بلند شہر تشدد:گائے کے باقیات کی حقیقت جانئے

بلند شہر،۴دسمبر(پی ایس آئی) بلند شہر میں جس کے کھیت میں گﺅ کے باقیات ملے تھے، اس کے مالک کا کہنا ہے کہ انہوں نے باقیات کو کھیت میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن بھیڑ نہیں مانی. نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے فارم کے مالک راجکمار کی بیوی رےنو نے بات چیت کی. رےنو کا کہنا ہے، ‘جب ہم کل (تین دسمبر) فارم پہنچے تو ہمیں وہاں گائے کی باقیات ملے. ہم نے اس کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی. اس وقت تک کافی تعداد میں گاﺅںوالے اور بھیڑ ہمارے فارم میں پہنچ چکی تھی. اس کے بعد ہم نے باقیات کھیت میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن بھیڑ نہیں مانی. ‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا، ‘بھیڑ ہی ٹرالی لے کر آئی اور اس میں باقیات ڈالے اور کہا کہ ہم تھانے جاکر جام کرتے ہیں. ہم نے اس پر منع کیا اور کہا کہ ہم ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے. لیکن بھیڑ نہیں مانی. ‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ تشدد کرنے والے لوگ کون تھے تو انہوں نے کہا، ‘ہم نہیں بتا سکتے کہ بھیڑ میں بجرنگ دل کے لوگ تھے یا نہیں.’ اس کے ساتھ ہی مہاو گاو¿ں کے سابق وزیر پرےم جیت سنگھ کے کھیت میں کچھ باقیات ملے تھے. انہوں نے بتایا کہ ‘پولیس کے ساتھ مل کر صلح ہو گئی تھی. پولیس نے یقین دہانی دی تھی کہ ایف آئی آر ہو جائے گی. ہمارے گاو¿ں کے لوگ بھی مان گئے تھے، لیکن اچانک بجرنگ دل کے لوگوں نے ٹریکٹر پر قبضہ کر لیا. ہم نے بہت سمجھانے کی کوشش کی. لیکن وہ نہیں مانے ‘ سنگھ نے ساتھ ہی بتایا،’ ہم نے ٹریکٹر ہٹا لیا تھا. لیکن جب ہم ٹرالی ہٹانے گئے تو پتھراو¿ شروع ہو گیا. پتھراو¿ کرنے والے گاو¿ں کے نہیں تھے. مجھے نہیں پتہ کہ اتنے پتھر کہاں سے آ گئے. گاو¿ں میں تو اتنے پتھر ہوتے نہیں. میں تو صلح کروا رہا تھا. اچانک ہجوم نے پتھر مارنا شروع کر دیا. یہ سب باہر کے لوگ تھے. جب پتھر چلنے لگے تو ہم جان بچا کر بھاگے. یہ لڑکا یوگیش راج آگے تھا، اس کا ہم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے. مجھے نہیں پتہ کہ جب پولیس ایف آئی آر کر رہی تھی تو پتھر کیوں چلے؟ یہ منصوبہ بند لگتا ہے. ‘ بتا دیں، پیر کو بلند شہر کے مہاو گاو¿ں میں گائے قتل کی اطلاع پر پولیس پہنچی تھی. پولیس پہنچی تو وہاں پر بھیڑ مشتعل تھی. پولیس نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن بھیڑ نے پولیس پر ہی حملہ کر دیا. حملے میں یوپی پولیس کے ایک انسپکٹر کی موت ہو گئی. وہیں ایک اور شہری کی بھی اس میں موت ہو گئی. پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے اور کارروائی شروع کر دی ہے. اس میں اب تک چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading