
روز بروز بگڑتی ہوئی سماجی صحت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کتنی ہی خرافات ، برائیاں اور بداخلاقیاں ہیں جو پوری طرح معاشرے کے رگ رگ میں رچتی بستی جارہی ہیں جس سے معاشرتی زندگی متاثر ہورہی ہے۔
انہی میں ایک عام برائی ‘بدگمانی’ ہے۔
"بدگمانی” وہ گناہِ کبیرہ ہے جو تعلقات کو خراب کرتا ہے کسی کے لئے دل میں برے خیالات آنا اور اس پر یقین کر لینا ہمارے لئے عام ہوگیا ہیں بغیر کسی معقول وجہ کے کسی کے لئے بھی غلط گمان رکھنا اور پھر اس گمان کو صحیح ثابت کرنے کی جستجو میں لگے رہنا ہمارے لئے ایک عام بات ھوگئی ہے ۔ ۔
مثال کے طور پہ کوئی بات کررہا ہے اور ہمارے دل میں خیال آئے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے تو ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ واقعی یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ بدگمانی حرام ہوتی ہے جب سامنے والے کے اندر کوئی ایسی نشانی نہ ہو جو بدگمانی کو جائز کردے جیسے ایک شخص ہے جو نیک ہے صالح ہے جھوٹ نہیں بولتا ظاہری طور پر ایسی کوئی نشانی نہیں کہ اس سے بدگمان ہوا جائے تو یہ بدگمانی حرام ہوگی۔
دورانِ گفتگو فون بند ہو جائے تو گمان ہونے لگتا ہے کہ فون قصداً بند کیا گیا ہے۔ مذاقََا کوئی بات کہہ دی اور گمان ہو نے لگتا ہے کہ بات بطور طنز کہی گئی تھی یا کسی کے کہنے پر سنائی گئی۔ کسی سے اپنے بارے میں رائے سنی تو سمجھا کہ اسے فلاں نے اکسایا ہوگا یا فلاں نے چغل خوری کی ہوگی یا فلاں نے شکایت کی ہے۔ روزمرہ ایسے ہی بےشمار گمان ہیں جو ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے میں دوری کا سبب بنتے ہیں بلکہ ہماری سکون کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
ہر وہ خبر جس کے متعلق کوئی صحیح علامت اور گواہی موجود نہ ہو اس کے بارے میں بدگمان نہیں ہونا چاہئے۔ "بدگمانی” انسان میں موجود دیگر اخلاقی خوبیوں کو بھی ضائع کر دیتی ہے اس کی وجہ سے آپسی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں اور بعض دفعہ بہت سے مسائل کی وجہ یہی "بدگمانی ” ہوتی ہے اسی وجہ سے شریعت مطہرہ نے مسلمان کو ایک دوسرے سے حسن ظن رکھنے کی سخت تاکید کی ہے۔ بغیر کسی وجہ کے دوسروں کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے سے پرہیز کریں اور نہ کسی کو بدگمان ہونے کا موقع دیں۔
ایسی بات یا خبر جس کے مثبت اور منفی پہلو نکل سکتے ہوں تو مسلمان کو حکم ہے کہ آپس میں حسنِ ظن سے کام لے۔