فاطمہ_شاہ
اسلام دقیانوسی مذہب نہیں بلکہ یہ اپنے پیروکاروں کو اپنی مقرر کردہ شرعی حدود میں رکھ کر ایسی مکمل آزادی مہیا کرتا ہے جو بدلتے زمانے سے مطابقت رکھتی ہے. لبرلز کا یہ پروپیگنڈہ سراسر بے جا ہے کہ اسلام عورت کو چار دیواری میں مقید کرکے اس کے ٹیلنٹ کی موت کا سامان کرتا ہے. ہماری تاریخ کے صفحات تو خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا کے کارناموں سے روشن ہیں جنہوں نے میدان جنگ میں داد شجاعت دیتے ہوئے بھی پردے کی حرمت کا خیال رکھا، مفسرہ و محدثہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے پردے کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جنگ جمل میں مسلمانوں کے ایک لشکر کی قیادت فرمائ. آئیں جائزہ لیتے ہیں کہ ہماری ہونہار بچیاں کون کون سے میدان میں اپنی قابلیت و صلاحیت کے جوہر دکھا سکتی ہیں.
ہمارے معاشرے میں کوئی بھی غیرت مند مرد اپنے گھر کی عورتوں کے بارے میں ہرگز برداشت نہیں کرتا کہ ڈاکٹر اس کی کلائ پکڑ کے نبض چیک کرے یا کسی مرد ڈاکٹر سے اس کا آپریشن کروانے کی نوبت آئے، ہاں مجبوری ایک علیحدہ چیز ہے . میڈیکل کا شعبہ بچیوں کے لیے بہترین ہے جس میں نرسنگ، گائنی یا فارمیسی وغیرہ میں خدمات کے مواقع بہت زیادہ ہیں اور نیک نیتی کے جذبے اور خلوص کے ساتھ اپنا فرض نبھایا جائے تو یہی پیشہ عبادت بن جائے گا. ہمارے معاشرے کے روایت پسند طبقات میں لڑکیوں کا اعلی تعلیمی اداروں میں مرد پروفیسر حضرات سے پڑھانا نا پسندیدہ خیال کیا جاتا ہو. جس کی وجہ سے بہت سی بچیاں اعلی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں کیونکہ انکا گھریلو ماحول یا معاشرتی اقدار اس کی مخالف ہوتی ہیں. لیڈیز ٹیچنگ کا شعبہ نہایت باعزت شعبہ ہے جہاں اپنی نسوانیت اور وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک پوری نسل کی تربیت کی ذمہ داری اپ خوش اسلوبی سے نبھا سکتی ہیں . اس کے علاوہ خواتین کی یونیورسٹی لڑکیوں کا وہ خواب ہے جو اتنے سال بعد بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پایا. اس یونیورسٹی کا قیام بہت سی بچیوں کو اعلی تعلیم یافتہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے.بسا اوقات کسی قسم کے ناگہانی حالات کسی ہنستی بستی عورت کو بیوہ یا مطلقہ میں بدل دیتے ہیں تب ہمارے سامنے امی خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مثال ہے جو مکہ کی سب سے متومل اور خوشحال تاجرہ تھیں اور اپنے شوھر کی وفات کے بعد اپنے ورکرز کی مدد سے بڑی کامیابی سے اپنا کاروبار چلا رہی تھیں . اس ضمن میں اپنے خاندان میں اپنی فرسٹ کزن کی مثال دوں گی جن کے شوہر کینسر کے باعث انتقال کر گئے اور پانچ چھوٹے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری انہوں نے بحسن و خوبی یوں ادا کی کہ اپنے مرحوم شوہر کا کاروبار پردے کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے ملازموں کی مدد سے آج تک چلا رہی ہیں .
ساتر لباس ڈیزائن کرکے آپ فیشن ڈیزائنر بھی بن سکتی ہیں مگر اس میڈیا کا کیا کیا جائے کہ جس نے فیشن لفظ کو بے حیائی سے نتھی کرکے رکھ دیا ہے. اور اس لفظ کی ادائیگی کے ساتھ ہی ذہن میں "نہ چھپتی ہے نہ صاف نظر آتی ہے” کی خصوصیات کی مالک ایک ماڈل کا عکس جھلملا جاتا ہے جو ادائے دلبرانہ کے ساتھ دعوت نظارہ دیتی نظر آتی ہے. خیر عقل والیاں ان اداؤں میں بھی اپنے شوہر کو لبھانے کا پہلو ڈھونڈ کر اس ہتھیار کو اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں. مگر وہی بات کہ کچھ قائم کردہ حدود لاگو رہیں گی.
حجاب یا نقاب میں ملبوس ایک عورت بطور لائبریرین اپنی ذمہ داریاں اسی خوش اسلوبی سے نبھا سکتی ہے جیسا کہ ایک بے حجاب عورت . پردے کے تقاضے پورے کرتے ہوۓ بھی آپ ایک اچھی ڈاکٹر ، انجنیئر ، سائنٹسٹ ،کمپیوٹر پروگرامر، پروفیسر، بزنس وومن ، پائلٹ …… غرضیکہ سب کچھ بن سکتی ہیں ، میں اس سلسلے میں اپنی کزنز کی مثالیں پیش کروں گی جو الحمد لللہ پردے کی حدود میں رہ کر ڈاکٹر بھی بنیں اور کیمیکل انجنیئر بھی. ایک نے شالیمار ہسپتال میں کافی عرصہ جاب کی جبکہ دوسری ابھی بھی ایک پینٹ بنانے والی کمپنی میں اپنا تعلیمی ہنر آزما رہی ہے.
انسانیت کے کام آنا چاہیں تو فیلڈز بھی اوپن ہیں اور مواقع کی بھی کمی نہیں. مگر نوٹ کیجئے کہ ہمارا میڈیا کن پیشوں کی لڑکیوں کو گلیمرائز کرکے دکھاتا ہے. ائیر ہوسٹس، بیوٹی کوئین، ماڈلز، کھلاڑی….. یعنی وہ پیشے جن میں سراسر عورت کی تذلیل کا پہلو نمایاں ہے . ہمارا اعتراض یہ نہیں کہ آپ لڑکیوں کو کوئی پروفیشن اپنانے اور خود کو منوانے پر کیوں اکسا رہے ہیں. ہماری تکلیف کی وجہ یہ ہے کہ آپ جو پروفیشن دکھا رہے ہیں وہ ہماری مذہبی، معاشرتی اقدار و روایات کے مطابق نہیں ہیں . اسلام ہر باحیا اور کارآمد پروفیشن اپنانے کے حق میں ہے. نیت اور عمل کی درستگی آپکی جانب سے درکار ہے