نئی دہلی، 20 اپریل.(پی ایس آئی) مہاراشٹر کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس ایس ایم۔ مشرف نے اپنی نئی انگریزی کتاب ”برہمن وادیوں کے بم ، مسلمانوں کو پھانسی“ (Brahmists bombed, Muslims hanged) میںناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ ۲۰۰۲ سے ہونے والے بم دھماکے بھگوا دہشت گردوں نے کئے لیکن ایجنسیوں کی ملی بھگت سے مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے خلاف جعلی کیس بنائے گئے اور ان کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ مشرف نے اس نئی۹۹۲ صفحات پر مشتمل کتاب میں بتایا ہے کہ آر ۔ایس۔ ایس، ابھینو بھارت، بجرنگ دل اورجے وندے ماترم جیسی تنظیموں نے یہ دہشت گردانہ واقعات انجام دئے لیکن انٹلی جنس بیورو ، این آئی اے اور اے ٹی ایس جیسی سرکاری تنظیموں نے حکومت اور میڈیا میں موجود بھگوا عناصرکی مدد سے جان بوجھ کر ثبوتوں کو مٹایا اور بے گناہ مسلمانوں کو ان کیسوں میں پھنسادیا ۔میڈیا کا پروپیگنڈا اور سرکاری وکیل اکثر ججوں کو بھی دھوکا دینے میں کامیاب رہے۔ایس ایم مشرف اس سے قبل ”کرکرے کے قاتل کون؟“ (Who Killed Karkare?) اور ”۶۲۱۱ جانچ: عدالتیں بھی کیوں ناکام رہیں“ (26/11 Probe: Why Judiciary Also Failed) جیسی معرکة الآراءکتابیں لکھ کر دہشت گردی کے نام پر اس ملک میں چلائے جانے والے افسانے کا پردہ چاک کرچکے ہیں۔
حکومت اور ایجنسیوں کو ان کتابوں میں پیش کردہ حقائق کے سامنے صرف خاموشی کی راہ اپنائی ہے۔ مشرف نے اپنی اس نئی کتاب میں مطالبہ کیا ہے کہ ایک اعلیٰ عدالتی کمیٹی بنائی جائے جو آزاد انہ طور سے ان تمام دہشت گردانہ کارروائیوں کی جانچ کرے۔ان کو یقین ہے کہ اس طرح کی آزادانہ جانچ سے واضح ہوجائے گا کہ دراصل بھگوا دہشت گردوں نے بم دھماکے کئے اور بے گناہ مسلمانوں کو پھنسا کرانھیں جیلوں میں ٹھونس دیا گیا جہاں وہ اب بھی سڑ رہے ہیں اور ان کو ۰۲ ، ۵۲ سال جیل میں گذارنے کے بعد بھی ضمانت نہیں ملتی ہے۔مشرف نے اپنی اس نئی کتاب میں دکھایا ہے کہ بھگوا دہشت گردوں نے مسلمانوں کو پھنسانے اور حاشیے پر ڈالنے کے لئے ۲۰۰۲ سے دھماکے شروع کئے اور میڈیا اور ایجنسیوں میں اپنے دوستوں کے ذریعے مشہور کیا کہ یہ بابری مسجد کے انہدام اور گجرات ۲۰۰۲ کا رد عمل ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ اس سارے معاملے میں اصل ملزم انٹلی جنس بیورو ہے جو اپنے مسلم دشمن ایجنڈے کے لئے معروف ہے۔انہوں نے اس کتاب میں یہ بھی دکھایا ہے کہ ایجنسیوں نے اہم شواہد کو چھپایا ، ان کی تحقیق نہیں کی اور اہم گواہوں کو عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا۔ ان بہت سے معاملات میں سالہا سال جیلوں میں سڑنے کے بعد عدالتوں نے کچھ مسلمانوں کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا لیکن نہ ان کو معاوضہ ملا اور نہ ہی ان کو پھنسانے والوں کو کوئی سزا ہوئی۔
اس کتاب میں مشرف نے کچھ بم دھماکوں کا بالخصوص مطالعہ کیا ہے جیسے جولائی ۶۰۰۲ میں بمبئی ٹرینوں میں ہونے والے دھماکے، جرمن بیکری، اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس، حیدرآباد کے دل سکھ نگر میں دھماکہ، محمدیہ مسجد پر بھنی دھماکہ اور مکہ مسجد دھماکہ وغیرہ۔ یہ انگریزی کتاب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے معروف اشاعتی ادارے فاروس میڈیا (Pharos Media) نے شائع کی ہے جو اس موضوع پر متعدد مستند کتابیں شائع کرکے دہشت گردی کے افسانے کا پردہ چاک کرچکا ہے۔ یہ کتاب جلد ہی اردو اور ہندی میں بھی دستیاب ہوگی۔
واضح رہے کہ اس سلسلے کی پہلی اہم کڑی ”کرکرے کے قاتل کون؟“ ملک کی آٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔ ان کتابوں نے پہلی دفعہ مظلوموں کو حوصلہ دیاکہ باہر نکل کر اپنی مظلومیت کی بات کرسکیں۔ فاروس میڈیا بہت جلد ہجومی دہشت گردی (ماب لنچنگ ) پر ایک دستاویزی مطالعہ انگریزی زبان میں شائع کرنے والا ہے جس میں مودی سرکار کے زمانے میںہونے والے تقریباً ۰۰۳ ہجومی تشدد کے واقعات کی دستاویزی تفصیلات اور ان پر سیر حاصل جائزہ شامل ہوگا۔