بھوپال:سیمی دہشت گردانہ معاملہ آخری مرحلے میں داخل

بھوپال ۔16؍ دسمبر (پریس ریلیز)ممنوعہ تنظیم سیمی سے تعلق دہشت گردانہ کارروائی سمیت کئی سنگین الزامات میں برسوں سے قید و بند کی صعو بتیں جھیل رہے شولاپور،اجین،و کھنڈوہ کے نو جوانوں خالد مچھالےو دیگر کا مقدمہ اسپیشل سیشن کیس نمبر 2014/541بھوپال کی خصوصی این آئی اے عدالت میں کاروائی جاری ہے یکے بعد دیگرے گواہان کو پیش کیا جا رہا ہے اسی ضمن میں اس کیس سے متعلق آج ایک اہم سرکاری گواہ مدھیہ پردیش اےٹی ایس افسر سنجے سنگھ کی جرح اور بحث مکمل ہو گئی ہے،اس کیس میں اب صرف ایک گواہ کی گواہی باقی ہے اور اس کے لئے عدالت نے 7 ؍ جنوری 2021 کی تاریخ مقرر ہے ،اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔

مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھوپال دہشت گردانہ کیس میں آج ایک اہم گواہ اے ٹی ایس افسر سنجے سنگھ کی گواہی اور جرح مکمل ہو گئی ہے اس کیس میں صرف ایک گواہ اس وقت کے ڈی ایس پی اور تحقیقی افسر منیش کھتری صاحب کی گواہی باقی رہ گئی ہے آج ان کی بھی گواہی ہونی تھی لیکن عدالت کو بتایا گیا کہ وہ 10؍ دسمبر سے کرونا سے متاثر ہیں جس کی وجہ سے وہ حاضر نہیں ہو سکے ،جس پر عدالت نے آئندہ سماعت کے لئے 7؍ جنوری 2021 کی تاریخ متعین کی ہے ،عدالت میں مقدمہ کی کاروائی برق رفتاری سے جاری ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش اے ٹی ایس کو حکم دیا ہے کہ اس کیس کو جلد از جلد نمٹایا جائے ۔

مولانا ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر نےمزید کہا کہ یہ کافی نازک اور سنگین معاملہ ہے،مدھیہ پردیش اے ٹی ایس سبھی قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر جسے چاہے جھوٹے اور من گھڑت الزامات میں ملوث کر دیتی ہے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے جس کی وجہ انہیں برسوں تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے،اس مقدمہ میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔جمعیۃ علما مہا راشٹر کی جا نب سے بھوپال خصوصی عدالت میں اس کیس کی پیری جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان ،ایڈوکیٹ ساجد علی خان ،اورایڈوکیٹ پرویز عالم کر رہے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading