بنگال مدرسہ کمیٹی نے ’مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ‘ کی بحالی کے فیصلہ کو عدالت عظمیٰ میں کیا چیلنج

کولکاتا: مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ کو بحال کرنے کے سپریم کورٹ کے دور رکنی بنچ کے فیصلے کو مدرسہ منیجنگ کمیٹی آف ویسٹ بنگال نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی دورکنی بنچ نے سوموار کو مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ 2008کو بحال کردیا ہے۔اس ایکٹ کی بحالی سے کمیشن کو بنگال کے مدرسوں میں اساتذہ کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس بی آر گاوے اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل بنچ نے کہا ہے کہ مدرسہ منیجنگ کمیٹی کی درخواست پر اگلے ہفتے سماعت ہوگی۔مدرسہ منیجنگ کمیٹی کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے عدالت سے کہا کہ سپریم کورٹ کی دورکنی بنچ کے فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور اس کی سماعت بڑے بنچ کے ذریعہ ہونی چاہیے کیونکہ یہ اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ ہے۔

جسٹس ارون مشرا اور جسٹس یو یو للت پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کمیشن کے قیام سے اقلیتی اداروں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے،صلاحیت وقابلیت کو معیار بنانے کے لئے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔اور اگر میرٹ کا خیال نہیں رکھا گیا تو اقلیتی ادارے غیراقلیتی اداروں کے مقابلے پیچھے رہ جائیں گے۔151صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن ایکٹ کے ذریعہ اساتذہ کی تقرری پنشن اور اقلیتی اداروں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیاجائے گا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading