بدلاپور جنسی زیادتی معاملہ : پولیس کی حراست میں ملزم کی موت پر بمبئی ہائی کورٹ کا پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کا حکم
تھانے (آفتاب شیخ)
بمبئی ہائی کورٹ نے بدلاپور جنسی زیادتی معاملہ کے ملزم اکشے شندے کی پولیس حراست میں مبینہ طور پر ہوئی موت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں اور پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم مجسٹریٹ کی تحقیقات کی رپورٹ کے بعد آیا ہے، جس میں پولیس کی کارروائی کو غیر ضروری اور غلط قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ پانچ پولیس اہلکار، جن میں سینئر پولیس انسپکٹر سنجے شندے (تھانے کرائم برانچ)، اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر نیلیش مورے، ہیڈ کانسٹیبل ابھیجیت مورے اور ہریش تاوے، اور ایک پولیس ڈرائیور شامل ہیں، ملزم کی موت کے ذمہ دار ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ پولیس نے طاقت کا استعمال بلا جواز کیا اور ملزم کی حالت کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کو اس صورتحال کو قابو پانے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں تھا۔ مزید برآں، فارنسک رپورٹ کے مطابق ملزم کے ہاتھوں پر اس پستول کے کوئی نشان نہیں پائے گئے جس کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اس سے فائرنگ کر رہا تھا۔
پولیس کا دعویٰ تھا کہ 23 ستمبر 2024 کو اکشے شندے نے ہتھکڑی سے ایک ہاتھ آزاد کر کے پولیس کی سروس پستول چھین لیا اور تین گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا، اور پھر پولیس نے اپنی حفاظت کے لیے فائرنگ کی جس سے اکشے شندے کی موت ہو گئی۔ تاہم، ہائی کورٹ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے "اینکاؤنٹر" نہیں مانا اور کہا کہ یہ واقعہ ٹالا جا سکتا تھا۔
ہائی کورٹ نے اس کیس کی تحقیقات ریاستی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) کو سونپنے کا حکم دیا اور ریاستی حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کون کرے گا۔ عدالت نے اسکولوں میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا اور ریاستی حکومت کو بچوں کی حفاظت کے لیے قائم کردہ ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ 31 جنوری تک پیش کرنے کا حکم دیا۔
اس کیس کی اگلی سماعت 5 فروری کو ہو گی۔ یہ واقعہ نہ صرف پولیس کی جوابدہی پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ حراست میں موت کے معاملات میں شفافیت اور انصاف کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کا یہ حکم اس سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جو قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔