بھیونڈی (شارف انصاری):- شہر کی اہم سڑکوں پر ان دنوں بڑے پیمانے پر ہورہے بھیانک ٹریفک جام سے شہر کے لوگوں کا دم گھٹنے لگا ہے ۔ غیر منصوبہ بندی کے سبب بھیانک ٹریفک جام کے مسئلے سے بھیونڈی سے تھانے اور کلیان آنے جانے والے شہریوں کو آدھے گھنٹے کے وقت کی جگہ 2 گھنٹے تک ٹریفک جام کے مسلئے کی مار جھیلنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ وہیں اسکول کے طالب علموں کو گھنٹوں جام میں پھنسے رہنے کی وجہ سے ان کا برا حال ہو رہاہیں۔ اس کے بات پر دھیان دیں کر ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے اعلی افسران اور بھیونڈی ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار کو ٹریفک جام سے نجات دلانے کے لئے نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنی چاہئے ۔ صنعت کار اور سوشل ورکر ولاس وڈكے نے بھیونڈی کے میونسپل کمشنر اور پولیس افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ بھیونڈی کے شہریوں کو ٹریفک جام کے مسئلے سے بچانے کے لئے صبح اور شام کے وقت بھیونڈی کی اہم سڑکوں پر ہیوی گاڑیوں کی آمدورفت کو بند کرنے کا اصول دیگر شہروں کی طرح بھیونڈی میں بھی لاگو کیا جانا چاہئے ۔تاکہ لوگ وقت سے اپنے دفتر، اسکول اور دیگر کام کاج کے لئے آ جا سکیں ۔
بھیونڈی:ٹریفک جام سے شہریوں کا دم گھٹ رہا ہے
واضح ہو کے ممبئی احمد آباد روڈ پر واقع ورسوا فلائی اوور برج کی مرمت کے لئے 25 نومبر سے 25 دسمبر تک ایک ماہ کیلئے بھاری گاڑیوں کی آمدورفت بند کردی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے گجرات، راجستھان، دہلی اور مغربی ریاستوں سے آنے والے تمام گاڑیوں کو بنیادی طور پر پونے، تھانے، ممبئی اور جنوبی ہندوستان کی طرف جانے کے لئے بھیونڈی سے ہوکر گزرنا پڑ رہا ہے ۔ اس لئے وسئی چنچوٹی فاٹا سے بھیونڈی کے انجور فاٹا تک تقریبا 20 کلومیٹر کی سڑک پر روز پانچ کلومیٹر طویل جام لگا رہتا ہے ۔جس سے اس سڑک پر گرنے والے گرامین کے لوف بہت پریشان ہیں۔ اب ان کے صبر کا باندھ ٹوٹنے لگا ہے ۔ اسی طرح شہر سے جڑے انجور فاٹا ، کشہیلی، ڈھاپوڈہ، مانکوولی سبھی سڑکوں پر دن رات بھیانک ٹریفک جام لگا رہتا ہے ۔اس علاقے میں چل رہے اسکولوں میں جانے والے ہزاروں طالب علموں کو روز گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے ہونے کے سبب ان کا دم گھٹنے لگتا ہے ۔ کئی بار طالب علم اس ٹریفک جام سے پریشان ہوکر بسوں میں سو جاتی ہے ۔ وقت پر نہ گھر پہنچ پاتے ہیں نہ اسکول ۔ جس سے طلباء کو دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ طالب علموں کا قیمتی وقت ٹریفک جام کی وجہ سے اسکول آنے جانے میں ضائع ہو رہا ہے ۔ اسی طرح کے مسائل نوکری پیشہ سے منسلک خواتین اور مردوں کو بھی اس طرح مشکلات سے جوجھنا پڑ رہا ہے ۔ لوگوں کو تھانے اور ممبئی کا سفر کرنے کے لئے عام دنوں میں 2 سے 3 گھنٹے کا وقت ٹراگک جام میں گزارنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔بھیونڈی سے تھانے 19 کلومیٹر کا راستہ طے کرنے میں صبح و شام 2 سے 3 گھنٹے ٹریفک کے مسائل سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے ۔ بھیونڈی انڈسٹریل سٹی ہونے کی وجہ سے یہاں شہر میں تاجروں کو آنے جانے میں روزمرہ ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بسوں سے سفر کرنے والے مسافروں کی حالت بھی خراب ہیں ۔سب سے خراب حالات خواتین کی ہے ۔کیونکہ بھیونڈی سے لے کر تھانے تک سڑک کے کنارے کہی بھی بیت الخلاء کا انتظام حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے نہیں کیا گیا ہے ۔اس وجہ سے شہریوں خاص طور پر خواتین کو کھلی میں مسائل کا حل کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ یہ سب سے شرمناک معاملہ مسافروں کے ذریعہ سامنے آئی ہے ۔ ٹھیک اسی طرح بھیونڈی شہر کی سڑکوں کی بری حالت کی وجہ سے بھیونڈی شہر کی اہم سڑکوں پر صبح سے شام تک ٹریفک جام سے شہری انتہائی پریشان ہے ۔ شہر میں سگنل اور ٹریفک پولیس کی صحیح انتظام نہ ہونے سے آئے دن ٹریفک جام میں جھگڑا اور مار پیٹ ہونے کی وارداتیں رونما ہوتی رہتی ہے ۔ان سب مسائل کو جاننے کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کان میں تیل ڈالے بیٹھا ہوا ہے ۔