بابری مسجد کی بازیابی

✒️سیّد عمران

ملک کے مساجد کو بچانا ہے اور مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو بابری مسجد کی بازیابی کی جہدوجہد جاری رکھنی ہوگی


6 دسمبر کی تاریخ پھر سے آرہی ہے اور ظلم و جبر کی طاقت کے بل پر اللہ کے گھر کو شہید کرنے کا و منظر پھر سے ہماری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ یہ دن ہمارے لیے تجدید عہد کا دن ہے۔ ہم نا امید نہیں کیوکے ہم جانتے ہیں کے ظلم و جبر کے یہ رات چاہے کتنی ہی تاریک اندھیرے والی ہو مگر یقیناً صبح نو روشن ہونے والی ہے، اور اللہ کے گھر کی اس جگہ اللہُ اکبر کے صدائیں دوبارہ گونجیں گی ان شاء اللہ۔

یہ ظالم سمجھتے ہیں کے ہم نے بابری مسجد کی جگہ آستھا کی بنیاد پر بت خانہ بنا دیا اور مسلمانوں کو وہاں آنے سے روک دیا تو سب کچھ ختم ہوجائےگا۔ اور دوبارہ وہاں اللہ کا نام نہیں لیا جائے گا، اور مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے ۔جس کے بعد ملک کے دوسرے مساجد پر بھی قبضہ جمانا آسان ہو جائے گا ۔مگر ان ظالموں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کے اللہ کے اس گھر کی جگہ چاہے بت خانہ بن جائے اور چاہے وہاں بتوں کی پوجا ہونے لگے اور یہ وقفہ چاہے جتنا لمبا ہوجائے 1 صدی یا 2 صدی مسجد کی جگہ کی شرعی حیثیت کو نہیں بدل سکتا۔ جب ایک جگہ کوئی مسجد بن جائے تو وہ جگہ فرش تا عرش مسجد ہی رہےگی۔ نا اسے ہبہ کیا جاسکتا ہے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی اور مقصد کے لیے اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہوش مندوں آج بھارت کے مسلمانوں نے بابری مسجد کے بازیابی کی مہم کو ڈھیلا چھوڑا نتیجہ انکے سامنے ہے، ملک کے مختلف تاریخی مساجد پر سروے کے نام پر میلی نظر ڈالی جا رہی ہے۔اور پھر سے وہیں جھوٹا کھیل جو بابری مسجد کے ساتھ کھیلا گیا تھا کے مُسلم حکمرانوں نے مندروں کو توڑ کر مساجد بنائی! یہاں پہلے مندر تھا! پھر مسجد کا سروے! پھر نماز بند اور پوجا کی اجازت اور آخر میں تمام دعوے جھوٹے ہونے کے باوجود جھوٹے دعوے دار کو یہ عدلیہ آستھا کی بنیاد پر سب کچھ دے دیگا۔ اور مسلمان معصوم بچے کی طرح عدلیہ کا دامن پکڑ کر بیٹھا رہیگا اور مُسلم جماعتیں کہیں گی ہمیں امن برقرار رکھنا ہے فیصلہ جو بھی آئیں قبول کرنا ہے!!!!

یہ بات تو دوسرا فریق نہیں کہتا جب کے انکا جھوٹ تو عدالت میں بھی ثابت ہوچکا!!!! کورٹ نے 09 نومبر 2019 کے فیصلے میں قبول کیا کے وہاں کوئی مندر نہیں تھا، مسمانوں نے مندر توڑ کر مسجدِ نہیں بنائی، 06 دسمبر کو مسجد کو توڑنا جرم تھا، پھر بھی فیصلے استھا کی بنیاد پر ہونگے؟ بھارت کے مسلمانوں کو یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مساجد کو بت خانے بنانے کی مہم کو اگر روکنا ہے تو *بابری مسجد کی بازیابی* کی مانگ اور جدوجہد کو زندہ رکھنا ہوگا۔ ورنہ نا صرف مساجد کو بت کدوں میں تبدیل کرنے کے لیے بے پرستوں کے حوصلے بلند ہوں گے ۔بلکہ مسلمانوں کے مستقبل کے تحفظ اور بقا کی بھی کوئی ضمانت نہیں گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading