بابری مسجد پر فیصلہ کو کو ہار جیت کے نظریہ سے نہ دیکھا جائے: یوگی آدتیہ ناتھ
سنیچر کو صبح 10.30 بجے سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ میں فیصلہ سنائے جانے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا جوبھی فیصلہ ہوگا وہ کسی کی ہار یا جیت نہیں ہوگا۔
اپنے ٹوٹ میں وزیر اعظم مودی نے کہا، ایودھیا پر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا وہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہوگا۔ ملک کے باشندگان سے میری اپیل ہے کہ ہم سب کی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ یہ فیصلہ ہندوستان کی امن، اتحاد اور خیر سگالی کی عظیم روایت کو مزید تقویت بخشے۔‘‘
अयोध्या पर सुप्रीम कोर्ट का जो भी फैसला आएगा, वो किसी की हार-जीत नहीं होगा। देशवासियों से मेरी अपील है कि हम सब की यह प्राथमिकता रहे कि ये फैसला भारत की शांति, एकता और सद्भावना की महान परंपरा को और बल दे।
— Narendra Modi (@narendramodi) November 8, 2019
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں تمام طبقات کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’’ایودھیا پر کل سپریم کورٹ کا فیصلہ آ رہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے اس معاملے کی سپریم کورٹ میں مستقل سماعت کی جارہی تھی، پورا ملک بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔ اس عرصے کے دوران سماج کے تمام طبقات کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے کی جانے والی کوششیں قابل تحسین ہیں۔‘‘
अयोध्या पर कल सुप्रीम कोर्ट का निर्णय आ रहा है। पिछले कुछ महीनों से सुप्रीम कोर्ट में निरंतर इस विषय पर सुनवाई हो रही थी, पूरा देश उत्सुकता से देख रहा था। इस दौरान समाज के सभी वर्गों की तरफ से सद्भावना का वातावरण बनाए रखने के लिए किए गए प्रयास बहुत सराहनीय हैं।
— Narendra Modi (@narendramodi) November 8, 2019
ادھر، اتر پردی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کہا ہے کہ ممکنہ فیصلہ کے بعد امن و امان برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’’عزت مآب عدالت عظمی کی جانب سے ایودھیا معاملہ کے سلسلے میں سنائے جانے والے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر ریاست کے باشندگان سے اپیل ہے کہ آنے والے فیصلے کو جیت یا ہار سے منسلک کرکے نہ دیکھیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ریاست میں پرامن اور پُرسکون ماحول کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘
मा. उच्चतम न्यायालय द्वारा अयोध्या प्रकरण के सम्बन्ध में दिए जाने वाले सम्भावित फैसले के दृष्टिगत प्रदेशवासियों से अपील है कि आने वाले फैसले को जीत-हार के साथ जोड़कर न देखा जाए।
यह हम सभी की जिम्मेदारी है कि प्रदेश में शांतिपूर्ण और सौहार्दपूर्ण वातावरण को हर हाल में बनाए रखें।
— Yogi Adityanath (@myogiadityanath) November 8, 2019
سپریم کورٹ کے فیصلہ کا سبھی احترام کریں گے، بابری مسجد معاملہ کے مدعی اقبال انصاری کا بیان
بابری مسجد معاملہ کے مدعی اقبال انصاری نے سنیچر کے روز سپریم کوٹ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ کا تمام متعلقین کو بھی قبول کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس موقع پر لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی بھی اپیل کی۔
Supreme Court to deliver verdict in the #Ayodhya land dispute case tomorrow. https://t.co/pC6Ri3ZhyU pic.twitter.com/H21ZG2MmSY
— ANI (@ANI) November 8, 2019
غور طلب ہے کہ مدت طویل سے زیر التوا ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ کی سماعت سپریم کورٹ کی جانب سے مکمل کئے جانے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا گیا ہے اور اب کل 9 نومبر کو 10.30 بجے اس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
بابری مسجد فیصلہ: یوپی کے تمام اسکول اور کالج بند رکھنے کا اعلان
ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ پر سنیچر کی صبح 10.30 بجے فیصلہ سنائے جانے سے قبل اترپردیش کی یوگی حکومت نے ایک احتیاطی اقدام لیتے ہوئے ریاست بھر کے اسکول، کالج، تعلیمی اور تربیتی مراکز بند رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یوپی میں 9 سے 11 نومبر تک تمام اسکولوں اور کالجوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
Uttar Pradesh: All schools, colleges, educational institutions and training centres to remain closed from 9th November to 11th November. pic.twitter.com/MVYuvF8IZJ
— ANI (@ANI) November 8, 2019
اتر پردیش کی ہی طرح مدھیہ پردیش میں بھی تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریاست میں شراب کی بھی تمام دکانیں بند رکھی جائیں گی۔
Collector and District Magistrate of Bhopal on #Ayodhya verdict: Section 144 (gathering of more than 4 people banned) has been imposed in the district. All private & government schools, colleges to remain closed tomorrow. #MadhyaPradesh
— ANI (@ANI) November 8, 2019
یوپی میں ایک ماہ سے حفاظتی تیاریاں: یوپی ڈی جی پی
اترپردیش کے ڈی جی پی او پی سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ایک ماہ سے سیکیورٹی کے انتظامات چاک و چوبند کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے نگرانی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔
نوٹ بندی کے بعد بے روزگاری 45 سال کی سب سے اونچی سطح پر: کانگریس
نوٹ بندی کے تین سال مکمل ہونے پر کانگریس پارٹی نے مودی حکومت کے اس فیصلے کی زبردست تنقید کی ہے۔ اس موقع پر دہلی کے کانگریس ہیڈکوارٹر میں کانگریس لیڈر اجے ماکن نے پریس سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’تین سال پہلے مودی جی نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ہمارے لفظوں میں آج اس کی تیسری برسی ہے۔ ملک بھر میں مظاہرہ کر کے ہم اس پر احتجاج ظاہر کر رہے ہیں۔‘‘
اجے ماکن نے مزید کہا کہ ’’نوٹ بندی کے بعد بے روزگاری 45 سال کی سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایس اے ٹی پی کے مطابق 18-2015 کے درمیان دہشت گردانہ واقعات میں مرنے والوں کی تعداد میں 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ واقعات میں بھی 166 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘
LIVE: Congress Party Briefing by @ajaymaken, Senior Spokesperson, AICC https://t.co/koBvhNzQDZ
— Congress Live (@INCIndiaLive) November 8, 2019
اتر پردیش: پولس کے اعلیٰ افسران کی سبھی چھٹیاں رد، سبھی اضلاع میں غیر مستقل جیل کی ہوگی تعمیر
ایودھیا اراضی تنازعہ معاملہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ 13 نومبر سے 15 نومبر تک آنے کا امکان ہے اور اس کے پیش نظر اتر پردیش پولس کے سبھی افسروں کی چھٹیاں رد کر دی گئی ہیں۔ ریاست میں حفاظت کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سبھی اضلاع میں غیر مستقل جیل کی تعمیر کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولس کے سبھی اعلیٰ افسروں کی ہر طرح کی چھٹیاں 15 دسمبر تک کے لیے رد کر دی گئی ہیں۔
Lucknow: CM Yogi Adityanath held a meeting over the law and order situation in the state, today. UP DGP, State Chief Secretary, State Home Secretary and other senior officials were present in the meeting. CM also held meeting with all district officials, via video conferencing. pic.twitter.com/mXWAKGsIE6
— ANI UP (@ANINewsUP) November 7, 2019
جھارکھنڈ اسمبلی انتخاب میں ہندوستانی عوام مورچہ کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی: جیتن مانجھی
بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخاب لڑنے جا رہی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ جھارکھنڈ میں مہاگٹھ بندھن کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے اور بہار میں بھی وہ تنہا انتخاب لڑنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ جیتن مانجھی نے کہا کہ میں نے بہار میں مہاگٹھ بندھن پر بھروسہ کیا لیکن اس نے ہمیں نظر انداز کیا اس لیے 2020 میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں ہم تنہا لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
Jitan Ram Manjhi, Hindustani Awam Morcha (HAM) chief: We will contest Jharkhand Assembly elections independently without any alliance. I believe in Mahagatbandhan (in Bihar) we were ignored so we have decided to contest 2020 Bihar Assembly elections also independently. pic.twitter.com/DSg5FqdEGS
— ANI (@ANI) November 8, 2019
دہلی: نوٹ بندی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے یوتھ کانگریس کارکنان کو پولس نے حراست میں لیا
یوتھ کانگریس کارکنان آج نوٹ بندی کی تیسری سالگرہ پر مودی حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ کانگریس کارکنان نے ریزرو بینک آف انڈیا کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا جنھیں پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔ یوتھ کانگریس کارکنان مودی حکومت مخالف اور آر بی آئی مخالف نعرے بھی لگا رہے تھے۔
#WATCH: Youth Congress workers who were protesting near Reserve Bank of India (RBI) office on the third anniversary of #Demonetisation have been detained by Police. #Delhi pic.twitter.com/aH9504gd1C
— ANI (@ANI) November 8, 2019
تمل ناڈو: عبدالرزاق نے بورویل میں گرے بچوں کی جان بچانے کے لیے بنائی لاجواب مشین
تمل ناڈو کے ترچی میں گزشتہ دنوں بورویل میں گرنے سے ہوئی ایک بچی کی موت کے بعد مدورائی کے رہنے والے عبدالرزاق نے ایک ایسی مشین کا ایجاد کیا ہے جو اس وقت سرخیوں میں ہے۔ عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ یہ مشین بورویل میں گرے بچوں کی زندگی بچانے میں کافی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ مشین امبریلا تکنیک کی طرز پر بنائی گئی ہے جو بورویل میں گرے بچے کو گرفت میں لے کر اوپر کی طرف کھینچنے میں مدد کرے گی۔
Tamil Nadu: Abdul Razzaq, from Madurai has invented a machine that can be used to rescue children falling into borewell, says,"After the recent borewell incident in Trichy, I decided to invent this machine. In it umbrella technique is used to lift the child from borewell." pic.twitter.com/Tcc0x58oI4
— ANI (@ANI) November 8, 2019
ایودھیا معاملہ پر فیصلہ سے قبل اتر پردیش کے چیف سکریٹری چیف جسٹس رنجن گگوئی سے ملنے سپریم کورٹ پہنچے
ایودھیا معاملہ پر سپریم کورٹ کی پانچ کرنی بنچ کا فیصلہ آنے سے قبل سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اتر پردیش کے چیف سکریٹری راجندر کمار تیواری اپنے کئی سینئر افسران کے ساتھ چیف جسٹس رنجن گگوئی سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رنجن گگوئی ان اہم اور سینئر افسران کے ساتھ ایودھیا کے صورت حال پر گفت و شنید کرنے والے ہیں۔
Correction: Uttar Pradesh Chief Secretary Rajendra Kumar Tiwari* reaches Supreme Court along with other senior officials. They will meet Chief Justice of India, Ranjan Gogoi today ahead of Ayodhya verdict. https://t.co/K6ecX3ztIh pic.twitter.com/ZwcYdhfzQ6
— ANI (@ANI) November 8, 2019
دہلی: DTC بس میں مسلم طالب علم پر جیب کتروں نے کیا حملہ، زخمی حالت میں ایمس میں داخل
ڈی ٹی سی کی کلسٹر بس میں گزشتہ روز دوپہر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بی ایڈ کے طالب پر جیب کتروں کے ذریعہ سرجیکل بلیڈ سے حملہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس حادثہ میں طالب علم کو بچانے کی کوشش کرنے والا اس کا دوست بھی زخمی ہو گیا۔ متاثرین کا الزام ہے کہ واقعہ کے دوران ڈرائیور نے بس نہیں روکی۔ کنڈکٹر بھی ان کی مدد کرنے کے لیے آگے نہیں آیا۔ پولس نے شکایت ملنے کے بعد معاملہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔
ایودھیا مقدمہ: چیف جسٹس رنجن گگوئی آج یو پی کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے کریں گے ملاقات
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی ایودھیا اراضی تنازعہ پر فیصلہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر کبھی بھی سنا سکتے ہیں اور اس کے پیش نظر وہ آج اتر پردیش کے چیف سکریٹری سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق چیف جسٹس گگوئی آج ہی ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس و دیگر سینئر پولس افسران سے بھی ملاقات کریں گے۔
Chief Justice of India to meet Uttar Pradesh Chief Secretary, Director General of Police & other senior police officials today over preparedness ahead of probable Ayodhya verdict.
— ANI (@ANI) November 8, 2019
نوٹ بندی کی تیسری سالگرہ پر موڈیز نے دیا ہندوستان میں طویل مدت تک معاشی بحران کا اشارہ
ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا ہے کہ دیہی علاقوں میں مالی بحران، ملازمت پیدا کرنے میں ناکامی اور غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں کے تنگ ہاتھ اشارے دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں معاشی بحران طویل مدت تک چلنے والا ہے۔
Moody's said prolonged financial stress among rural households, weak job creation and a credit crunch among NBFCs have increased the probability of a more entrenched slowdown.#India #Economyhttps://t.co/dvdoqu8uf8
— CNBC-TV18 News (@CNBCTV18News) November 8, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
