ناندیڑ۔20؍ جنوری( حیدر علی):ناندیڑ کے مدکھیڑ پولس اسٹیشن میں گذشتہ دنوں ایک دلسوز واقعہ پیش آیا تھا۔ 6 سالہ بچی کو وحشیانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر کے اس کی لاش گھر سے 17 کلومیٹر دور پھینک دی گئی۔ قاتل کو پوکسو کورٹ کے اسپیشل جج سی وی مراٹھے نے 12 دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ شری کرشنا کوکاٹے، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابیناش کمار، ڈاکٹر ایڈیشنل ایس پی کھنڈے رائے دھرنے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سشیل کمار نائک، لوکل کرائم برانچ کے پولس انسپکٹر ادے کھنڈرائےنے ایک پریس کانفرنس میں یہ معلومات دی۔14 جنوری کو مدکھیڑ تعلقہ سے ایک 6 سالہ بچی لاپتہ ہوگئی۔ اس کی لاش 15 جنوری کو اس کے گھر سے 17 کلومیٹر دور ملی تھی۔ لڑکی کو وحشیانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس معاملہ میں مدکھیڑ پولیس اسٹیشن میں لڑکی کے والد کی شکایت پر تعزیرات ہند کی دفعہ363,302,366(A),376(A)(B),201 کے علاوہ بچوں کے جنسی استحصال تحفظ ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمہ کی تفتیش ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سشیل کمار نائک کو سونپی گئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے دو افراد کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سشیل کمار نائک، اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولس چندرکانت پوار کے ساتھ کئی پولس افسران اور پولس اہلکاروں نے ایک ملزم دھونڈیبا فولاجی پانچاڑ(23) کو عدالت میں پیش کیا ۔
ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ رنجیت دیشمکھ نے اس معاملے میں پولس تحویل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بہت سے حقائق کو ظاہر کرنے کے لئے پولس کسٹڈی کی اشد ضرورت ہے۔دلائل سننے کے بعد جج سی وی مراٹھے نے6سا لہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور اس کا قتل کرنے والے قاتل دشرتھ عرف دھونڈیبا فولاجی پانچاڑ (23) کو 12 دن یعنی 31 جنوری تک پولس حراست میں بھیج دیا ہے ۔