نئی دہلی:ملک کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگو کا بحران آٹھویں روز بھی جاری ہے اور اس میں فی الحال کسی راحت کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں 4500 سے زائد پروازیں منسوخ ہونے سے مسافروں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ انڈیگو بحران کے حوالے سے متعدد دعوے کر رہی ہے لیکن صورتحال اب بھی معمول سے بہت دور نظر آرہی ہے۔
کئی مسافر اب بھی دہلی کے آئی جی آئی ہوائی اڈے پر گھنٹوں اپنی پروازوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ بحران پائلٹس کی فلائٹ ڈیوٹی اور ضوابط میں تبدیلی کے بعد شروع ہوا تھا۔ حیدرآباد کے شمش آباد ایر پورٹ سے آج بھی 38 پروازیں منسوخ کردی گئیں جس کی وجہ سے وہاں مسافر بہت پریشان نظر آئے
یہ بھی پڑھیں : ’انڈیگو بحران کے لیے ایئرلائن کے داخلی مسائل ذمہ دار‘، راجیہ سبھا میں شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو کا بیان
اس سے قبل پیرکو دہلی اور بنگلور ہوائی اڈوں سے 250 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اس دوران لکھنؤ ہوائی اڈے پر انڈیگو کی 26 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ تاہم، گزشتہ 4 دنوں سے پروازوں کی منسوخی کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔
دریں اثنا وزارت شہری ہوا بازی نے انڈیگو بحران کے سلسلے میں ایئرپورٹس پر صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے 10 اہلکاروں کو مختلف ہوائی اڈوں پر روانہ کیا ہے۔ یہ افسر آئندہ 2-3 دن وہیں رہیں گے اورمسافروں کی مدد کے لیے جو بھی اقدامات کئےگئے ہیں ان کی نگرانی کریں گے۔ اسی طرح چنئی ہوائی اڈے پر آج آمد منسوخی کی تعداد 42 تھی جب کہ روانگی منسوخی کی تعداد 39 رہی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد ایرپورٹ پر آج آمد منسوخی کی تعداد 14 رہی جب کہ روانگی منسوخی کی تعداد 44 تھی۔
ذرائع کے مطابق وزارت شہری ہوا بازی آج تمام ایئر لائن آپریٹرز کے ساتھ میٹنگ کرے گی۔ گزشتہ روز رام موہن نائیڈو نے وزارت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تھی۔ اس سلسلے میں آج بھی تمام ایئرلائن آپریٹروں کے اعلیٰ حکام کو جائزہ میٹنگ کے لیے بلایا گیا ہے۔
دریں اثنا، حکومت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ شہری ہوا بازی کے وزیرکے رام موہن نائیڈو نے کہا ہے کہ حکومت انڈیگو کے موسم سرما کی پرواز کے شیڈول کو کم کرے گی اور اس کے سلاٹ دوسرے آپریٹرز کو مختص کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انڈیگو کے روٹ میں کٹوتی کریں گے۔ وہ فی الحال 2,200 پروازیں چلارہے ہیں، ہم یقینی طور سے ان میں کٹوتی کریں گے۔