ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر سے مسلمانوں کی زندگی پُرسکون :صدر اقلیتی کمیشن

نئی دہلی ۔ 11نومبر ۔ قومی کمیشن برائے اقلیتوںغیور حسن رضوی نے آج کہا کہ ایودھیا میں رام مندر ضرور تعمیر کیا جانا چاہیئے تاکہ مسلمان پُرامن اور بااحترام زندگی گذار سکیں ۔ رضوی نے پُرزور انداز میں کہاکہ اس تنازعہ کی جلد از جلد یکسوئی ہونی چاہیئے ۔ تاکہ برادریوں کے درمیان تعلقات مستحکم ہوسکیں ۔ بعض مسلم تنظیمیں اس کمیٹی کی ایودھیا کے ملکیت مقدمہ میں دخل اندازی کی خواہاں ہیں ۔ 14 نومبر کو ان کے کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اس معاملہ کی یکسوئی ہوگی یا نہےں ۔ قومی اقلیتی فلاحی تنظیم اور دیگر چند تنظیمیں اپنی رپورٹیں روانہ کرچکی ہیں کہ ملک کی مسلم برادری خوف کے سایہ تلے زندگی گذار رہی ہے ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہاکہ کمیشن کو اس صورتحال کو بہتر بنانے کےلئے دخل اندازی کرنی چاہیئے اور موجودہ ماحول تبدیل کرنا چاہیئے ۔14نومبر کے اجلاس میں اس بات پر بحث منعقد کی جائے گی لیکن چونکہ یہ معاملہ عدالت میںزیر دوران ہے ۔ ہم صرف سپریم کورٹ کو عاجلانہ سماعت کی درخواست کرسکتے ہیں ۔ رضوی نے مزید کہا کہ تنظیمیں چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کو متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر میں مدد کرنی چاہیئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ ایسا کوئی تنازعہ دوبارہ اُٹھ کھڑا نہ ہوں ۔ اقلیتی کمیشن کے صدر نے یہ بھی واضح کردیا کہ ایودھیا میں نماز کی ادائیگی کےلئے مسجدوں کی تعمیر کا کوئی امکان نہےں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر ہونا چاہیئے اور 100کروڑ ہندو¶ں کے جذبات کا احترام ہوناچاہیئے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading