بھوکی انسانیت تک کھانا پانی پہنچانا،وقت کی سب سے بڑی خدمات

ہم بھارتیہ مسلمانوں کی سخاوت نے، سنگھی بی جے ہی حکومت کے مستحقین میں راشن پانی پہنچانے کے مشن کو آسان کیا ہوا ہےبھوکم، سیلاب، سونامی اور کورونا وبا جیسے ناگفتہ حالات میں، دنیا کے کسی بھی حصہ کے مسلمان، بعد الموت اپنی اخروی زندگی کی کامیابی ہی کی خاطر ،اپنے اپنے علاقہ کے غرباء و مساکین کی داد رسی کے لئے، جس طرح سے آگے آتے ہیں، اس کی نظیر اور ادیان کے ماننے والوں کے یہاں بہت کم ہی ملتی ہے۔

1914 پہلی عالمی جنگ دوران، بلقان کی جنگ میں، خلافت عثمانیہ کی شکست بعد بلقان جنگ کے متاثرین کی بازآباد کاری کے لئے، امداد بھیجنے، اس وقت قائم کی گئی، مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نے، اپنے تاسیسی ھدف، مستحقین کی امداد کے شاندار ماضی کو،اب تک زندہ و تابندہ رکھا ہوا ہے۔ 1983 میں نیلی آسام فساد زد مسلمانوں کی امداد کے لئے بھیجے گئے امدادی راشن پانی ٹرک ہوں،یا کشمیر سیلاب و آسام ریلیف امداد ہوں، یا گجرات بھوکم ، ٹلمناڈو سونامی و اب کیرالہ سیلاب بعد، رہائشی کالونی تعمیر کردینے کے معاملات ہوں، بھٹکل مجلس اصلاح و تنظیم نے، مستحقین کی امداد والے، اپنے اثاثی نصب العین کو، ہمیشہ اپنے مقصد حیات کی طرح باقی و جاری رکھا ہوا ہے۔ اب یہ کورونا وبا اپنی ہلاکت خیزی سے جہاں پورے عالم کو ایک ساتھ اپنے اپنے گھروں میں نظر بند کئے ہوئے ہے،وہیں پر بھٹکل واطراف بھٹکل بھی، اس آسمانی آزمائش میں، اپنے علاقہ کے مسلم و غیر مسلمانوں میں بھی، راشن پانی تقسیم کرنے، یکتا پائے گئے ہیں*
*بھٹکل مجلس اصلاح و تنظیم کے پاس ماہانہ طرز پر ، تین چار سو غرباء و مساکین خاندان کو سال بھر راشن پانی پہنچانے کا بندوبست پہلے سے ہے، اس لئے اب اس کورونا وبا تناظر میں، از سر نو تحقیق و سروے بعد، متوسط طبقہ کے عزت دار یومیہ مزدور محتاجوں کی الگ لسٹ اندراج کر تے ہوئے اور آس پاس محلوں قریوں بستیوں کے برادران وطن محتاجین کی الگ لسٹ تیار کرتے ہوئے، کنبہ کے ممبران کی تعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے، ایک سے تین ہزار روپے قیمت والے راشن تیل پانی کٹس،ہزاروں کی تعداد، مارچ میں ابتداء تقسیم کئے گئے تھے۔لیکن اب رمضان کی ابتداء میں، دو سے پانچ ہزار قیمت والے راشن تیل گفٹ پیکٹس متمول گھرانوں میں بھی تقسیم کئے گئے ہیں۔

اس کورونا قہر کہرام نے پہلے سے سرگرم اداروں کے علاوہ، مختلف محلوں والے اسپورٹس کلب نوجوانوں نے،جہاں اپنے طور اپنے وسائل سے تونگروں سے چندے اوصول کرتے ہوئے، متعدد گھرانوں میں الگ سے راشن ہانی تقسیم بھی کئے ہیں،وہیں خلیج میں مصروف معاش ہم وطنوں کی انجمن، بھٹکل مسلم خلیج کونسل ،کینرا مسلم۔خلیج کونسل اور شراوتی خلیج کونسل نے بھی، اپنے بعض متوسط عزت دار گھرانوں میں رمضان گفٹ پیکٹس تقسیم کئے ہیں،
گھی ہو کہ مختلف مصالحہ جات، گوشت چاول وغیرہ جاتے تو ہیں کچھڑی ہی میں جو اسے لذیذ بناتے ہیں مختلف اداروں سے مختلف ہاتھوں سے تقسیم کی جانے والی امداد، بھلے اس شعر کے مصداق
بادل ہیں گھر گھر کے صحراء ہی پہ برسے
صحراء ہیں کہ بوند بوند پانی کو ترسے

اس کورونا قہر کہرام نے، عام لوگوں میں بھی، جہاں اپنوں سے زیادہ ضرورت مندوں کی حاجت روائی کے لئے، اپنے مستقبل کی امانت جمع پونجی تک اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ لوگوں میں ودیعت کیا ہوا ہے،عام متوسط لوگ حج بیت اللہ تک کے لئے اپنی جمع پونجی کو، ضرورت مندوں میں راشن پانی تقسیم پر لگانا زیادہ آجر کا کام تصور کرتے پائے جاتے ہیں، اس سے یہ تو کہا جا سکتا ہے بھلے ہم تقسیم کرنے والوں کی کمیوں کے رہتے، یا بعض لوگوں میں موجود حرص و طمع نے، بھلے ہی دوسروں کے حقوق سلب کرتے، کئی کئی ہاتھوں سے امداد جمع کی ہو، لیکن اب کی الا ماشاءاللہ کوئی ایک بھی خاندان امداد ملنے سے رہ گیا ہو، ایسا کم ہی لگتا ہے۔ عزت نفس کا حوالہ دیکر اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر، بعض صاحب محلات، صاحب حیثیت، تاجر حضرات نے،ضرورت مند ہی اپنے نام مستحقین میں اندراج کروائیں، ضرورت نہ رہتے خود لیکر دوسروں کو پہنچانے کی تکلیف نہ کریں۔صاف صاف ہدایت باوجود بھی، مفت ملنے والے اس خلیجی من و سلوی ہر ہاتھ ضرور صاف کرنے سے اجتناب نہیں کیا ہے،ہمیں امید ہے اگر ان صاحب حیثیت افراد سے، گر جرح بھی کی جائے تو عذر لنگ یہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ ہم اس من و سلوی کو لیکر، اپنے کسی مستحق کو پہنچائیں گے۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ہی گھر کے، خلیج کے مختلف علاقوں میں مصروف معاش چار پانچ افراد کے، ایک ہی گھر میں، اتنے بھاری قیمت والےخلیجی چار چار پیکٹس پہنچتے ہوئے، ایک گھر میں کئی ماہ کا راشن جمع کر، وہ دوسرے مستحقین کا حق مارتے پائے گئے ہیں۔

اس لئے اگر اپنی آخرت سنوارنے ہی کے لئے اللہ کی راہ میں صدقہ کی نیت سے نکالی رقم کو الگ الگ ہاتھوں سے تقسیم کرتے ہوئے، ایسے چند کم ظرفوں کو فیض یاب ہونے سے ماورائیت ہی کے لئے، مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم ہی کے ذریعے سے، مرکزی طور تقسیم کئے جاتے تو افادیت میں اضافے کی توقع تھی۔ اگر کوئی تونگر اپنے ذاتی دولت سے، ذاتی طور،کسی ایک گھر میں جانتے بوجھتے امداد کا ڈھیر بھی لگا دے تو کوئی سوال نہیں کرسکتا لیکن خلیج میں مصروف معاش عام ممبران کے چندے سے جمع پونجی کو، یوں بے دریغ لٹانے پر، سوال اٹھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ خصوصا اس وقت جب علاقے کی مجلس اصلاح و تنظیم میں اس اقسام کی مرکزی امداد کا نظم باقاعدہ رہتے، ہر کوئی ادارہ اپنے طور ذاتی نوعیت سے الگ الگ امداد تقسیم کرے تو اس اقسام کی شکایات آنا لازم ملزوم عمل ہے اس لئے ،مستقبل میں، ایسے فلاح کے کام تنظیمی مرکزئیت سے کئے جائیں تو،خیر وبرکاتہ حاصل کئے جاسکتے ہیں۔یہاں ایک بات کا اظہار ضروری لگتا ہے کہ ایسی امداد عموما رازادارنہ ہی کی جاتی ہیں لیکن بعض بہت ہی صالح ،نیک نام عزت نفس والے ایک آدھ فیصد عزت دار گھرانوں کے نام افشاء نہ ہونے کا بہانہ بناکر، دوسرے بہت سے لوگ غیر ضروری مستفید ہوا کرتے ہیں۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں، آج بھی بعض عزت دار مستحق خاندان، اپنی عزت نفس کی خاطر،کسی سے بھی، دست سوال کرتے پائے نہیں جاتے اور یقینا رزاق دو جہاں ایسوں تک رازدارانہ رزق پہنچانے میں یکتا پایا گیا ہے
ایسے کورونا قہر کہرام کے وقت، بغیر مناسب وقت و مہلت دئیے بغیر، 40 دن کے دیش بھر کے لاک ڈاؤن اعلان تناظر میں، اس بھارت کے 40فیصد یومیہ مزدو آبادی تک، راشن پانی پہنچانا حکومت وقت کی ذمہ داری تھی۔ لیکن یہ لاک ڈآؤن والا وقت ماقبل رمضان آنے کی وجہ سے بھی،ممبئی شہر کی اس دیندار مسلم خاتون کے، اپنی نگرانی میں کھانا پکواکر ،روزانہ ایک لاکھ بھوکے مستحقین کو دو وقت کھانا کھلانے والے عمل کے ساتھ ہی ساتھ، دیش بھر میں پھیلے جماعت اسلامی ھند،جمیعت العلماء ھند، ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے علاوہ ہزاروں مسلم این جی اوز، اداروں کے بھارت بھر کے مختلف صوبوں شہروں کی مختلف شاخوں وعلاوہ لاکھوں مسلمانوں نے دل کھول کر، اپنے اطراف واکناف کے ضرورت مندوں میں بغیر مذہب و ملت کی تفاوت کے، جس انداز سے راشن پانی تقسیم کیا ہے یقینا اس سے عام لوگوں میں حکومت وقت کی امداد نہ پہنچنے کا احساس باقی نہیں رہا ہے۔ ہمہ وقت کسی نہ کسی بہانے سے، دیش کی مسلم اقلیت کو بدنام و رسوا کرنے والی بی جے پی سنگھی حکومت کو، اس کا احساس ہونا یا احساس دلوانا ضروری ہےواللہ الموافق بالتوفیق الاباللہ.

نقاش نائطی

+966594960485

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading