بجٹ میں صرف بڑے اعداد و شمار اور کھوکھلے اعلانات، ریاست کو دی والیہ پن کی طرف دھکیلا جا رہا ہے: ہرش وردھن سپکال

بجٹ میں صرف بڑے اعداد و شمار اور کھوکھلے اعلانات، ریاست کو دیوالیہ پن کی طرف دھکیلا جا رہا ہے: ہرش وردھن سپکال

تیسری اور چوتھی ممبئی، شکتی پیٹھ ہائی وے جیسے منصوبے اڈانی اور امبانی کے فائدے کے لیے، عام آدمی کے لیے بجٹ میں کوئی جگہ نہیں

’وکست مہاراشٹر 2047‘ کے خواب دکھا کر لاڈکی بہنوں کو ایک بار پھر دھوکہ دیا گیا

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ریاستی بجٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں صرف بڑے بڑے اعداد و شمار اور کھوکھلے وعدے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ بجٹ ریاست کو مالی بحران اور دیوالیہ پن کی طرف لے جانے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست پر قرضوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے اور تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کے خسارے والا یہ بجٹ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔

ہرش وردھن سپکال نے بجٹ پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں بلیٹ ٹرین، میٹرو اور زیرِ زمین راستوں جیسے بڑے منصوبوں کا زیادہ ذکر ہے، لیکن دیہی علاقوں کے غریب افراد، آدیواسی طبقات، محنت کش عوام، خواتین، بے روزگار نوجوانوں اور عام شہریوں کے مسائل کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر یہ بجٹ چند بڑے شہروں اور محدود طبقے کے مفادات تک محدود دکھائی دیتا ہے جبکہ عام لوگوں کے لیے اس میں کوئی حقیقی ریلیف نظر نہیں آتا۔

سپکال نے کہا کہ ’وکست مہاراشٹر 2047‘ اور ایک ٹریلین ڈالر معیشت کا خواب دراصل ایک غیر حقیقت پسندانہ تصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے بی جے پی کی قیادت والی حکومت ہر سال بجٹ میں بڑے اعلانات کرتی ہے، لیکن بعد میں ہر اجلاس میں اربوں روپے کی ضمنی مانگیں پیش کی جاتی ہیں، جس سے حکومت کی مالی منصوبہ بندی پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی جائزہ رپورٹ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ریاست کی مالی حالت کمزور ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ریاست پر قرض اور قرض کی ضمانتوں سمیت مجموعی بوجھ تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے اور ہر سال صرف قرض کی ادائیگی کے لیے تقریباً 65 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

سپکال نے کہا کہ پچھلے بجٹ میں درج فہرست ذاتوں کے لیے 22 ہزار 658 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی، لیکن عملی طور پر صرف 6 ہزار 200 کروڑ روپے ہی خرچ کیے گئے۔ پسماندہ طبقات، اقلیتی برادریوں اور آدیواسی عوام کے لیے بھی بجٹ میں بڑے اعلانات کیے جاتے ہیں لیکن عملی سطح پر ان پر خرچ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری کا ہے، لیکن بجٹ میں صرف 75 ہزار نوکریاں دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ بی جے پی حکومت کی گزشتہ ’’میگا بھرتی‘‘ مہمات کو دیکھتے ہوئے یہ اعلان بھی محض ایک وعدہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لاڈکی بہن اسکیم کو جاری رکھنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن 2100 روپے کی امداد کا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا، جس سے واضح ہے کہ خواتین کو ایک بار پھر دھوکہ دیا جا رہا ہے۔

سپکال نے کہا کہ حکومت نے قرض معافی کا اعلان ضرور کیا ہے، لیکن پچھلی قرض معافی اسکیم میں لاکھوں کسان آج بھی فائدے سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسانوں کی آمدنی بڑھنے کے بجائے کم ہونے کا خدشہ زیادہ ہے، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کے بعد کسانوں کی پیداوار کی مناسب قیمت ملنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کی خودکشیوں کو روکنے کے لیے بجٹ میں کیے گئے اعلانات ناکافی ہیں۔

سپکال کے مطابق ریاست میں آبپاشی کے رقبے میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اچھی بارش کے باوجود آبپاشی کا رقبہ 56 لاکھ ہیکٹر سے کم ہو کر 39 لاکھ ہیکٹر رہ گیا ہے اور قابلِ کاشت زمین میں بھی کمی آئی ہے، جو حکومت کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تیسری ممبئی، چوتھی ممبئی، شکتی پیٹھ ہائی وے اور وادھون بندرگاہ جیسے منصوبے دراصل بڑے صنعتی گھرانوں جیسے اڈانی اور امبانی کے مفادات کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جا رہے ہیں اور عام عوام کو ان سے کوئی براہِ راست فائدہ نہیں ہوگا۔

سپکال نے ریاستی حکومت کی شمسی توانائی پالیسی کو بھی غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بجلی صارفین کو راحت ملنے کے بجائے فی یونٹ تقریباً 26 پیسے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ میٹر کی وجہ سے پہلے ہی بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ 2022 سے 2025 کے دوران داووس میں 50 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ہیں، لیکن اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق حقیقت میں ریاست میں صرف 6 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہی آئی ہے۔

MPCC Urdu News 06 March 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading