ناندیڑ کے بعد ایک شہر میں بلدیاتی انتخابات سے قبل کانگریس میں تنظیمی ہلچل، عہد یداروں کے استعفوں سے سیاسی حلقوں میں سوالات گردش کرنے لگے

تھانے (آفتاب شیخ)بلدیاتی انتخابات کے پیشِ نظر تھانے شہر میں کانگریس پارٹی کے اندر حالیہ دنوں میں تنظیمی سطح پر ایک غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پارٹی کے متعدد عہدیداران اور کارکنان نے مختلف وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کی بنیادی رکنیت اور اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں اس کے اثرات اور ممکنہ نتائج پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

کانگریس مہاراشٹر ریاستی او بی سی ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری گنیش ویتی اور کانگریس کے لیڈر دتا مانے نے اپنے چند اہم ساتھی عہدیداران کے ہمراہ کانگریس سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ استعفیٰ دینے والوں میں مہاراشٹر اسٹیٹ ٹیکنالوجی کے جئے نارائن گپتا، وارڈ نمبر 13 کے صدر راجیش کدم، راجستھان ڈویژن کے صدر مہیش کماوت، نائب صدر اجے گائیکواڑ، وارڈ نمبر 19 کے صدر اسمعیل، وارڈ نمبر 13 کے صدر یحییٰ اور نائب صدر راجیش کماوت کے نام شامل ہیں، جبکہ تھانے ضلع نشاد سماج کے صدر رام پرکاش نشاد اور مختلف وارڈوں کے متعدد کارکنان نے بھی پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان عہدیداران کی جانب سے اپنے استعفے کانگریس صدر ایڈووکیٹ وکرانت چوان کو سونپے جانے کی اطلاع ہے۔ اگرچہ پارٹی کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بلدیاتی انتخابات سے قبل اس طرح کی پیش رفت نے کانگریس کی تنظیمی تیاریوں، داخلی رابطہ کاری اور کارکنان کے اعتماد سے متعلق سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ عرصے میں کانگریس سے وابستہ چند نوجوان اور سینئر چہرے دیگر جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ ممبرا سے یوتھ کانگریس کی پردیش سیکرٹری آفرین شیخ کی راشٹروادی کانگریس میں شمولیت اور ان کی جانب سے انتخابی بی فارم سے متعلق الزامات ہوں یا پھر یوتھ کانگریس تھانے شہر کے صدر ایڈووکیٹ آشیش گیری کی این سی پی میں شمولیت اور انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ، ان تمام واقعات نے پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط اور انتخابی حکمتِ عملی پر توجہ مرکوز کروا دی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، ان استعفوں کو محض اختلافِ رائے یا انتخابی حکمتِ عملی کی تبدیلی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، تاہم مسلسل ہو رہی علیحدگیوں کے باعث یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا پارٹی مقامی سطح پر اپنے عہدیداران اور کارکنان کے مسائل کو مؤثر انداز میں سننے اور حل کرنے میں کامیاب ہو پا رہی ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں کانگریس کی جانب سے تنظیمی سطح پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں، اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading