بھوٹان کے پانی چھوڑنے آسام میں سیلاب کی صورتحال سنگین، اب تک ایک ہزار کروڑ کا نقصان

گوہاٹی: آسام کے نشیبی علاقوں خاص کر ضلع بارپیٹ میں تیز بارش کے بعد پیدا ہوئی سیلاب کی صورتحال، بھوٹان کے کریشو ندی پر بنے پن بجلی پروجیکٹ باندھ سے فاضل پانی چھوڑے جانے کے سبب مزید سنگین ہوگئی ہے ۔

آسام کے 3000 سے زیادہ گاؤں غرقآب ہو چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے تقریباً 2 لاکھ لوگوں کو راحت کیمپوں میں پہنچایا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق اس سال سیلاب سے اب تک ایک ہزار کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق موسلادھار بارش اور باندھ سے فاضل پانی چھوڑے جانے کے بعد ضلعے کا بڑا علاقے زیر آب آگیا ہے۔ علاقے کے سب وڈویژنل اسپتال میں سیلاب کا پانی گھس گیا ہے جس کے بعد مریضوں کو محفوظ مقامات پر لے جایا گیا ہے۔ پاتھسالا شہر میں سبھی وارڈ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

اس زبردست سیلاب کے سبب سبھی سڑک اور رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ منگل کے روز پہومارا ندی کے سیلاب کے سبب مہارانی، کیندو گڑی اور کولوگڑی سمیت کئی علاقوں میں باندھ اور ساحلی پشتے ٹوٹ گئے تھے۔ سیلاب کی سنگینی کے پیش نظر سبھی تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔ بھاری بارش اور باندھ سے پانی چھوڑے جانے کا اثر متھان گڑی اور نزدیکی علاقوں میں بھی ہوا ۔

ضلع بارپیٹ کے مختلف مقامات پر ریاستی آفات بندوبست دستہ اور فوج کے جوان راحت و بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ بچاؤ ٹیم پوبیکولاہ گڑی، شانتی پور، ڈولے گاؤں وغیر علاقوں میں بھی راحت رسانی اور لوگوں کے بچانے کے کام میں مصروف ہیں۔

انتظامیہ اس آفت سے نمٹنے کے لئے جنگی پیمانے پر راحت و بچاؤ مہم چلا رہی ہے۔ سیلاب سے کئی گاؤں متاثر ہیں۔ کئی رہائشی علاقوں میں سینے تک پانی بھر گیا ہے۔ کئی علاقوں کے لوگوں کو باہر نکال کر انہیں محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔
گزشتہ دو دنوں سے جاری بارش نے سیلاب کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading