بھساول ۔ناسک ٹاڈا مقدمہ 25 سال بعد11 مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات سے عدالت نے بری کیا

جمعیة علماءکی بڑی کامیابی، حالانکہ انصاف میں تاخیر ہوئی لیکن دہشت گردی کا کلنک بالآخیر صاف ہوا، گلزار اعظمی

ناسک :27 فروری( ای میل)دہشت گردانہ معاملات میں بے جا گرفتار ساڑھے سات سو مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیئے مشہور ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم و موقر تنظیم جمعیة علماءہند (ارشد مدنی)کی کوششوں سے آج25 سالوں کے طویل انتظار کے بعد11 مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات سے ناسک کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے بری کیا۔ عدالت نے ملزمین کو نا کافی ثبوت اور تحقیقات کے دوران ٹاڈا قانون کے رہنمایانہ اصولوں کی دھجیاں اڑانے کو بنیاد بناکر ملزمین کو باعزت بری کردیا۔آج جیسے ہی خصوصی ٹاڈا جج ایس کھاتی نے مقدمہ کا فیصلہ سنایا ملزمین نے راحت کی سانسیں لیں اور خدا کا شکریہ ادا کیا کیونکہ گذشتہ کل ہی فیصلہ آنا تھا لیکن دن بھر فیصلہ لکھنے کا عمل چلتا رہا اور آج بھی شام پانچ بج گیا فیصلہ ظاہر ہونے میں۔تفصیلی فیصلہ جلدہی ملزمین اور وکلاءکو دستیاب ہوگا کیونکہ ابھی فیصلہ کی نقول تیار کی جارہی ہے ۔واضح رہے کہ ۸۲ مئی ۴۹۹۱ءکو تحقیقاتی دستہ نے مہاراشٹر اور ملک کے دیگر صوبوں کے مختلف شہروں سے اعلی تعلیم یافتہ ۱۱ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153(A) 120(B)اور ٹاڈا قانون کی دفعات3(3)(4)(5), 4(1)(4) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پرالزام عائد کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینا چاہتے تھے جس کے لیئے انہوں نے کشمیر جاکر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔تحقیقاتی دستہ نے ملزمین جمیل احمد عبداللہ خان، محمد یونس محمد اسحاق، فاروق خان نذیر خان، یوسف خان گلاب خان، ایوب خان اسماعیل خان، وسیم الدین شمش الدین، شیخ شفیع شیخ عزیز، اشفاق سید مرتضی میر، ممتاز سید مرتضی میر، محمد ہارون محمد بفاتی اور مولانا عبدالقدیر حبیبی کو بھساول الجہاد نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ناسک اور بھساول میں مسلمانوں کو جہاد کرنے پر اکسا رہے تھے اور انہوں نے سرکاری عمارتوں سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ خصوصی ٹاڈا جج کی جانب سے ۱۱ مسلم ملزمین کو باعزت بری کیئے جانے پر جمعیة علماءقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ حالانکہ حصول انصاف میں تاخیر ہوئی لیکن مسلمانوں کے ماتھوں پر سے دہشت گردی کا کلنک صاف ہونا اہم بات ہے ۔ٍانہوں نے دفاعی وکلاءخصوصاً ایڈوکیٹ شریف شیخ اور ان کے رفقاءمتین شیخ، انصار تنبولی، رازق شیخ، شاہد ندیم، محمد ارشد، ہیتالی سیٹھ و دیگر کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسان نہیں تھا معاملے کی ہر سماعت پر ممبئی سے ناسک جاکر ملزمین کا دفاع کرنا لیکن انہوں نے تمام نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی خدمات پیش کیں جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ صدر جمعیة علماءہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ۱۱ مسلم ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی اور جب ہم نے تین سال قبل ان کا مقدمہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور دفاعی وکلاءنے چارج شیٹ کا مطالعہ کیا تب یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ملزمین کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایاگیا ہے اور انہیں ۵۲ سالوں تک عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔گلزار اعظمی نے کہاکہ مقدمہ کے جعلی ہونے کا ثبوت اس بات سے بھی واضح ہوتا ہیکہ عدالت میں آدھے سے زیادہ سرکاری گواہان اپنے بیانات سے ایک جانب جہاں منحرف ہوگئے وہیں روویو کمیٹی نے ۰۲ سال قبل ہی ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی سفارشات حکومت کو پیش کیں تھیں لیکن حکومت کی سفارشات کو نچلی عدالت نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جس کا خمیازہ ملزمین کو بھگتنا پڑا اور انہیں عدالت میں یہ ثابت کرنا پڑا کہ ان پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

دفاعی وکلاءایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ رازق شیخ اور ایڈوکیٹ محمد ارشد کی تصویریں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading