گذشتہ پانچ برس سے بھی کم عرصے میں ہونے والے تیسرے برطانوی عام انتخابات میں موجودہ وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی کو حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت مل گئی ہے۔ برطانیہ میں حکومت سازی کے لیے 326 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور عام انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ٹوری پارٹی نے کم از کم 355 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جو کہ گذشتہ الیکشن میں جماعت کی حاصل کردہ نشستوں میں 46 کا اضافہ ہے۔
اپنی جماعت کی جیت پر وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ان نتائج سے انھیں ’بریگزٹ کے لیے مینڈیٹ مل گیا ہے۔‘ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ماہ تک برطانیہ کو یورپی یونین سے نکال لیں گے۔
حزب اختلاف کی مرکزی جماعت لیبر پارٹی کی کارکردگی اس الیکشن میں مایوس کن رہی ہے اور وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنی بدترین کارکردگی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ لیبر پارٹی کو اب تک 202 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ گذشتہ الیکشن میں اس جماعت نے 263 نشستیں جیتی تھیں۔ لیبر کو شمالی انگلستان، مڈلینڈز اور ویلز کے ان علاقوں میں شکست ہوئی ہے جہاں 2016 میں بریگزٹ منصوبے کی واضح حمایت سامنے آئی تھی۔
ایک بیان میں لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے کہا ہے کہ ’یہ رات لیبر پارٹی کے لیے مایوس کن رہی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اپنی جماعت کا ساتھ دیں گے لیکن اگلے انتخابات میں لیبر پارٹی کی سربراہی نہیں کریں گے۔
The Conservatives have secured a majority in the House of Commons after winning their 326th seat: UK media #UKElections2019 https://t.co/sgX4sEt7DL
— ANI (@ANI) December 13, 2019
ان عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کو اپنی الیکشن مہم کا مرکز و محور قرار دیا تھا۔ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی سنہ 2019 کے عام انتخابات میں ایک اور موقع دیا گیا تو وہ 31 جنوری 2020 تک برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکال لیں گے۔جبکہ ان کے سیاسی حریف اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت نے حکومت بنائی تو وہ بریگزٹ کے معاملے پر ایک اور عوامی ریفرنڈم منعقد کریں گے۔
قبل از وقت انتخابات کیوں؟
ویسے تو برطانیہ میں عام انتخابات کا انعقاد سنہ 2022 میں ہونا تھا تاہم برطانیہ کی پارلیمان نے بریگزٹ کے معاملے سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت انتخابات پر اتفاقِ رائے کرتے ہوئے پارلیمان تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سنہ 1974 کے بعد یہ پہلے ایسے انتخابات ہیں جن کا انعقاد موسمِ سرما میں کیا گیا ہے جبکہ آخری مرتبہ دسمبر کے مہینے میں عام انتخابات کا انعقاد سنہ 1923 میں ہوا تھا۔
(بشکریہ ، بی بی سی اردو)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
