم اپنے کامیاب انجام تک اس وقت پہنچی جب ۱۳ نومبر کو راشٹروادی کانگریس کے بھیونڈی کے صدر خالد گڈو کی ایما پر راشٹروادی کانگریس کے قومی صدر شرد پوار ،سابق پالک منتری گنیش نائک اور خالد گڈو کے ساتھ بھیونڈی کے وفد کی میٹنگ سہادری گیسٹ ہاو¿س پر ساڑھے چار بجے ہوئی ، اس اہم میٹنگ کے منٹس ۲ دسمبر کو راشٹروادی کانگریس کے صدر کو مہاراشٹر حکومت کے جانب سے ملے ہیں۔جس میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی طرف سے پیش کی گئی۲۴ مانگوں میں سے ۸ مانگوں کوفوری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ان مانگوں میں سب سے اہم مانگ ٹورینٹ کمپنی کے میٹر کی تبدیلی ہے جس کی وجہ سے بھیونڈی کی عوام بے حد پریشان تھی،معلوم ہو کہ عوام کی ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ ٹورینٹ پاورکمپنی کا میٹر دیگر علاقوں اور کمپنیوں کے میٹر کی بدنسبت ۳۵ فیصد تیز چلنے کی وجہ سے صارفین کو بے حد اقتصادی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، بھیونڈی پاورلوم کا شہر ہونے کی وجہ سے بجلی کی بے انتہا کھپت ہوتی ہے جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹورینٹ کمپنی نے سارے شہر میں یہ غیر تحریری قانون جاری کیا تھا کہ صارف صرف ٹورینٹ کمپنی کا میٹر ہی لگائے گے ، اس مونوپولی کی وجہ سے کسی اور کمپنی کا میٹر نہیں لگ پاتا تھا اور ٹورینٹ پاور اس میٹر کے زریعے اندھا دھند بل صارفین پر عائد کرتی تھی ، عوام کی اس شکایت کو کامیابی کے ساتھ وزیر توانائی کے سامنے پیش کیا گیا جس پر وزیر توانائی چندر شیکھر باون کلے نے عمل درامد کرتے ہوئے ٹورینٹ کمپنی کے عہدیداران کے لیے فوری طور پر حکم نامہ جاری کیا کہ یہ عوام کا اختیار ہے کہ وہ جس کمپنی کاچاہے میٹر اپنے گھر یا کارخانے پر لگوائے۔انہوں نے کہا کہ ایم ایس ڈی سی ایل کے زریعے منطور شدہ میٹر کو لگانے کا اختیار عوام کو دیا جائے۔بازار میں اس وقت تقریبا ۱۰۰ کمپنی کے زریعے بنائے گئے میٹر موجود ہیں چنانچہ عوام کے لیے یہ بڑی راحت کی خبر ہے کہ وہ ٹورینٹ کمپنی کے علاوہ کوئی بھی مناسب میٹر اپنے گھر اور کارخانے کے لیے لگوا سکتے ہیں۔راشٹروادی کانگریس کی اس کامیاب کوشش سے سالوں سے جاری اس دھاندلی پر روک لگ گئی ہے۔ بھیونڈی اقلیتی شہر ہونے کی وجہ سے جمعہ کے دن پاورلوم بڑی تعداد میں بند ہوتے ہیں۔اسلیے جمعہ کے دن ا بجے سے ۲ بجے کے درمیان وولٹیج بہت زیادہ ہوجاتا ہے جس سے ٹوریٹ کمپنی کامیٹر بہت تیزی سے چلتا ہے جس سے بل زیادہ آتا ہے اور کئی حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔راشٹروادی کانگریس کی اس شکایت پر وزیر توانائی نے مہاوترن کمپنی کو حکم دیا کہ ۲ مہینے تک مستقل وولٹیج کو جانچنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائیگی جس میں وفد میں راشٹروادی پارٹی کا نمائندہ بھی موجود ہوگا۔اور اس کمیٹی کی جانچ رپورٹ پر مناسب فیصلہ کیا جائیگا۔ٹورینٹ کمپنی کے خلاف عوام میں پائے جانے والے زبردست غم اور غصہ اور لوگوں کی شکایت کے ازالے کے لیے راشٹروادی کانگریس نے مانگ کی تھی کہ علاحدہ طور پر مسئلہ کے حل کے لیے ایک شکایتی کاو¿نٹر شروع کیا جائے۔جس میں عوام کی شکایت کو فوری طور پرحکومت کے نمائندہ کی جانب سے حل کیا جائے۔ اس پر فوری طور پر عمل درامد کرتے ہوئے وزیر توانائی نے حکم دیا کہ شکایتی کاو¿نٹر شروع کرکے مہاراشٹرراجیہ مہاوترن کمپنی کی جانب سے نوڈل افسر کی تعنیاتی کی جائے۔جو ٹورینٹ کمپنی کے خلاف عوام کی شکایت کو فوری طور پر حل کریگا۔مذکورہ شکایت کاو¿نٹر جو کہ پہلے بند ہو چکا تھا،وہ خالد گڈو کی قیادت جانے والے وفد کی مانگ پر ایک مہینے میں شروع کیا جائیگا۔اسکے لیے وزیر توانائی نے ٹورینٹ کمپنی اور مہاوترن کمپنی کو حکم نامہ جاری کیا ہے۔ٹورینٹ کمپنی کا ایک من مانی کاروباریہ تھا کہ نئے ٹورینٹ بل کے لیے ایک ظالمانہ قانون یہ بنایا گیا تھا کہ کسی صارف کا اگر اس کے نام سے منسلک کسی جائدادپرٹورینٹ کمپنی کا بل باقی ہو تو وہ بھیونڈی میں کہیں بھی نیا میٹر بل نہیں لے سکتا ہے۔اگر بنگال پورہ میں کسی صارف کا بل باقی ہو تو وہ گایاتری نگر میں بھی اپنے کسی نئے کارخانے یا گھر کے لیے نیا میٹر نہیں لے سکتا تھا جب تک وہ اپنا پرانا بل نہ بھر لے اس ظالمانہ قانون کو ختم کرنے کی مانگ پر وزیر توانائی نے کہا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے اور جس جائیداد پر بل باقی ہو صرف اسی جائداد کے لیے نئے میٹر کو منظوری نہ دی جائے ، باقی علاقوں میں وہ صارف نئے میٹرلے سکتا ہے۔ اس مانگ کی منظوری سے صارفین کو بڑی راحت ملنے والی ہے۔جس پاورلوم صارفین کی اوسط ڈیمانڈ ۲۰ کلو واٹ ۲۷ ہاو¿س پاو ر ہوتی ہے تو صارف ایل ٹی ایم ڈی ٹیریف میں چلا جاتا ہے جس بنا صارف کو پنالٹی عائد ہوتی ہے، راشٹروادی کانگریس کی مانگ تھی کہ جن صارف کا مذکورہ ٹریف اگر سال میں اوسط تین بار مانگ اوپرچلا جاتا ہے تبھی ان پر پنالٹی لگے گی ورنہ عام صورت میں صارفین کو اس سے مستثنی قرار دیا جائے۔اس مانگ سے بڑے پاورلوم صارفین کو بڑی راحت ملی ہے۔ٹورینٹ کمپنی کے خلاف راشٹروادی کانگریس کی یہ مانگ تھی کہ ٹورینٹ کمپنی نے جن لوگوں کے خلاف جھوٹے کیس بنا کر لوگوں پر بے جامقدمے دائر کیے ہیں اس کا ازالہ کیا جائے جس پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ شہر میں جو لوگ پاورکی چوری کر رہے ہیں ان پر الیکٹریسی ایکٹ کے سیکشن ۱۳۵ کے تحت ۲۴ گھنٹے میں ایف آر آئی درج کی جائے جسکاپہلے سے قانون موجود ہے۔مگر غلط طریقے سے دھمکا کر لوگوں سے پیسہ اینٹھنے کا کاروبار رکنا چاہیے۔اور جن لوگوں کو جھوٹے مقدموں میں پھنسایا گیا ہے ان کی انکاوئری کرکے اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائیگا جس کے لیے ایک گریوینس کیمیٹی بنائی جائیگی۔ٹورینٹ کمپنی کے خلاف عوام کے جذبات کی کامیاب نمائندگی کرنے کے والے راشٹروادی کانگریس کے صدر خالد گڈو نے اس وفد کی کاروائی کے بارے میں نامہ نگار کو بتایا کہ ہمارے قومی صدر شرد پوار اور گنیش نائک کی رہبری میں یہ میٹنگ کامیاب رہی ہم نے بھیونڈی کی عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لے ۲۴ مدعوں کو پیش کیا گیاتھا جس وزیر تونائی نے فوری طور پر ۸ مدعوں پرفیصلہ کیا اور باقی کے مدعے پر ایک گریوینس کمیٹی بناکر ۲ مہینے میں ان تمام مسائل کے ممکنہ حل کے لیے کوشش کی جائیگی۔اس کامیاب نمائندگی کے سبب سالوں سے التو ا میں پڑے ٹورینٹ کمپنی کے من مانے رویہ پر روک لگنے کی امید ہے اور عوام نے اس بات کی امید جتائی ہیکہ مندی کی مار جھیل رہے اس شہر میں یہ بڑی راحت کی خبر ہے۔