بغیربچہ دانی کی ایک 32 سالہ برازیلین خاتون نے ایک بچی کوجنم دیا ہے۔ لینسیٹ میگزین میں منگل کو شائع اس خبرنے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کی وجہ ہے خاتون کے جسم میں ایک مردہ خاتون کی بچہ دانی کا ٹرانس پلانٹ کیا جانا۔پہلی بارکسی مردہ خاتون کی بچہ دانی دوسری خاتون کے جسم میں لگائی گئی۔ میڈیکل سائنس میں اسے تاریخی حادثہ کی طرح دیکھا جارہا ہے، جو پوری دنیا میں بچہ دانی کے بغیرجی رہی خواتین کے لئے خوش آئند اورتحفہ ثابت ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بچہ دانی یعنی بچہ دانی ٹرانس پلانٹ کے 11 کامیاب معاملے ہوئے ہیں، لیکن مردہ خاتون کے جسم سے بچہ دانی لینے سے لے کربچے کی پیدائش تک کی کامیابی پہلی بارہی ملی ہے۔ بچی اب سال بھرکی ہوچکی ہے اوربالکل صحتیاب ہیں۔میڈیکل جرنل لینسیٹ میں 4 دسمبرکوملی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹروں نے 45 سال کی ایک خاتون کی بچہ دانی نکالی۔ مردہ خاتون کے پہلے سے ہی تین بچے ہیں، جوکہ نارمل ڈلیوری سے ہوئے۔ تقریباً ساڑھے 10 گھنٹے چلے آپریشن میں احتیاط سے مردہ عورت کی بچہ دانی نکالی گئی اورپھرایک الگ سرجری میں 32 سال کی اس عورت کے اندرٹرانس پلانٹ کیا گیا۔ خاتون کی بچہ دانی نہیں تھی، لیکن آئی وی ایف کے ذریعہ بچہ لایا جاسکتا تھا، یہ اپنی طرح کا استعمال تھا، جس پرسرکاری پیسہ لگایا گیا۔سرجری ستمبر2016 میں ہوئی، جس کے مہینہ بھرکے اندرہی خاتون کوپہلی بارپیریڈس (ایام ماہواری) ہوا۔ بچہ دانی ٹرانس پلانٹ کرنے کے7 ماہ بعد خاتون کا آئی وی ایف علاج ہوا، جس میں فوراً ہی وہ حاملہ ہوگئی۔ حمل کے دوران مسلسل خاتون کودوسری دواوں کے ساتھ ساتھ امیونوسپریسیو دوائیں دی گئیں تاکہ خاتون کا جسم بچہ دانی کو "فارین پارٹیکل” مان کرردعمل ظاہرکریں۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں تقریباً 35 ہفتہ کے بعد ایک صحتیاب بچی کی پیدائش ہوئی۔ پیدائش کے فوراً بعد ہی بچہ دانی ہٹالی گئی کیونکہ خاتون کو مسلسل امیونوسپریسیو پررکھنا بہت مہنگا ثابت ہوتا اوریہ خاتون کی صحت کے لئے بھی اچھا نہیں تھا۔پوری دنیا میں بہت سی خواتین ایسی ہیں، جن کے بچہ دانی نہیں ہوتا ہے۔ ایسے میں ان کا ماں بننا ناممکن ہوتا ہے اورگود لینا یا پھرسروگیسی ہی متبادل رہ جاتا ہے۔ وہ بھی کئی طرح کے ضوابط کی وجہ سے اکثرممکن نہیں ہوپاتا۔ آج کل بچہ دانی میں گانٹھوں کی وجہ سے کم عمرمیں ہی بچہ دانی ہٹانے کی سرجری یعنی ہسٹیرکٹامی بھی عام ہوگئی ہے۔ کم عمرمیں ہی خواتین میں یہ سرجری ہونے پران کا ماں بننے کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ ٹرانس خواتین میں بھی خود کا بچہ جنم دینے کی خواہش رہتی ہے۔ان تمام حالات میں یہ سرجری امید دیتی ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ مردہ خواتین کی بچہ دانی سے بچے کا جنم ہوسکا، جو کہ میڈیکل تاریخ میں پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے زندہ رہنے والی عطیہ دہندہ (ڈونر) سے بچہ دانی لینے کے 11 معاملے ہوئے ہیں۔ مردہ عطیہ دہندہ سے بچہ دانی لینے کا ایک یہ فائدہ ہے کہ سرجری کے بعد عطیہ دہندہ کی صحت پرمزید پیسہ یا وقت نہیں لگانا ہوگا اورساری توجہ صرف نئی ماں اوربچے پردی جاسکے گی۔