اورنگ آباد:(جمیل شیخ):کیا آپ ہمارے بچوں کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ وہ ٹیکہ لگانے کے بعد کسی بھی قسم کی جان لیوا بیماری کاشکار تو نہیں ہوگا اور کیا ہمارے بچوں کی جان تو نہیں چلی جائے گی۔یہ ٹیکہ نہیں لگوایا گیا تو کیا نقصان ہے کیا اس سے پہلے کبھی ایسے ٹیکے لگائے گئے تھے؟مندرجہ بالا یہ سوالات ان سرپرستوں کے ہیں جو اپنے لاڈلوں کو ٹیکہ لگانے سے ڈر رہے ہیں۔اور یہ سوالات اسکول کے اساتذہ کرام سے کئے گئے ہیں جن کا جواب یہ تھا کہ آپ اپنی گیارنٹی پر اپنے بچوں کو ٹیکہ لگوائیں۔تفصیلا ت کے مطابق مہاراشٹر میں خسرہ اور روبیلہ کی ٹیکہ اندازی مہم جاری ہے لیکن اس مہم کو ناکام بنانے میں سوشل میڈیا نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے بالخصوص مسلم محلوں میں واٹس ایپ پر ڈالے گئے ویڈیز کی وجہ سے آج اورنگ آباد شہر کے ۴۱ ہزار۱۱۱مسلم بچے اس ٹیکے سے محروم رہے گئے۔ اس ٹیکے کی مخالفت کرنے والو ںمیںقیصر کالونی اور ہرسول ہیلتھ سینٹر کے احاطے میں آنے والے اسکولی طلباءشامل ہیں۔ جس طرح سے مسلم اسکولوں میں انتظامیہ اور سرپرستوں کی جانب سے اپنے بچوں کو اس ٹیکے سے محروم رکھا جارہا ہے۔ لیکن ہندو علاقوں میں اب تک اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات اس طرح ہیں کہ اورنگ آباد شہر میں 27نومبر سے ٹیکہ اندازی کی مہم شروع ہوئی جس میں پہلے ہی دن 5 ہزار 747طلباءنے ٹیکہ لیا تھا اور اس کے بعد سے ٹیکہ والے طلباءکی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ ان میں 9 ماہ سے لے کر ۵ سال تک کے بچے اور 5 سال سے 15سال تک بچوں کے لئے ٹیکہ دینے کے لئے جو ٹارگیٹ دیا گیا تھا اس کے مطابق ان پانچ دنوں میں کارپوریشن حد میں 59ہزار760 بچو ںکو ٹیکہ دینا ضروری تھا لیکن ان میں سے صرف ۹۳ ہزار ۷۰۹ اسکولی طلباءنے ٹیکہ لیا۔ ان طلباءکا تعلق ۳۰۲ اسکولوں سے ہے جبکہ 5ہزار742 ایسے طلباءہیں جن کے سرپرستوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ان بچوں کو خسرہ روبیلہ ٹیکہ دیا واضح ہو کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ریسرچ سینٹر میں علماءدین کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی جس میں مولانامعز الدین فاروقی ندوی مولانا عبدالرشید،مولانا عبدالجبار، حافظ اقبال انصاری، ڈاکٹر شریف، مولانا نظام الدین ملی، ڈاکٹر مظہر فاروقی اور دیگر ائمہ وعلماءموجود تھے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن او رخسرہ۔ر وبیلہ ٹیکہ اندازی مہم کے کوآرڈینٹر ڈاکٹر سید مجیب نے بتایا کہ سرپرست حضرات کسی بھی طرح کے گمراہ کن ویڈیوز کے بہکاوے میں آکر اپنے بچوں کی زندگیاں خراب نہ کریں۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے لیٹر ہیڈ دکھائے جس پر لکھا تھاکہ خسرہ اور روبیلہ ٹیکے لگانے سے بچوں کو کوئی نقصان نہیں ہے ۔اور پوری ذمہ داری اور چیکنگ کے بعد ہی بچوں کو ٹیکہ لگوایا جاتا ہے۔ بخار میں تو ہرگز یہ ٹیکے نہیں لگوائے جاتے ہیں۔