‘ندیم عبدالقدیر (فیچر ایڈیٹر، روزنامہ اردو ٹائمز ، ممبئی)
افلاطون کا کہنا تھا کہ گروہ بندی ، نفرت اور اقربا پروری اگر جمہوریت کی قیمت ہے تو یہ بڑی قیمت ہے، جو سماج کو جمہوریت کے فوائد سے محروم کردیتی ہے ۔جہاں تک ہندوستان کی جمہوریت کی بات کریں تو افلاطون اپنے خدشات میں بالکل صحیح تھا۔ ہندوستان میں مسلمان بھی اُسی محرومی سے دوچار ہیں،جس کا ڈریونانی فلسفی کو ستاتا تھا۔ اکثریت کی دل جوئی ، منہ بھرائی اور خوشامدویسے ہی انصاف کے دریچوں کو بند کردینے کےلئے کافی ہوتے ہیںہےلیکن جب اقلیت کو ہراساں کرنا ہی کسی سماج کا قو می دھارا بن جائے تو اس کی دلخراشی ناقابل گمان حد تک پہنچ جاتی ہے ۔ ہولناکی کاایسا ہی ایک منظر ہم نے ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء کو دیکھا تھا ۔
بابری مسجد کو شہید ہوئے ۲۶؍طویل برس گزر گئے، اور ان برسوں میں ہم نے بابری مسجد کے بعد بہت سی دیگر چیزوں کو بھی مسمار ہوتے محسوس کیا ہے ۔ گزرے ۲۶؍برسوں میں مسلمانوں کا عزم و حوصلہ بھی دھیرے دھیرے زمیں بوس ہوگیا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج اس بابری مسجد کی شہادت کو خود فرزندانِ توحید تقریباً فراموش کربیٹھے ہیں۔مسلمانانِ ہند کے ذہن کی لوح سے بابری مسجد کی شہادت کے نقوش ماند پڑگئے اور بابری مسجد کی بازیابی کی باتیں طاق نسیاں ہوگئیں۔ ہم کہاں سے شروع ہوئے تھے اور کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ان ۲۶؍برسوں میںوہ باتیں ، وہ نعرے، وہ ارادے ، وہ عزم ، وہ جذبہ ، وہ جوش اور وہ جنون جو ہمارا سرمایہ ہوا کرتا تھا ، غیر شعوری طور پر لُٹ چکا ہے ۔ سفرِ عشق میں ضعف کی راحت طلبی اسے ہی کہتےہیں۔
پہلے بابری مسجد کی شہادت کے مجرمین کو سزا دینے کی آوازیں ، مطالبات اور مانگیں اٹھتی تھیں ۔ اب یہ آوازیں بھی کہیں گھُٹ کر رہ گئی ہیں ۔ غیروں سے متاثر اور مرعوب ہونے کا عنصر جتنا مسلمانانِ ہند میں پایا جاتا ہے اتنا شاید ہی دنیا کی کسی اور قوم میں پایا جاتا ہو۔ مسلم لیڈر ان شاید اس لئے اب بابری مسجد کی بازیابی کی باتیں کرنا چھوڑ دئیے کہ ہمارے قومی دھارے کے میڈیا نے اس بات کو شجر ِ ممنوعہ سمجھ لیا ہے۔ مسلم لیڈران اپنے سود و زیاں کا حساب قومی دھارے کے میڈیا کے رخ سے طے کرتےہیں۔ یہ اتنے کمزور، ناتواں، نحیف، لاغر، رسوا اور ذلیل ہوچکےہیں ان میں قوم کے فائدے نقصان کے بارے میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہو گئی ہے۔قوم کی عزت نفس اور خود داری کے نکتے اٹھانے میں گویا مسلم لیڈران کی روح قبض ہونے لگتی ہے اور ان پر سکرات کا عالم طاری ہوجاتا ہے ۔
ایک لبرہن کمیشن ہوا کرتا تھا ،جس کا کام بابری مسجد کی شہادت کے مجرمین کا پتہ لگانا تھا ۔ اب کہیں دبی سی آواز میں بھی لبرہن کمیشن کا نام سنائی نہیں دیتا ہے ۔ ہمیں قومی دھارے کے میڈیا سے شکایت نہیں ہے ، اس کا تو کام ہی مسلم دشمنی کے آتش کدے کو ہوا دینا ہے ، تعجب تو ان مسلم لیڈروں پر ہے جو مسلم نمائندگی کا دم بھرتے نہیں تھکتے ، انہیں بھی لبرہن کمیشن یاد نہیں رہا ۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ ۲۰۰۹ء میں سونپ دی تھی ۔ اس نے بابری مسجد شہادت کیلئے ۶۸؍لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس میں لال کرشن اڈوانی ،کلیان سنگھ ،مرلی منوہر جوشی، اومابھارتی، اشوک سنگھل اور ونئے کٹیار جیسے بی جےپی کے بڑے لیڈران شامل تھے۔ یہ رپورٹ جب سونپی گئی اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور کانگریس نے اپنی مکارانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے،مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر قائم کئے گئے دیگرکمیشن کی سفارشات کی طرح اس کمیشن کی سفارشات بھی ردی کی ٹوکری کی نذر کردی۔ کسی ایک ملزم کے خلاف بھی معاملہ درج نہیں ہوا۔
بابری مسجد کو دن دہاڑے لاکھوں کی بھیڑ میں شہید کردیا گیا۔کیمرے اور ویڈیو کیمرے کے ساتھ سینکڑوں صحافی اس وقت وہاں موجود تھے۔ ، اس کے باوجود بھی آج تک عدالت کو یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ بابری مسجد کو کس نے شہید کیا تھا ۔ یہ ہمارے ملک کاطریقۂ انصاف ہے۔ آج اس بات پر قوت لگائی جارہی ہے کہ اس جگہ پر ہندو دیوتا رام کے مندر کی تعمیرکس طرح ممکن بنا ئی جائے ، اس کیلئے کیسے راستہ تلاش کیا جائے اور کس طرح مسلمانوں کو قائل کیا جائے۔ اسلام دشمن طاقتیں اس کام میں کافی حد تک کامیاب بھی ہیں، کیونکہ اب تو کچھ مسلم لیڈران بھی’مذکورہ ‘ جگہ ہندوؤں کو سونپ دینے کی بات کرنے لگے ہیں اور اس کےلئے قوم کو ’مصلحت‘ نامی وہ معجون کھلانے کی کوشش کررہے ہیں جو معجون مسلم قوم گزشتہ ۷۰؍سال سے کھا رہی ہے لیکن کوئی افاقہ ہونے کی بجائے مرض بڑھتا ہی جارہا ہے ۔
بابری مسجد کا معاملہ حالانکہ عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن چند مسلم لیڈران قوم کو تکفیری مشورہ دینےسےبھی باز نہیں آرہے ہیں۔ قوم کو ڈرانے دھمکانے میں مسلم دشمنوں سے زیادہ مسلم لیڈران سرگرم ہیں۔اتنے ڈرے ہوئے تو فلسطین کے بھی مسلمان نہیں ہیں جتنے کہ مسلم لیڈران خوفزدہ ہیں۔’ امن و امان‘ قائم رکھنے کے جس جواز کے سہارے شرک کا اڈہ تعمیر کرنے کیلئے مسلمانوں کو بہلایا پھسلایا جارہا ہے ، اُس ’امن‘ کی ہم سے زیادہ تو فلسطینیوں کو ضرورت ہے ۔ اگر امن قائم کرنے کےلئے بابری مسجدقربان کی جاسکتی ہے اور اس مقام کو غیر اللہ کی پرستش کی آماجگاہ بنا نے کا جواز تراشا جاسکتا ہے تو پھر یہ دلیل تو مسجد اقصیٰ پر بھی صادق آسکتی ہے۔ ہندوؤں کے جذبات کا خیال رکھنے کیلئے اگر بابری مسجد کی جگہ دی جاسکتی ہے تو پھر یہودی اس فضیلت سےکیوں محروم رہیں؟بلکہ یہودی تو مسلمانوں کی اس ’مصلحت پسندانہ دانشمندی‘ کے تین اعتبار سے زیادہ مستحق ہیں۔
پہلی یہ ،کہ اگر طاقت کے سامنے سربسجود ہونا ہی ’ مصلحت ‘ کی علامت ٹھہرا تو یہودی قوم ، ہندوؤں سےکہیں زیادہ طاقتور ہے۔ فلسطین میں بھی اور عالمی سطح پر بھی۔
دوسری ،تاریخ کے اعتبار سے بھی یہودی ،مسجدِ اقصیٰ پر (نعوذ باللہ) زیادہ حق رکھتے ہیں کیونکہ بابری مسجد کی جگہ پر کبھی کوئی مندر تھاہی نہیں جبکہ اس بات میں تو کوئی کلام نہیں ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی جگہ پر یہودیوں کا سب سے اہم عبادت گھر تھا ۔
تیسری اور سب سے اہم بات یہ مسجد اقصیٰ کو یہودی شرک کی آماجگاہ بہرحال نہیں بنائیں گے۔ یہودی قوم بدترین قسم کے گناہوں میں ملوث رہی ہے لیکن اس قوم نے شرک کو گلے نہیں لگایا ۔ہندوستان میں ’مذکورہ‘ مقام پر مندر بننے کی صورت میں مسلمانوں کے نامہ اعمال میں شرک کے سہولت کار بننے کے گناہ کا اندراج ہوسکتا ہے ۔ فلسطین میں مسلمانوں کے سر یہ گناہ بھی نہیں آئے گا ۔ ان تمام نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا وہ خودساختہ مسلم دانشوران ، مفکرین، مدبرین اور لیڈران جو بابری مسجد کو ’مصلحت‘ کے تحت ہندوؤں کے حوالے کرنے کاصور پھونکتے رہتےہیں ، مسجدِ اقصیٰ کو بھی یہودیوں کے حوالے کردینے سے اتفاق رکھتے ہیں؟ یا صرف افلاطون کے خدشات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔