بھوکر‘ ناندیڑ شمال اور جنوب میں کانگریس کےلئے حالات پریشان کن؟
جنوب میں مضبوط امیدوار دستیاب نہ ہونے سے کانگریس تذبذب کاشکار

ناندیڑ:26ستمبر(ور ق تازہ نیوز) ناندیڑ ضلع جو کبھی کانگریس پارٹی کامضبوط قلعہ ماناجاتا ہے آج اس کی سلامتی کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ جاریہ اسمبلی چناو میں کانگریس پارٹی اور اس کے قائدین امیدواروں کے انتخاب کو لے کر کافی پریشان ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں ناندیڑ ضلع کی 9 سیٹیں داﺅ پر لگی ہوئی ہیں۔خود سابقہ وزیراعلیٰ او رپارٹی کے سابقہ ریاستی صدر اشوک چوہان کو ان کے روایتی حلقہ انتخاب بھوکر میں کڑی آزمائش کاسامنا ہے کیونکہ یہاں بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرتاپ پاٹل چکھلی کر نے اپنااثر ورسوخ بڑھادیا ہے ۔اور یہاں کی سیٹ پر بھی کسی بھی قیمت پر بی جے پی قابض ہوناچاہتی ہے ۔

ریاستی سطح کے کئے بڑے بی جے پی قائدین بھی بھوکر پر خصوصی توجہ مرکز کئے ہوئے ہیں ۔ یہاں سے گزشتہ 2014 کے الیکشن میں اشوک چوہان کی شریک حیات امیتا تائی چوہان منتخب ہوئی تھیں ۔ لیکن اب خود اشوک چوہان نے الیکشن لڑنے کی تیاری کرلی ہے ۔وہ سابقہ لوک سبھا الیکشن میں شکست کے بعد کافی متفکر ہیں۔ ناندیڑ شمال حلقہ سے کانگریس ایم ایل اے شری ڈی پی ساونت کو دوبارہ الیکشن اکھاڑے میںاتاراجارہا ہے ۔انھوں نے چند مہینوں سے تشہیری مہم شروع کررکھی ہے لیکن انھیں اس حلقہ میں ایم آئی ایم کے امیدوار سے خطرہ لاحق ہے ۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق سابقہ ایم ایل اے اوم پوکرنا نے ناندیڑ شمال سے بی جے پی سے ٹکٹ مانگا تھا لیکن انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ شیوسینا کے ٹکٹ کامطالبہ کریں اسلئے انھوں نے شیوسینا سے ٹکٹ مانگا ہے ۔ اور ان کا ٹکٹ تقریبا طئے ہے ۔

یہاں سے گزشتہ الیکشن میں شیوسینا اور بی جے پی کے امیدواروں نے چناو لڑاتھا ۔چونکہ قندہار کی شیوسینا سیٹ بی جے پی کو دے دی گئی ہے ۔ اسلئیے بی جے پی نے اس کے بدلے ناندیڑ شمال کی سیٹ مانگی ہے ۔اور یہ بی جے پی کو مل چکی ہے ۔اسی حلقہ سے ونچت بہوجن اگھاڑی بھی اپنا امیدوار اتارسکتی ہے اسلئے یہاں شیوسینا ‘کانگریس ‘ ایم آئی ایم اور ونچت میں مقابلہ طئے ہے ۔ ناندیڑحلقہ جنوب میں کانگریس کو طاقتور امیدوار نہیں مل رہا ہے اسلئے وہ تذبذب کاشکار ہے ۔اورابھی ت یہاں کاامیدار طئے نہیں ہے ۔ کانگریس کے مسلم ممبران نے اس حلقہ سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کامطالبہ کیا ہے۔

یہاں خواہشمند مسلم امیدواروں میں عبدالستار‘ شمیم عبداللہ اور صابر چاوس ٹکٹ کےلئے بضد ہیں ۔ لیکن انتخابی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں سے مسلم امیدوار کی کامیابی کے امکانات قطعی نہیں ہیں ۔ یہاں سے ایم آئی ایم اور ونچت بہوجن اگھاڑی بھی اپنے امیدوار اتار رہی ہے ۔اس طرح کانگریس کا روایتی ووٹ تین چار امیدواروں میں تقسیم ہوجائے گا۔ اور شیوسینا کا امیدوار کامیاب ہوسکتا ہے یہ حلقہ شیوسینا کا مضبوط گڑھ ہے یہاں سے سابق الیکشن میں شیوسینا کے ہیمنت پاٹل منتخب ہوئے تھے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading